بڑا لدھڑ ۔۔۔ چھوٹی لومڑی ۔۔۔ اور عطائیوں کیخلاف آپریشن ؟
27 اپریل 2018 2018-04-27

گزشتہ رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا جو بڑا طویل تھا۔ میں نے صبح اُٹھ کر غور کیا کہ یہ خواب کم از کم دس گھنٹے طویل تھا حالانکہ میں صرف چھ گھنٹے سوتا ہوں ۔۔۔ اس مہنگائی کے دور میں اتنی لمبی نیند، یقیناًآپ اس بات پر حیران ہو رہے ہوں گے؟ یہ خواب مختصراً سنانا چاہتا ہوں ۔۔۔ تیس سال کی عمر میں میں ا پنی سالگرہ والے دن کھڑا شیشہ میں دیکھ رہا ہوں اور یک دم خیال آیا ۔۔۔ اگر میری سیدھی ناک تھوڑی دائیں طرف ٹیڑھی ہو جائے تو میری شخصیت زیادہ پر کشش ہو سکتی ہے ۔۔۔ مجھے ایک نہایت مشہور اداکارہ یاد آ گئی جو بطورِ ہیروئین فلموں میں کام کرتی تھی۔ میں چونکہ فلمیں کم کم دیکھتا تھا اس لیے اخبار یا میگزین میں جب بھی میں اس اداکارہ کی تصویر دیکھتا مجھے لگتا جیسے اس کی شکل لومڑی سے ملتی ہے۔ اس کا قد بھی کافی چھوٹا تھا۔ اس لیے اس بیچاری اداکارہ کے حوالے سے اگر کبھی دوستوں میں بیٹھے گفتگو ہوتی تو میں اس کا نام نہیں لیتا بس کہہ دیتا کہ ’’ چھوٹی لومڑی ‘‘ اور دوست سمجھ جاتے میں کس کا ذکر کر رہا ہوں۔ جیسے میں ’’ لدھڑ ‘‘ کہوں تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کس سیاستدان کا ذکر ہے ۔۔۔ اور ہمارا دوست ’’خلیفہ‘‘ جب تھڑے پر ہمارے ساتھ بیٹھا گپیں ہانک رہا ہوتا اور اُس کے والد صاحب اچانک آ جاتے تو ہم آہستہ سے کہتے ’’Boss - G‘‘ آ گئے اور وہ رفو چکر ہو جاتا ۔۔۔ ایسے ہی ہم نے اپنے ایک بڑے افسر کا ’’نِک نیم‘‘ ۔۔۔ ’’سرکاری ۔۔۔ درباری‘‘ رکھا ہوا ہے۔ اکثر اُن کی موجودگی میں ہم آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اُن کے حوالے سے چھیڑ خانی بھی کر جاتے ہیں اور ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ بھی ہو جاتے ہیں ۔۔۔ ’’سرکاری ۔۔۔ درباری‘‘ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم اُن کی ’’ایسی تیسی‘‘ پھیر چکے ہیں ۔۔۔
کچھ عرصہ نہ وہ خبروں، اخباروں میں نظر آئی نہ شاید فلموں میں بھی ۔۔۔ کچھ اور عرصہ گزار کر وہ اچانک ٹیلی ویژن کی سکرین اور فلموں میں بھی دکھائی دینے لگی ۔۔۔ ایک دن بات ہو رہی تھی کہ میں نے ’’ چھوٹی لومڑی ‘‘ کہہ کر بات شروع کی اور دوستوں نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور ساتھ ہی ایک ہفتہ وار میگزین کے ٹائیٹل پر چھپی اس کی تصویر سامنے رکھ دی ۔۔۔ میں نے اسے ’’ چھوٹی لومڑی ‘‘ کہنے پر شرمندگی ظاہر کی ۔۔۔ لیکن حیران ہوا کہ وہ اب کے اس قدر مناسب شکل و صورت والے روپ میں کیسے آئی ۔۔۔ دوستوں نے بتایا ۔۔۔
’’میاں یہ جدید دور ہے اس نے پلاسٹک سرجری کروائی ہے‘‘ اگر ہیر رانجھا ۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کے دور میں پلاسٹک سرجری کا سلسلہ اور جدید ترین بیوٹی پارلر ہوتے تو تاریخ دان لیلیٰ کو ’’بلیک بیوٹی‘‘ کہہ کر نہ پکارتے اور بڑے ناک والے اس جج کو دیکھ کر مجرم نہ ہنستے یا مجرموں کی یکدم ہنسی نہ چھوٹتی ۔۔۔ یا یہ کہ ہیر کی شکل والی کوئی اور ہیر بھی سامنے آ جاتی اور معاملہ کچھ اور شکل اختیار کر جاتا ۔۔۔ ہمیں بچپن میں ڈرایا جاتا کہ جنرل ضیاء نے اپنی شکل کے تین چار آدمی تیار کروا رکھے ہیں ۔۔۔ اور اکثر محفلوں میں جنرل
