وافر گندم: معیشت فائدے میں کا شتکار خسارے میں
27 اپریل 2018 2018-04-27

سندھ کے بعد پنجاب میں بھی گندم کی کٹائی کا موسم اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ کاشتکاروں کو حکومتی پالیسی کے مطابق گندم کی امدادی قیمت دلوانے کے لیے صوبائی حکومت خود گندم خریدتی ہے جس سے کسانوں کو تقریباً 200 روپے فی من زیادہ مل جاتے ہیں۔ لیکن خریداری کا یہ سسٹم اتنا ناقص ہے کہ ہر سال اس سے حقیقی کسان فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ یا تو اس کا فائدہ بڑے زمیندار اور جاگیردار اٹھاتے ہیں یا پھر مڈل مین مافیا ہے جو سرکاری اہل کاروں کے ساتھ ملی بھگت سے غریب کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خرید کر سپورٹ پرائس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں زراعت تنزلی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے اور کاشتکار طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہے۔ موجودہ حکومت کے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ بھاری نقصان زراعت کے شعبے کو پہنچا ہے۔ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ آج ملک میں آلو 5 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ جس بات کو وہ اپنا کارنامہ سمجھتے تھے وہ در اصل آلو کے کاشتکاروں سے جا کر پوچھیں جو فصل میں خسارے کی وجہ سے دیوالیہ ہو چکے تھے۔ اسی طرح آپ گنے کی فصل دیکھ لیں جس میں کوئی بھی حکومت آج تک شوگر مل مافیا کو لگام نہیں ڈال سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 80 فیصد شوگر ملیں سیاستدانوں کی ملکیت ہیں جو سالہاں سال سے کسانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سب سے زیادہ شوگر ملیں پنجاب میں نواز شریف فیملی اور سندھ میں آصف زرداری کی ملکیت ہیں۔بات گندم کی ہو رہی تھی۔ 2018ء پاکستان میں الیکشن کا سال ہے۔ لیکن یہ سال در اصل زراعت کی تباہی کا سال بھی ہے۔ گزشتہ تین سال سے حکومت نے گندم کی فصل کی فی من قیمت میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔ جبکہ باقی ہر چیز کی قیمت دوگنا ہو چکی ہے۔ گندم کی پیداواری لاگت ہر سال بڑھ جاتی ہے۔ جس میں کھاد بیج، سپرے، ڈیزل، مزدوری شامل تھیں۔ لیکن فصل کی قیمت نہیں بڑھائی جاتی۔ بلکہ حکومتی پرائس حاصل کرنا چھوٹے کسانوں کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اس سال گندم کا بحران کاشتکاروں کو ساتھ بہالے جائے گا۔بقول فیض احمد فیض

