لوٹی ہوئی دولت کی واپسی:بہ ذریعہ مالیاتی انٹیلی جنس ایجنسی
27 اپریل 2018 2018-04-27

اس میں کوئی شک نہیں کہ لوٹی گئی قومی دولت اور پاکستان کو مطلوب افراد آج بھی اہم ترین، حساس ترین اور سنگین ترین نوعیت کے مسائل ہیں۔مالی امور پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کی رائے ہے کہ ’پاکستان سے لوٹ کھسوٹ کے ذریعے بیرون ملک لیجائی جانے والی رقم کا تخمینہ چار سو ارب ڈالر ہے ، اگر یہ رقم واپس لائی جائے تو پاکستان کے 80 ارب ڈالر کے قرضے ادا کرنے کے باوجود اتنی رقم حاصل ہو جائے گی کہ پاکستان میں کوئی غریب نہیں رہے گا‘۔ نیز ’سوئٹزر لینڈ اس وقت تک 10 سے زائد ممالک کو لوٹ مار کے اربوں ڈالر واپس کر چکا ہے‘۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت کے 375ارب ڈالر بیرونی بینکوں میں پڑے ہیں، جنہیں ملک میں لاکر نہ صرف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے 80ارب ڈالر کے قرضے چکائے جاسکتے ہیں بلکہ اس دولت کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکتا ہے اور عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرکے ملک سے غربت جہالت، بدامنی اور دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سوئس بینک کے ایک ڈائریکٹر نے سوئس بینکوں میں موجود پاکستانی دولت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ پاکستان صرف سوئس بینکوں میں پڑی دولت سے 30 سال تک ٹیکس فری بجٹ بنا سکتا ہے۔ 6 کروڑ پاکستانیوں کو ملازمتیں دی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی دیہات سے اسلام آباد تک چار رویہ سڑکیں تعمیر ہوسکتی ہیں۔ 500 سماجی منصوبوں کو ہمیشہ کے لیے مفت بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔پاکستان کا ہر شہری 60 سال کے لیے ماہانہ 20 ہزار تنخواہ حاصل کرسکتا ہے اور پاکستان کو کسی بھی عالمی بینک یا آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی‘جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق دبئی میں پاکستانیوں کی سوئٹزرلینڈ سے دس گنا زیادہ غیر قانونی رقم موجود ہے۔

پاکستان کے اقتصادی ماہرین اور محب وطن عوامی حلقے مغربی ممالک کے حکام کی توجہ متعدد بار اس امر کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ پاکستان اور ان کے مابین ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کے تحت حکومتِ پاکستان غصب شدہ قومی دولت کی بازیابی کے لئے چارہ جوئی کر سکے۔اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ طاقتور اور با رسوخ سول و ملٹری بیوروکریٹس اور سیاستدان ماضی میں اربوں ڈالر مالیتی رقم بیرونِ ملک منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آج بھی امریکی ریاستوں اور مغربی ملکوں کے مختلف بینکوں میں ان عناصر کے اربوں ڈالر خفیہ کھاتوں میں محفوظ ہیں۔پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کے کل قرضوں کا جتنا حجم ہے اس سے کم از کم چار گنا زائد حجم کا غصب شدہ سرمایہ ان افراد کی ذاتی تجوریوں میں محفوظ ہے۔ مغرب میں کالی دولت کو سفید کرنے کے قوانین اور آفشور کمپنیوں کے وجود ان لٹیرا عناصر کو ہمہ جہتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ قومی خزانے پر نقب لگا کر حاصل کی گئی رقم کسی بھی صورت بد عنوان عناصر کی ذاتی مِلک نہیں ہوتی۔ کروڑوں شہریوں کے حق کی پامالی کرنے والے وطن دشمن اور عوام دشمن عناصر کسی بھی طور بنیادی انسانی حقوق کی آڑ لے کر لوٹی ہوئی قومی دولت کے تحفظ کی قانونی و عدالتی جنگ لڑنے کے مجاز نہیں ہوتے۔یوں تو مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی اولین ترجیح قرارد یتے ہیں۔ کیا مالیاتی بد عنوانیاں اقتصادی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتیں؟ وہ دہشت گرد جو دو چار بم دھماکے کر کے آٹھ دس انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی مذموم سعی کرتا ہے یقیناًدنیا بھر کے ممالک کے قوانین کے مطابق قابل گرفت اور قابل مواخذہ ہوتاہے لیکن کروڑوں افراد کی فلاح و بہبود اور ان کے ممالک کی تعمیر و ترقی کے ہزاروں منصوبوں کواقتصادی بد عنوانی کی بارودی سرنگیں بچھا کر سبوتاژ کرنے والوں اوران کے اربوں سپنوں کا خون کرنے والے عناصرکے خلاف بین الاقوامی دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیوں کارروائی نہیں کی جاتی۔ انسانی سمگلنگ بھی یقیناًایک بڑا جرم ہے لیکن ناجائز دولت کی بیرون ملک منتقلی اس سے بھی قبیح تر اور گھناؤنا جرم ہے۔ قانون کی بالا دستی کے علم بردار مغربی ممالک کو پاکستان ایسے ترقی پذیر مقروض ملک کے شہریوں کے اس مطالبے سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ وہ عناصر جو اربوں کھربوں کی مالیتی رقوم ’’محفوظ ذرائع‘‘ سے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے جرم میں ملوث

