27 اپریل 2019 2019-04-27

دوستو، کسی زمانے میں کتابی چہرے کی بہت دھوم تھی، ہرشاعر اور ادیب کہیں نہ کہیں اپنے فن پارے میں لازمی کتابی چہرے کا تذکرہ کیا کرتا تھا، لیکن زمانہ جدید آگیا، دنیا جوکہ عالمی گاو¿ں یعنی گلوبل ولیج میں تبدیل ہوچکی ہے ،اس زمانے میں کتابی چہرے سے زیادہ ”فیس بک“ کے چرچے ہیں۔۔ فیس بک کا بانی مارک زنگر برگراس بات پر پریشان ہے کہ پاکستان میں خواتین کی آبادی تو بارہ کروڑ ہے لیکن فیس بک پر خواتین کے اکاو¿نٹس کی تعداد تیس کروڑ سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔۔ آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے،ہر بندہ ہاتھ میں اسمارٹ فون لئے جگ بھر کو اپنا دوست بنائے گھوم رہا ہوتا ہے۔فیس بک پر دشمن کو بھی ایڈ کر لو تو وہ فرینڈ بن جاتا ہے۔اس کے بعد اپنے کمنٹس کے ذریعے اس دشمن نما دوست سے دشمنی نبھاتے رہیں تاوقتیکہ وہ آپ کو ان فرینڈ نہ کر دے۔یہی حال خاندان والوں کا بھی ہوتا ہے،عقلمند لوگ کبھی بھی اپنے خاندان والوں کو ایڈ نہیں کرتے اور جو معصوم لوگ یہ غلطی کر بیٹھتے ہیں انہیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔

فیس بک کی دوستی کامیاب ہو جائے تو اسٹیٹس اپ ڈیٹ ۔۔شادی کا باعث بن جاتی ہے،اگر ناکام ہوجائے تو پھر ناکام عاشق اپنی محبوبہ کو ”پاس ورڈ “ بنالیتے ہیں، ہمارے پیارے دوست پچھلے دنوں بتارہے تھے کہ کل انہوں نے طارق روڈ پر اپنے پاس ورڈ کو دو بچوں سمیت دیکھا۔۔اسمارٹ فون اور اس میں موجود ”ایپس“ نے والدین کو اولاد سے، دوستوں کو دوست سے،اساتذہ کو طلباسے دور کردیا ہے۔۔ ایک کمرے میں بہت سارے جگری دوست بیٹھے ہیں۔۔مگر سب تنہا تنہا ،خاموش ہیں۔گھر میں ماں تنہا ،باپ تنہا۔۔بہن بھائی تنہا تنہا۔۔اپنے کمرے میں شوہر تنہا۔۔چہیتی بیوی تنہا۔۔آقا غلام تنہا۔۔نوکر ماتحت تنہا۔۔استاد شاگرد تنہا۔۔ہاتھ میں سمارٹ فون۔۔سر جھکا ہوا۔۔انگلیاں حرکت کر رہی ہیں۔۔چہرے کے الگ ہی تاثرات ہیں۔۔بڑے چاو¿ سے کسی سے کچھ پوچھو تو ”ہوں “”ہاں“ کرے گا کیونکہ اس کی نگاہیں اسمارٹ فون کی سکرین پہ ہیں۔۔آپ بات کررہے ہیں وہ یک دم جیب سے فون نکالے گا کھولے گا اور فیس بک میں مصروف ہوگا۔۔باباجی فرماتے ہیں، میری گردن میں جب اکثر درد رہنے لگا تو ایک حد تک برداشت کرتا رہا، جب درد برداشت سے باہر ہوا تو ڈاکٹر کے پاس گیا، اس نے نسخہ لکھ دیا، جب اسٹور پر جاکر پرچی کھولی تو لکھا تھا۔۔لمبی تار والا چارجر لے لو۔۔

یہ بات بھی اپنی جگہ سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے کہ فیس بک پر زیادہ تر ادبی گروپ بے ادب لوگوں نے تخلیق کیئے ہوئے ہیں،ان گروپس میں جو مواد پوسٹ کیا جاتا ہے، صاحبانِ پوسٹ اسے ادبی کہتے ہیں حالانکہ وہ سراسر ادب کی بے ادبی کے زمرے میں آتے ہیں۔۔ہمارے ایک دوست شعیب صاحب سوچ رہے تھے کہ شاید اس کی فیس بک دوست ”ورشہ“ شعیب کی باتوں سے ہرٹ ہوگئی، جس کے نتیجے میں وہ فیس بک چھوڑ کر چلی گئی۔۔وہ باربارہمیں بتارہاتھا کہ اپنے کیے پر بیحد شرمندہ تھا۔۔ایک اور دوست احمر کا خیال تھا کہ ”ورشہ“ کی شادی ہوگئی اس لئے وہ فیس بک سے غائب ہے،اور اس کی اظہارمحبت کی خواہش دل میں ہی رہ گئی۔جب کہ ایک اور فیس بک یوزر دوست فہیم کے نزدیک شاید ورشہ کو رئیل لائف میں کوئی بوائے فرینڈ مل گیا۔۔ اب مشکل ہے اس کے سوا اسے کوئی اور لڑکی پسند آسکے۔.اورہم پچھلے کئی دنوں سے پریشان ہیں کہ ورشہ والی آئی ڈی کا پاسورڈ یادہی نہیں آرہا۔۔رات شادی میں جانا ہوا،ہماری ٹیبل پر چوٹی کے معیشت دان اور دفاعی تجزیہ کار بیٹھے ہوئے تھے اتفاق دیکھئے کھانا کھلتے ہی پتہ نہیں کہاں مر گئے وہ سب کے سب۔۔ فیس بک پر اصل میں بات یہ ہے سے شروع ہونے والی بات اکثر جھوٹی ہوتی ہے۔۔