ضیاء خود نہیں جاتا بلکہ اس کا ڈپلیکیٹ جاتا ہے ۔۔۔ کاش طیارے کے حادثہ والے دن ضیاء الحق کا ڈپلیکیٹ اصل ضیاء الحق کی جگہ طیارے میں سوار ہو جاتا ۔۔۔ اور قوم کو آمریت کا طویل ترین دور دیکھنا نصیب ہو جاتا! اور امریکہ کو لینے کے دینے پڑ جاتے ۔۔۔! مگر ضیاء الحق صاحب بھی تھکے تھکے سے لگنے لگے تھے اُدھر ۔۔۔
جنرل پرویز مشرف نے جب نکلنا ہوتا تو چار پانچ ایک ہی جیسی گاڑیاں کھڑی کر دی جاتیں۔ یہ صرف مشرف کو پتا ہوتا تھا کہ اُس نے کس گاڑی میں بیٹھنا ہے۔ یہ سب سکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جاتا تھا ۔۔۔ اب تو جب کوئی VVIP گزرنا ہو تو آدھا شہر ہی بند کر دیا جاتا باقی کا آدھا شہر Construction کے لیے بند کر دیا گیا ہے ۔۔۔ عوام گھروں میں بیٹھے گجریلا یا پھر پکوڑے اور مونگ پھلی ۔۔۔ کھانے کھلانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میاں بیوی لڑائی میں اور بیچارے بچے مارکٹائی میں ؟! ۔۔۔
پھر اپنے پیارے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں ایسے ہی یہ بتایا جاتا کہ ان کا جو چہرہ نظر آتا ہے وہ اصلی نہیں ۔۔۔ ’’تو کیا نقلی ہے؟‘‘ ۔۔۔! ہم حیرت سے پوچھتے تو ہمیں سینئر دوست منہ پر انگلی رکھ کر بتاتے ۔۔۔ کہ ڈاکٹر قدیر خان کے چھ سات ڈپلیکیٹ ہیں اور جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو وہاں وہ خود نہیں جاتے اپنا ڈپلیکیٹ بھیج دیتے ہیں؟! ۔۔۔ ڈاکٹر قدیر کے بارے میں یہ سن کر ہمیں بڑی حیرت ہوتی۔ ویسے کچھ عرصہ سے وہ خود بھی حیرت زدہ ہیں اور عوام بھی ۔۔۔! اب تو ڈاکٹر صاحب خاصے ضعیف ہو چکے ہیں اور ہمارے مزاح نگار دوست حسین شیرازی کسی نہ کسی بہانے اُنہیں ’’بڑے کھانے‘‘ پہ بلا لیتے ہیں فیس بک پر تصویریں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔۔۔
پھر بش کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کئی بار خود ماسک چڑھا کر ۔۔۔ افغانستان آیا تھا ۔۔۔ کیوں آیا تھا پتا نہیں شاید ۔۔۔ اوسامہؔ سے مذاکرات کرنے آیا ہو کہ میری اس دلدل سے جان چھڑاؤ ۔۔۔ سنا تھا بش اپنی بیتی آپ لکھنے کا ارادہ رکھتا تھا اپنے دوست پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے۔ اس وقت تو ریحام خان کی آپ بیتی کا ’’دشمنوں‘‘ کو انتظار ہے سنا ہے مبین رشید اس آپ بیتی کو الیکشن سے پہلے عوام کی تفریح کے لیے پیش کر ڈالے گا ۔۔۔ بات چل رہی تھی شیشے میں دیکھتے ہوئے اپنی سیدھی ناک ٹیڑھی کرنے کی۔ میں نے سوچا کیوں نہ پلاسٹک سرجری کے ذریعے یہ کام کر ہی لیا جائے ۔۔۔ اور تلاش شروع کر دی کسی سستے سے ڈاکٹر کی ۔۔۔ جو چند ٹکوں کے عوض ’’یہ‘‘ سے ’’وہ‘‘ بنا ڈالے ۔۔۔ سوئے جذبوں کو جگا ڈالے ۔۔۔