ہوتے ہیں ، بدترین قسم کی سمگلنگ اور دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ21ویں صدی کے پہلے عشرے کے ابتدائی برسوں میں اسلام آباد میں پاکستان اوربرطانیہ کے عدالتی تعاون کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دو روزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں برطانیہ نے پاکستان کو مطلوب افراد اور لوٹی گئی دولت کی واپسی پر قانونی تعاون فراہم کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ بتایاگیاتھا کہ اس سلسلے میں عنقریب بعض اصولوں کا تعین کیا جائے گا، جنہیں آئندہ متوقع اجلاس میں غور و فکر کے لئے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں دہشت گردی، مالیاتی امور اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستانی مذاکرات کاروں نے بھرپور روشنی ڈالی۔ستم ظریفی یہ ہے کہ آئندہ متوقع اجلاس برس ہا برس گزرنے کے باوجود تادم تحریر نہیں ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوٹی گئی قومی دولت اور پاکستان کو مطلوب افراد آج بھی اہم ترین، حساس ترین اور سنگین ترین نوعیت کے مسائل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سوئس بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر، ، قومی دولت کی لوٹ مار،کرپشن، کمیشن اور قرضوں کی معافی کی ہوشربا داستانوں کے بارے میں بھی قوم جاننا چاہتی ہے اور ان کا بھی حساب ہونا چاہئے کیونکہ یہ احتساب کا وقت ہے۔ قوم کو علم ہے کہ ماضی میں کرپشن اور لوٹ مار کس نے کی ہے۔ بدعنوان اشرافیہ کے ہاتھوں پوری پاکستانی قوم زخم خوردہ ہے،ملک کی ابتر صورت حال کے ذمہ دار پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان یا پاکستان کے کسی بھی حصے کا وہ شہری نہیں جو محنت کر کے اپنی روزی کماتا ہے بلکہ اس کی ذمہ دار وہ سیاسی اور فوجی قیادت ہے جو اقتدار میں رہیں اور ہیں۔ صاف، شفاف اور بے لاگ احتساب کے لیے قوم متحد ہے۔ ہمیں وقت ضائع کیے بغیر سنجیدگی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔قومی دولت لوٹنے والوں کے شفاف، بلاامتیاز اور بے لاگ کڑے احتساب کا وقت آگیا۔ قوم فیصلہ کرچکی ہے کہ قومی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے۔

