سری لنکا مےںا ےسڑ پر دہشت گردی
27 اپریل 2019 2019-04-27

سری لنکا مےں مسےحوں کے مذہبی تہوار اےسڑ پر دہشت گردی نے نہ صرف پوری دنےا کو پرےشان کردےا ہے بلکہ اےک دفعہ پھر مذہبی دہشت گردی کی نشاندہی کی ہے۔ےہ بات اب ساری دنےا کو معلوم ہے کہ سری لنکا مےں کولمبو اور دوسرے شہروں مےں مسےحوں کے مذہبی تہوار اےسڑ پر تےن گرجا گھروں اور چند ہوٹلوں پر خود کش حملے کئے گئے جن مےں تقرےباً تےن سو افراد مارے گئے اور پانچ سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہےں۔مرنے والوں مےں چند کا تعلق مغرب سے بھی ہے۔ سری لنکا اےک بہت بڑا جزےرہ ہے جس کی آبادی تقرےباً دو کروڑ ہے۔گو اکثرےت کا مذہب بدھ مت ہے مگر ےہاں پر ہندو، مسلمان اورمسےحوں کی اےک بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔ سری لنکاہ کا ذکر ہندووں کی دےومالا مےں مےں بھی ملتا ہے۔ سری لنکا مےں اسلام عرب کاروباری اور تاجروں کے ذرےعہ پھےلا(دانشور اس بات پر بحث کرتے ہےں کہ جہاں اسلام تاجروں کے ذرےعہ پھےلا اور جہاں حملہ آوروں کے ذرےعہ پھےلا وہاں کے مزاج، رہن سہن اور روےوں مےں کےا اور کےوں فرق ہے)۔ سری لنکا سے پہلا تعلق بچپن مےں رےڈےو سےلون ، کولمبو سے بنا کا گےت مالا سے ہوا۔دوسری جنگ عظےم مےں انگرےزوں نے ےہاں پر سب سے بڑا اور پاورفل رےڈےو سٹےشن فار اےسٹ سے رابطہ کے لئے بناےا تھا۔ جب مےں پہلی دفعہ سری لنکا گےا تو عام سڑکوں پرمورچوں اور فوجی سپاہےوں کی موجودگی نے مجھے حےران اور پرےشان کردےا۔اس زمانے مےں سری لنکا مےں خانہ جنگی جاری تھی۔ سری لنکا مےں ہماری طرح برطانےہ کی اےک کالونی تھا۔اس کو ہندوستان کے بعد آزادی نصےب ہوئی مگر ےہ عمل پر امن تھا۔آزادی کے بعد سری لنکا مےں جمہورےت قائم کی گئی ۔ خانہ جنگی اور بہت سارے مسائل کے باوجود وہاں فوج نے کبھی بھی اقتدار پر قبضہ نہےں کےا۔اس بات کے لئے وہاں کے سےاست دان اور فوج ےقےنناً مبارک باد کے مستحق ہےں۔ سری لنکا مےں تامل اور بدھ مت کے ماننے والے سنہالےوں مےں اختلاف بڑھتے گئے اور اےک زمانہ آےا کہ ےہ اےک مسلح خانہ جنگی مےں تبدےل ہو گئے۔تامل مسئلہ ےا آزادی کی جنگ کا تعلق ہندوستان سے بھی ہے کےونکہ بھارت مےں بھی تامل بہت بڑی تعداد مےں آباد ہےں۔اےک زمانے مےں تو ہندوستان مےں تامل کی آزادی کی تحرےک بہت زوروں پر تھی مگر بعد مےں بھارت سرکار نے تامل کے لوگوں کو maistreamمےں شامل کر لےا۔تامل ناڈو صوبہ بنا دےا۔

ہندوستا ن کے تامل بلکہ اےک زمانے مےں ہندوستا ن کی سرکار بھی سری لنکا مےں تامل باغےوں کی سرپرستی کرتی تھی۔

دلچسپ بات ےہ ہے کہ 1970مےں جب سری لنکا مےں عوامی بغاوت ہوئی تو گو ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بہت کشےدہ تھے اور بھارت مکتی باہنی کی کھل کر

حمائےت کر رہا تھا مگر سری لنکا مےں عوامی بغاوت کو کچلنے کے لئے بھارت اور پاکستان نے اپنے فوجی دستے بھےجے ۔جےسا کہ پہلے عرض کےا گےا ہے کہ اےک زمانے مےں بھارت سری لنکا مےں تامل باغےوں کی مدد کر رہا تھا بلکہ صحیح تر الفاظ میں ان کی دہشت گردی کو ہر طرح کی مدد فراہم کر رہا تھا اور ہندوستان مےس رہنے والے تامل بھی اپنے تامل بھائےوں کی مالی اور اخلاقی امداد کر رہے تھے مگر جب بھارت اپنے اندر تامل مسئلہ کو حل کرنے مےں کامےاب ہوگےا تو بھارت کا روےہ بدل گےااور وہ تامل باغےوں کے خلاف ہو گےا۔اےک زمانہ آےا کہ راجےو گاندھی نے سری لنکا مےں تامل بغاوت کو کچلنے کے لئے ہندوستانی فوج بھےج دی۔تامل باغےوں نے ان بھارتی فوجےوں کا بہت برا حشر کےا۔ ہندوستان مےں بھی سری لنکا مےں بھارتی فوجےوں کی موجودگی کی مخالفت مےں زبردست اضافہ ہوگےا دوسری طرف ان فوجےوں کو تامل باغےوں نے زبردست نقصان پہنچاےا لہذا بھارت کو اپنی فوجےں واپس بلانی پڑیں۔(راجےو گاندھی کو بھی تامل باغےوں نے قتل کےا)۔