’’ارے واہ‘‘ ۔۔۔ دو دن بعد میں نے دائیں طرف اپنی ناک پلاسٹک سرجری کے ذریعے ٹیڑھی کروا لی اور شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ واقعی شخصیت پر کشش سی ہو گئی ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ ’’اوئے ۔۔۔ یہ کیا‘‘؟ ۔۔۔ میرے منہ سے نکلا ۔۔۔ (خاصی حیرت اور پریشانی کے ساتھ) ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ ناک دائیں طرف کروانے سے میری بائیں آنکھ ۔۔۔ تھوڑی سی چھوٹی ہو گئی ۔۔۔ لو جناب ۔۔۔ یہ تو لینے کے دینے پڑ گئے۔ شیشے میں دیکھوں تو یوں لگے جیسے ’’ڈیڑھ آنکھ‘‘ والا شخص کھڑا ہے۔ میں نے سوچا دوستوں سے مشورہ کروں ۔۔۔ دوستوں سے میرا خوب مذاق چلتا ہے۔ میں نے سب پہلے طارق فاروق کو سنجیدہ ہو کر اپنا چہرہ دکھایا ’’کہ بتاؤ کچھ تبدیلی لگتی ہے‘‘؟ ۔۔۔ (اندر سے ڈرتے ڈرتے) ۔۔۔
’’ہاں یار ۔۔۔ یہ تمہاری بائیں آنکھ دائیں کی نسبت کافی چھوٹی ہے‘‘ ۔۔۔ واقعی یار ۔۔۔ کمال ہے مظفرؔ ہم نے تمہاری اس ’’خوبی‘‘ پر کبھی غور ہی نہیں کیا ۔۔۔ (سیدھے چلتے کاموں کو ادھر اُدھر گھمانے والوں کا شاید یہی انجام ہوتا ہو گا؟) ۔۔۔ میں نے طارق سے ہاتھ چھڑایا اور بھاگ نکلا ۔۔۔ دل میں خیال آیا ۔۔۔ یہ دوست تھا اور مذاق میں بھی کر لیتا ہوں ۔۔۔ شاید اس نے بھی بدلہ اتارا ہو ۔۔۔ سیدھا ۔۔۔
والد صاحب کے سامنے جا بیٹھا ۔۔۔ ’’اوئے مظفر بیٹا ۔۔۔ یہ تمہاری بائیں آنکھ کہیں تم نے ۔۔۔ اس کو‘‘؟ ۔۔۔ انہیں کچھ سمجھ نہ آیا ۔۔۔ میں نے انہیں بتایا (بات ادھر اُدھر ٹالنے کے لیے) کہ ’’آپ کے دوست حاجی محمد صاحب آج دھوپ میں کرسی ڈالے اپنے گھر کے باہر بیٹھے تھے اور آپ کا پوچھ رہے تھے!‘‘ ۔۔۔ ’’میں تو ابھی انہی سے مل کر آ رہا ہوں‘‘! ۔۔۔ والد صاحب نے حیرت سے جواب دیا اور میں وہاں سے چل پڑا کہ کس سے مشورہ کروں ۔۔۔میری نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔۔۔ ’’سوچا بیوی سے پوچھوں؟‘‘ ۔۔۔ یکدم یہ خیال رد کر دیا ۔۔۔ کہ کہیں وہ دیکھتے ہی اپنا وہ بکس (جو وہ ساتھ لائی تھی) اٹھا کر Uber میں بیٹھے اور میکے چلی جائے کہ آپ نے کس ٹیڑھی آنکھ والے سے مجھے بیاہ دیا ہے ۔۔۔ بندہ جائے تو کہاں جائے؟ ۔۔۔ شام کو ’’اُس‘‘ سے بھی ملنا تھا اور میں یہ ’’تبدیلی‘‘ افورڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔
کچھ سمجھ نہ آیا اور سیدھا اسی ڈاکٹر کے پاس جس نے پلاسٹک سرجری کی تھی جا بیٹھا ۔۔۔ وہ بڑا خوش ہوا ۔۔۔ کہ گاہک اچھا ہے پھر سے لگتا ہے نیا گاہک لے کر آیا ہے ۔۔۔ اس نے چائے پلوائی اور خوب خوشامد کی ۔۔۔ دیکھا مظفر آپ کتنے اچھے لگ رہے ہیں ۔۔۔ اس کے منہ سے نکلا اور دفعتاً وہ بہت سنجیدہ ہو گئے ۔۔۔ یقیناًانہوں نے میری آنکھ دیکھ لی تھی (ان کی اپنی کاریگری انہیں نظر آ گئی ہو گی) ۔۔۔
’’اوئے رمضانی ۔۔۔ بھئی وہ کتے کو چارا کھلا دیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب بد حواسی میں بولے۔ میں نے معاملہ بگڑتے ہوئے دیکھا تو انہیں سہارا دیا ۔۔۔ ڈاکٹر صاحب یہ میری بائیں آنکھ بھی ذرا ٹھیک کر دیں کچھ بگڑی بگڑی سی لگتی ہے (جان بوجھ کر انہیں نہیں بتایا کہ یہ کارنامہ آپ کے ہاتھوں ہی سر انجام دیا گیا ہے۔ مبادا وہ کام کو ہاتھ ہی نہ ڈالیں) ۔۔۔ ’’ہاں ہاں میں ٹھیک کر دیتا ہوں ۔۔۔ پیسے بھی آدھے لوں گا‘‘ ۔۔۔
پیسے ( پیسے ۔۔۔ پھر سے پیسے دینے ہوں گے؟) ۔۔۔ مجھے یہ تو یاد ہی نہیں رہا کہ ٹیڑھی آنکھ کی مرمت کے پھر سے پیسے دینے ہوں گے ۔۔۔
(جاری ہے ۔۔۔)


ای پیپر