جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف۔۔۔راستے جدا۔۔۔!
27 اپریل 2018 2018-04-27

جماعتِ اسلامی نے خیبر پختونخواہ حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے اور ان سطور کی اشاعت یا اس سے اگلے ایک دو دنوں تک اس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا، تاہم بجٹ منظوری یا اِن ہاؤس تبدیلی کی کسی کوشش کی صورت میں جماعتِ اسلامی تحریکِ انصاف کی حکومت کا ساتھ دے گی۔ جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ کے امیر مشتاق احمد خان نے پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کے بعد حکومت سے الگ ہونا وقت کا تقاضا تھا۔ ہم کسی اختلاف نہیں اچھی نیت سے حکومت سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں اگر الزامات لگائے گئے تو پھر بھر پور دفاع ہی نہیں کرینگے جواب بھی دیں گے۔ الیکشن میں پی ٹی آئی سے مقابلہ ہو گا ۔ جماعتِ اسلامی کے اس فیصلے کے جواب میں تحریکِ انصاف کے رہنمااور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ہماری اتحادی جماعت ہے جس سے ہمارے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے 5 سال (حکومت میں) گزار دئیے ایک ماہ اور گزار لیتے تو بہتر ہوتا۔ تاہم جماعتِ اسلامی ایک علیحدہ جماعت ہے اور اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے وفد نے وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات میں واضح کیا کہ ان کی حکومت سے کوئی ناراضگی نہیں ۔ہم اُن کے مشکور ہیں کہ وہ پانچ سال تک ہمارے پارٹنر رہے ۔

جماعتِ اسلامی نے خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت جو ویسے بھی مئی کے آخر میں تحلیل ہو جانی ہے کے اختتام سے تقریباً ایک ماہ قبل حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اِسے نیک نیتی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا واقعی یہ نیک نیتی پر مبنی فیصلہ ہے اور اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد بھی تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کے درمیان باہمی تعاون اور معمول کے تعلقات قائم رہیں گے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ کے امیر جناب مشتاق احمد خان کے حالیہ بیان جس کا اُوپر حوالہ دیا گیا ہے اور جماعتِ اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کے چند دن قبل سینیٹ کے انتخابات بالخصوص چئیرمین سینیٹ کے انتخاب کے بارے میں دئیے جانے والے بیان اور اُس پر تحریکِ انصاف کے ترجمانوں کی طرف سے سامنے آنے والے ردِ عمل اور جوابی بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے منصورہ لاہور میں جماعتِ اسلامی کی تربیت گاہ کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ چئیرمین سینیٹ کے ووٹ کے لیے تحریکِ انصاف نے کہا تھا کہ بلوچستان کے اُمیدوار کو ووٹ دینے کیلئے ’’اُوپر ‘‘ سے آرڈر ہے جبکہ سینیٹ انتخاب کے بعد عمران خان کی بجائے ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے فون کر کے سینیٹ الیکشن میں حمایت کا کہا لیکن اُنہیں (وزیرِ اعلیٰ کو )خود بھی اُمیدوار (بطورِ چئیرمین سینیٹ) کا پتہ نہیں تھا۔ بعد میں پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کیلئے کہا گیا ۔ پوچھا انہیں ووٹ کیوں دینا ہے تو جواب ملا ’’اُوپر‘‘ سے حکم ہے۔ اب معلوم نہیں یہ حکم عرشِ معلی سے تھا یا کہیں اور سے ۔ جناب سراج الحق نے کہا کہ سینیٹرز کی خریدو فروخت سے سینیٹ کی اخلاقی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔ سینیٹ کے اندر بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا سکتے ۔ سینیٹ الیکشن میں چند گھوڑے ہی نہیں پورا صطبل ہی بِک گیا ۔ جس طرح بکنے والے مجرم ہیں اسی طرح خریدنے والے بھی مجرم ہیں۔

جناب سراج الحق کے اس انکشافی بیان کے بعد تحریکِ انصاف والے کہا ں خاموش رہ سکتے تھے ۔ تحریکِ انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چودھری فوراً بول اُٹھے اور کہا کہ سراج الحق ن لیگ کے اتحادی ہیں اس لیے اُن کے لہجے میں ن لیگ بول رہی ہے ۔ سراج الحق کا بیان جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بلکہ سراج الحق کی غلط بیانیوں نے پارٹی کا بیڑہ غرق کر دیا۔ جناب فواد چودھری نے مزید کہا کہ جماعتِ اسلامی کشمیر میں ن لیگ کی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے جبکہ پنجاب میں ان کا ناظم شیر کے نشان پر جیتا۔ تحریکِ انصاف کے صوبائی وزیر اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے بھی اس موقع پر بولنا ضروری سمجھا ۔ اُنھوں نے بھی جماعتِ اسلامی کے لتے لیتے ہوئے کہا کہ سراج الحق کا بیان افسوسناک ہے ۔ اگر کوئی خرابی تھی جو امیر جماعتِ اسلامی اقتدار کے مزے لوٹنے کی بجائے پہلے کیوں نہیں بولے ۔ اپنا ملبہ دوسروں پر ڈالنا جماعتِ اسلامی کی پرانی عادت ہے ۔ پانچ سال اقتدارکے مزے لیے ہیں تو ذمہ داری بھی قبول کریں۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے بھی جناب سراج الحق کے اُن سے منسوب ’’اُوپر کے حکم ‘‘ کی وضاحت ضروری سمجھی اور کہا کہ عمران خان نے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کو کہا تھا اور ’’اُوپر‘‘ سے میری مراد عمران خان تھے ۔ سراج الحق نے میری بات کا غلط مطلب لیا میں نے ’’اُوپر ‘‘ کا لفظ بنی گالا اور عمران خان کے لیے استعمال کیا تھا۔