ےہاں اس بات کا ذکر بھی بہت ضروری ہے کہ دنےا مےں دہشت گردی کے مختلف طرےقے سب سے پہلے تامل باغےوں LTTEنے متعارف کروائے۔ےعنی پرامن شہرےوں کے خلاف بم مارنا ےا کسی جگہ دھماکہ خےز مواد رکھنا، حتیٰ کہ اےک موٹر سائےکل کے ذرےعہ وہ سری لنکا کے صدر کو قتل کرنے مےں بھی کامےاب ہو گے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی ہوائی فوج بھی تےار کرلی اور انہوں نے کولمبو اےر پورٹ پر طےاروں کو تباہ کر دےا ۔اےک زمانے مےں انہوں نے سری لنکا کے وزےر خارجہ کو بھی ٹےلی سکوپ بندوق کے ذرےعہ اس کے گھر مےں مار دےا۔اس طوےل خانہ جنگی مےں آخر کار تامل باغےوں کو شکست ہوئی اور کہتے ہےں کہ پاکستانی فضاےہ نے لنکا کی حکومت کی مدد کی تھی۔چند ماہ پہلے سری لنکا مےں اےک بہت بڑا سےاسی بحران پےدا ہوگےا تھا جب صدر نے وزےر اعظم کوبرطرف کر کے اپنی مرضی کا وزےر اعظم لگا دےا مگر وہاں کی عدلےہ اور سےاست دانوں نے صدر کے اس غےر جمہوری قدم کو ناکام بنا دےا۔

اب دوبارہ حال ہی مےں سری لنکا مےں مسےحوں کی مذہبی تقرےب اےسڑ کے موقعہ پر دہشت گردی کر طرف آتے ہےں۔۔۔امرےکہ ےا مغرب نے کمیونسٹوں کے خلاف جب مذہبی ہتھےار استعمال کرنے کا فےصلہ کےا تو اس کے اثرات پوری دنےا مےں ہوئے۔۔۔مسلمانوں مےں بھی دوسرے مذاہب خاص کر عےسائیوں کے خلاف نفرت بڑھی۔مجھے ےاد ہے کہ فیصل آباد کی زرعی ےونےورسٹی مےں اےک سری لنکا کا لڑکا پڑھتا تھا جس کا باپ سری لنکا مےں وزےر تھا۔

جب مےں پہلی دفعہ سری لنکا گےا تو مجھے لگا تھا کہ سری لنکا اےک طرح کا ےورپ ہے مگر اس کو خانہ جنگی نے تباہ کردےا۔

سب سے پہلے اےشےا مےں سری لنکا مےں اےک عورت حکمران بنی۔ سری لنکا کی عورت مرد کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے۔

آپ کو سری لنکا کی ثقافت کی اےک مثال دےتا ہوں۔کےنڈی شہر کا نام تو کرکٹ کے چاہنے والوں نے سنا ہوگا۔مےں اور جسٹس بھجن داس تجوانی سری لنکا گئے تو کےنڈی مےں ہمارا اےک فادر واقف تھا اور پھر کولمبو اور کےنڈی مےں جنگل کے اندر سے انگرےزوں نے اےک رےل لائےن بچھائی جس پر سفر کرنا اےک بہت ہی دلچسپ تجربہ ہے اور مےں دوستوں کو اکثر کہتا ہوں کہ اس پر ضرور سفر کرےں۔

ہمےں جاتی بار ٹرےن کا ٹکٹ نہےں ملا تو ہم نے بس پر جانے کا فےصلہ کےا۔مےرے ساتھ اےک لڑکا بےٹھا تھا جس نے باتوں باتوں مےں بتاےا کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے پا پا کو اس کی ماما سے loveہوگےا تھا اور انہوں نے شادی کرلی۔

سری لنکا مےں حالےہ دہشت گردی کا الزام مسلمانوں کی توحےد جماعت پر لگاےا جا رہا ہے ےہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس دہشت گردی مےں سری لنکا کے اےک بہت ہی امےر شخص کے دو بےٹوں نے حصہ لےا ۔(اس جماعت کے لوگ پہلے بھی مہاتما بدھ کے مجسموں کی بے حرمتی کر چکے ہےں)۔ےہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بھارت کی خفےہ اےجنسی RAWنے ان حملوں کی پےشگی اطلاح سری لنکا سرکار کو دے دی تھی۔اب سری لنکا کی سرکار اپنی غفلت کا اعتراف کرتی ہے۔

سری لنکا مےں عےسائےوں کے مذہبی تہوار پر منظم دہشت گردی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مذہبی دہشت گردی کی جڑےں کہاں کہاں تک پھےلی ہوئی ہےں۔ جب تک ساری دنےا مل کر کسی بھی مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے جنگ نہےں کرے گی اس وقت تک اسے ختم کرنا ممکن نہےں لےکن بدقسمتی سے امرےکہ آج بھی اےک طرےقہ سے مذہبی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی حمائت کرتا ہے۔

اس ساری کتھا بےان کرنے کا مقصد ےہ ہے کہ مسلمانوں کا اےک چھوٹا سا گروہ اپنے اےک چھوٹے سے عمل کے ذرےعہ دنےا کو مسلمانوں کے خلاف ابھار سکتا ہے اور اس طرےقہ سے امن پسند مسلمان اکثرےت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔مگر حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سری لنکا ، تھائی لینڈ اور برما کی بودھ اکثریتوں نے اپنی اپنی مسلمان اقلیتوں پر جس طرح عرصہ¿ حیات تنگ کر رکھا ہے، بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے وہ بھی انتہائی قابل توجہ مسئلہ ہے۔ عمل کاردعمل اگرچہ مناسب نہیں مگر عالمی برادری کو مشترکہ طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا۔


ای پیپر