اگر فیس بک پر تھوکنے کی جگہ ہوتی اور کوئی لڑکی تھوک دیتی تو کچھ لوگ وہاں بھی کمنٹ کرتے۔۔واو¿ کتنا پیارا تھوک ہے۔۔کاش ایسا تھوک ہمارا بھی ہوتا۔۔واہ جی وا، آج تو فیس بک آپ کے تھوک کی خوشبو سے مہک رہی ہے اس لیے پلیز روزانہ ٹائم نکال کر میری ٹائم لائن پر تھوک دیا کریں۔۔کوئی لڑکی اگر فیس بک پر اسٹیٹس ڈال دے کہ آج گرمی بہت ہے تو لڑکوں کی اکثریت پنکھے کا رخ اپنے موبائل فون کی طرف کردیتے ہیں۔۔فیس بکی ”دانش وڑ “ اپنے تجربے کا نچوڑ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ۔۔کچھ لڑکیوں کا انٹرنیٹ پیکج ختم ہوتو کہتی ہیں فرینڈز میں بہت ضروری کام سے جا رہی ہوں،چارپانچ دن تک نہیں آسکوں گی آن لائن۔۔باباجی فرماتے ہیں کہ ۔۔جب سے فیس بک پیدا ہوئی ہے ،واچ مین سے لے کر تندور والے شیدے تک، سب پرنس بن گئے ہیں ۔۔فیس بک پر فقیر بھی پائے جاتے ہیں، ایک فقیر نے صدا لگائی، باجی بھوکا ہوں اللہ کے نام پر کھانا دے دو۔۔خاتون خانہ نے گھر میں سے جواب دیا، کھانا ابھی نہیں پکا۔۔فقیر بولا۔۔ باجی فیس بک پر بابا نیاز کے نام سے ہوں۔۔جب پک جائے،تو فیس بک وال پر اپ ڈیٹ کر دینا۔۔کسی گاو¿ں میں لڑکی نے اپنے عاشق سے کہا۔۔کیا تم میرا فیس بک اکاو¿نٹ کھول دوگے پلیز۔۔لڑکے نے کہا،ہاں کیوں نہیں۔۔لڑکی نے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا۔۔پھر کیا میں وہاں پیسے جمع کراسکوں گی؟؟

فیس بک پر لائک کا بٹن بھی ایسا ہی ہے جیسے چارپائی پہ بیٹھے دوستوں میں سے کسی کی بات پر کوئی دوسرا اثبات میں گردن ہلا دے-مالکن نے نوکرانی کو ڈانٹتے ہوئے کہا،تم تین دن سے کام پہ نہیں آئی ، اور بتایا بھی نہیں ؟نوکرانی نے برجستہ کہا۔۔باجی میں نے فیس بک پر اسٹیٹس اپڈیٹ کردیا تھا کہ ،آئی ایم گوئنگ ٹو گاو¿ں فار تھری ڈیز۔۔صاحب جی نے اس پر کمنٹ بھی کیا تھا، مسنگ یو،پھاتاں۔۔دلہا جب حجلہ عروسی پر اپنے نوبیاہتا دلہن کو بتانے لگا کہ ، میں شادی سے پہلے فیس ب±ک پر بیس لڑکیوں کے ساتھ چکر چلا چکا ہوں۔دلہن گھونگٹ میں سے ہی بولی۔۔ مجھے پتہ تھا کہ جب ہمارے ستارے ملتے ہیں توکرتوت بھی ملتے ہوں گے۔۔باپ نے غصے سے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔بیٹا، اِس کم بخت فیس بک کی جان چھوڑ دو اِس سے تمہیں روٹی نہیں ملنے والی ۔۔بیٹے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔ کوئی بات نہیں ابو جان ! روٹی بنانے والی تو مل جائے گی۔فیس بک پر اسٹیٹس کی بڑی ویلیو ہوتی ہے، لوگ بہت سوچ سمجھ کر اسے لکھتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پسندآسکے۔۔ہم نے بھی گزشتہ رات جب فیس بک پر اپنا اسٹیٹس ڈالا کہ آج میں گھر کی چھت پر سوو¿ں گا۔۔پانچ منٹ کے اندر نوے سے زائد مچھروں نے لائیک کیا۔۔

رشتہ دیکھنے کی رسم میں لڑکی کے والدین نے لڑکے سے پوچھا۔۔ کیوں بیٹا۔۔ کیا کرتے ہو؟ لڑکے نے کہا۔۔ جی میں ایڈمن فیلڈ میں ہوں۔۔لڑکی والے کہنے لگے۔۔بہت خوب، کس کمپنی میں؟؟لڑکے نے جواب دیا۔۔فیس بک پر دس گروپوں کا ایڈمن ہوں۔۔بوائے فرینڈ کے مرنے کے بعد گرل فرینڈ اس کی میت پر رونے لگی،یہ دیکھ کر وہاں کھڑے سب لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے،جونہی اسے تسلی دینے کے لئے آگے بڑھے تواچانک لڑکی نے موبائیل نکالا،میت کے ساتھ سیلفی لے کر فیس بک پر ڈال دی۔۔ساتھ ہی اسٹیٹس ڈالا۔۔بوائے فرینڈ ودھ می ایٹ قبرستان،فیلنگ بیوہ ودھ مولوی صاحب اینڈ سیونٹی نائن آدرز۔۔


ای پیپر