جناب سراج الحق کے ارشادات اور اُن کے جواب میں تحریکِ انصاف کے ترجمانوں جناب فواد چودھری اور جناب شوکت یوسفزئی کے فرمودات کو سامنے رکھ کر جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ کے امیر جناب مشتاق احمد خان کے ’’کسی اختلاف نہیں اچھی نیت سے حکومت سے الگ ہوئے ہیں ‘‘ کے تازہ بیان اور اس کے جواب میں تحریکِ انصاف کے صوبائی ترجمان شوکت یوسفزئی کے جماعتِ اسلامی کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات کا جائزہ لیا جائے تو پھر سوچنا پڑتا ہے کہ برصغیر جنوبی ایشیاء کے ایک عظیم لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ قول کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا آج بھی بڑی حد تک اپنی صداقت کی گواہی دے رہا ہے۔ سیاستدانوں کیلئے ایک وقت میں ایک بات کہنا اور دوسرے وقت میں اُس بات سے متضاد بات کہنا یا اُس سے مُکر جانا کچھ ایسا مشکل نہیں۔ جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت کی اتحادی جماعت کے طور پر تقریباً پانچ سالوں تک اقتدار و اختیار کے مزے لوٹتی رہی ہے ۔ اب اس حکومت کی آئینی میعاد کے پورا ہونے سے ایک ماہ قبل جماعتِ اسلامی اس سے الگ ہو رہی ہے تو جماعتِ اسلامی کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ متحدہ مجلس عمل کی نئی کشتی پر سوار ہونے کافیصلہ کر چکی ہے اور وہ اس کشتی پر اسی صورت میں سوار ہو سکتی ہے کہ وہ خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے۔

جہاں تک دینی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا تعلق ہے یہ اتحاد بحال ہی نہیں ہو چکا ہے بلکہ جمیعت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے اہم رہنماؤں کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہو چکا ہے۔ ا سکے ساتھ بلکہ اگلے ہفتے کے وسط میں 2 مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کا قومی ورکرز کنونشن بھی منعقد ہو رہا ہے۔ اس کنونشن کے انعقاد سے قبل جماعتِ اسلامی نے خیبر پختونخواہ حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے تو یہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ جماعت یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ متحدہ مجلسِ عمل کی سرگرمیوں میں شریک ہو سکے گی۔ جماعتِ اسلامی کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اتحادی سیاست میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر خوب سرگرمی ہی نہیں دکھاتی بلکہ اتحاد کے معاملات کو بھی بڑی حد تک اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب وہ اتحاد ٹوٹتا یا بکھرتا ہے تو جماعتِ اسلامی سرپر ہاتھ رکھ کر پیٹ رہی ہوتی ہے کہ اس اتحاد میں شامل ہونے کی وجہ سے اُس کی انفرادی حیثیت اور اُس کی پہچان کو کتنا نقصان پہنچ چکا ہے ۔ کنونشن سنٹر میں متحدہ مجلسِ عمل کے قومی ورکرز کنونشن کے انعقاد کے انتظامات کی میں تفصیل دیکھ رہا تھا ۔ میرے انتہائی مربی ، محسن اور مہربان دوست صاحبزادہ ولی اللہ بخاری جو مدینہ کالونی سنگجانی میں ایک شاندار دینی مدرسہ جامع عثمانیہ کے مہتمم ہیں ، ورکرز کنونشن کے انتظامات میں مجھے پیش پیش نظر آئے۔

یہاں جماعتِ اسلامی کے خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت میں شامل ہونے کے موقع پر سامنے رکھے گئے مقاصد اور ترجیحات کا ذکر کرنا ایسا کچھ نامناسب نہیں ہو گا۔ جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ کے امیر جناب مشتاق احمد خان کا کہنا ہے کہ ہم حکومت میں چودہ نکاتی ایجنڈے کے ساتھ شامل ہو ئے تھے ۔ جس میں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ، آئینِ پاکستان میں اسلامی تشخص کو قائم کرنے کے لیے دفعات کے عملی نفاذ کی کوشش، خیبر پختونخواہ میں کرپشن سے پاک اچھی طرزِ حکمرانی ، قیامِ امن اور قبائلی علاقہ جات میں ڈرون حملوں کی بندش کیلئے کوشش، صوبے میں عوام کی صحت ، تعلیم ، سماجی بہبود اور حقوقِ خواتین کیلئے بھر پور اقدامات، مہنگائی کو کنٹرول کرنے ، بے روزگاری کے خاتمے ، لوٹ مار اور کرپشن کی تحقیقات کے لیے بااختیار کمیشن کا قیام جو سب کا بلا امتیاز احتساب کرے ، اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے صوبائی سطح پر بجلی کی پیداوار جیسے نکات شامل تھے ۔ اب پانچ سال تک اقتدار و اختیار کے مزے لوٹنے کے بعد جماعتِ اسلامی حکومت سے الگ ہو رہی ہے تو اس بات کا ضرور جائزہ لیا جانا چاہیے کہ جماعتِ اسلامی ان مقاصد اور ترجیحات کو حاصل کرنے میں کہاں تک کامیاب رہی ہے۔ اور یہ بھی فیصلہ کرنا چاہیے کہ اُس نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے۔


ای پیپر