بعض اقتصادی و سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ ہمارے بعض نامی گرامی سیاستدان بھی غیر ملکی اقاموں کی آڑ میں کالے دھن کو بیرون ملک منتقل کر نے کے سنگین جرم میں ملوث پائے گئے ہیں۔مقام حیرت ہے کہ ان شخصیات نے جب 2013ء کے انتخابات کے دوران بہ حیثیت امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرائے تو اقامہ،بیرون ملک ملازمتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اور بیرون ملک اکاؤنٹس کے حقائق کو چھپایا اور یوں خیانتِ مجرمانہ کا ارتکاب کیا۔ عدالت قرار دے چکی ہے کہ جان بوجھ کر حقائق کو چھپانا بد دیانتی ہے۔ اس بد دیانتی کا ارتکاب کرنے والا رکن پارلیمان چونکہ صادق اور امین نہیں رہتا ، اس لیے اس کی پارلیمان کی رکنیت ختم ہوجاتی ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق کوئی رکن پارلیمان اس طر ح جان بوجھ کر حقائق کو چھپائے ، وہ بھلے سے وزیر اعظم ہو ، وزیر خارجہ ہو، منجھا ہوا سیاسدان ہو یا عام رکن پارلیمان۔۔۔خواہ رائے دہندگان کی کتنی بڑی تعداد نے سادہ لوحی اور بے خبری میں انہیں کتنے ہی ووٹ دینے کی نادانستہ غلطی کیوں ہو، حقائق سامنے آنے کے بعد آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نا اہل قرار پاتا ہے۔ عوام ان عدالتی فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہیں جبکہ نا اہل ٹولہ ان فیصلوں کے سامنے آتے ہی غصے سے لال پیلا ہو جاتا ہے ، عدالت عظمیٰ، عدالت عالیہ یا عدلیہ مخالف غیر متوازن جارحانہ بیانات کا اجراء کر کے ریاست کے ایک انتہائی قابل احترام ادارے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت انصاف کے خلاف شب و ستم ، الزام و دشنام اور گالیوں سہالیوں کا بازار گرم کر رہا ہے۔ اُن کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ نااہل حضرات و خواتین نے طے کر رہا ہے وہ ملک میں خانہ جنگی، انتشار اور انارکی اور بین الاداراتی تصادم کی دلدل میں دھکیلنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ وہ عدالت عظمیٰ کے عزت مآب جج صاحبان کو اس بھیانک انداز میں بے نقط گالیاں دینے ہی کو ’’شریفانہ سیاست‘‘ کی معراج تصور کرتے ہیں ۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان سیاستدانوں کی اولاد، جائیداد ، بینک کھاتے اور بیش قیمت اثاثے بھی بیرون ملک ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نا اہلوں کا یہ ٹولہ اس ملک کے عوام کو بے وقوف سمجھتا ہے ۔ یہ یا ان کے اہل خانہ میں سے کوئی مبینہ بیماری میں بھی مبتلا ہو جائے تو جس ملک پر وہ 1985ء سے حکومت کرتے رہے ہیں وہاں علاج کرانا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کی اولاد میں سے اکثر غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں۔ اُن کے کاروبار بھی یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یقیناًاُن کی بیرون ملک کاروباری ایمپائرز کے لیے بنیادی سرمایہ اس ملک کے قومی خزانے پر نقب لگا کر حاصل کیا گیا تھا۔ کیا یہ پاکستان میں صرف اقتدار کی پکنک منانے کے لیے آتے ہیں۔ کیا یہ ملک ان کی مفتوحہ ریاست اور اس کے عوام اُن کے بے دام غلام ہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے لوٹی ہوئی قومی دولت ان نا اہلوں سے بازیاب کرائی جائے۔

2016ء میں پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد پاکستان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف 12 رکنی ٹی او آرز کمیٹی بنانے پر متفق ہو چکے تھے اور امید کی جا رہی تھی کہ ’سپیکر کی زیرصدارت اجلاس میں معاملے کا پارلیمنٹ کے ذریعے حل نکالنے پر بھی اتفاق ہو جائے گا، یہ کمیٹی قومی و کمرشل بینکوں سے قرضے معاف کرانے، کک بیکس کے معاملات کا بھی جائزہ لے گی۔ بہتر ہو تاکہ یہ 12 رکنی کمیٹی سوئٹز ر لینڈ اور دیگر مغربی ممالک میں سول و ملٹری بیوروکریسی اور سیاستدانوں کی دولت کی واپسی کے لئے بھی کوئی لائحہ عمل طے کرے۔ محب وطن شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کی طرز کی ایک ایسی مالیاتی انٹیلی جنس ایجنسی کا قیام بھی عمل میں لایا جائے جو مالیاتی بدعنوانیوں کا کھوج لگائے اور ذمہ داران کو حسب قواعدو وضوابط کارروائی کر کے نشانِ عبرت بنانے میں تاخیر نہ کرے۔ دوسرے بلاامتیاز اور بلا استثناء احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ اس احتساب کے عمل میں کسی ادارے یافرد کو مقدس گائے کا درجہ نہ دیا جائے۔ تیسرے قوم کے وسیع تر مفاد میں ضروری ہے کہ پاکستانی معیشت کو لازماً دستاویز بند کیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان معاشروں میں ناجائز دولت اور کالے دھن کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے جہاں داخلی معیشت کی دستاویز بندی کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ اس صورت میں متوازی معیشت، داخلی قومی معیشت کے فروغ کے راستے میں سنگ گراں بن جاتی ہے۔ اگر یہ تین بنیادی کام کر لئے جائیں تو کرپشن کے مکمل انسداد کی راہیں وا ہو سکتی ہیں۔ اس کارِخیر کی انجام دہی کے لئے تین چیزوں کی ازبس ضرورت ہے، نیت، ارادے اور عمل کی ۔


ای پیپر