یہ فصل امیدوں کی ہمدم اس بار بھی غارت جائے گی

یہ محنت صبحوں شاموں کی اب کے بھی اکارت جائے گی

گندم کی فصل کے سٹیک ہولڈرز میں کسان، تاجر، مڈل مین، فلور مل مالکان، صوبائی اور وفاقی حکومت شامل ہیں۔ان میں سے سب سے زیادہ کمزور اور بے آواز طبقہ کسان ہیں۔ جو ہمیشہ خسارے میں رہے ہیں۔ پاکستان کے 21 کروڑ عوام کی خوراک اور لباس کی ضرورت پوری کرنے والا کسان خود بھوکا اور ننگا ہے۔ مگر کسی کو کوئی پروا نہیں۔ خادم اعلیٰ پنجاب ہر سال بیان دیتے ہیں کہ کسانوں سے آخری دانے تک خریداری جاری رکھی جائے گی لیکن ان کا یہ بیان بھی انا کے دیگر بیانات کی طرح ہی ہوتا ہے۔ جیسے انہوں نے 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنائی تھی۔ اس بار معاملہ حکومت کے بھی بس سے باہر ہو چکا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی گندم کی وافر پیداوار ہونے کے باوجود اس کی ایکسپورٹ بند ہو چکی ہے۔ پہلے افغانستان ایران اور عرب ممالک ہماری گندم خرید لیتے تھے لیکن انڈیا نے اب ان مارکیٹوں سے ہمیں بے دخل کر دیا ہے۔ چاہ بہار پورٹ جو انڈیا نے ایران میں بنائی ہے اب وہاں سے افغانستان اور ایران کی گندم کی ضرورت پوری ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں یمن کے معاملے میں کشیدگی کی بناء پر انڈیا وہاں تجارتی طور پر متحرک ہو چکا ہے۔ گندم پر اس کے اثرات یہ ہوئے ہیں کہ حکومت نے جو گندم کسانوں سے 2016 ء اور 2017 ء میں خریدی تھی وہ ابھی تک سرکاری گوداموں میں پڑی ہے۔ ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے گوداموں میں جگہ ہی نہیں ہے۔ ان حالات میں اس سال حکومت صرف 10 فیصد خریداری کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک انداز ے کے مطابق اس وقت پنجاب حکومت کے گوداموں میں 5 ملین ٹن گندم موجود ہے۔ اس کے علاوہ 2 ملین ٹن پاسکو کے پاس پڑی ہوئی ہے۔ یہ سارا سٹاک دوسال کے لیے کافی ہے۔ ایسے حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت مزید خریداری کرے۔ موجودہ سٹاک کی مالیت 164 بلین روپے ہے۔ یہ رقم بینکوں سے قرضہ لے کر گندم خریدنے پر لگی تھی جس پر پنجاب حکومت 2 بلین روپے سود دے رہی ہے ماہانہ بنیادوں پر۔ بالفرض حکومت کسانوں سے 5 سے 6 ملین ٹن گندم اس سال خریدنا چاہے بھی تو اس کو رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔ نیز اس پر 5 سے 6 بلین روپے ماہانہ سود بن جائے گا۔ جب فلور مل مالکان نے دیکھا کہ حکومت گندم خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو انہوں نے باہمی اتحاد کر کے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ گندم نہیں خریدیں گے۔ یہ ایک کاروباری حربہ ہے تاکہ کاشتکاروں کے ساتھ قیمت پر مزید سودا بازی کے جا سکے۔ اس سے گندم کی فصل کی قیمت اور نیچے آجائے گی۔ یہ آلو کی طرح وقتی طور پر تو خوشی کی بات ہے مگر اگلے سال کاشتکار اس قابل نہیں ہوں گے کہ وہ گندم کاشت کر سکیں۔ جس سے ملک میں بے روزگاری اور جرائم میں اضافہ ہو جائے گا۔

گندم کا بحران در اصل براہ راست governance کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر ہماری خارجہ پالیسی اور ایکسپورٹ پالیسی ٹھیک کام کر رہی ہوتی تو گندم کے وہ وسیع ذخائر جو اس وقت ہماری قومی liability بنے ہوئے ہیں۔ یہ آج ہمارا Assets ہوتے اور پاکستان اس سے کثیر زرمبادلہ کما رہا ہوتا۔ ہمارے کاشتکار کی بد قسمتی یہ ہے کہ اگر خشک سالی یا سیلاب سے فصلیں تباہ ہوتی ہیں تو وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے ۔ مگر اس کے بر عکس اگر اس کی فصل bumper havrest ہو یعنی بہترین پیداوار ہو تو بھی وہ مارا جاتا ہے۔کیونکہ وافر پیداوار سے قیمت کم ہو جاتی ہے اور سٹاک خریدنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ناقص طرز حکمرانی ہے۔ زمیندار دونوں صورتوں میں خسارے میں رہتا ہے۔ آج کے دور میں پاکستان جیسے زرعی ملک میں کاشتکار ہونا سراسر خسارے کا سودا ہے۔

اس سلسلے میں اہم ترین پیش رفت یہ ہے کہ ورلڈ بینک نے حکومت پاکستان کو گندم کے بارے میں پالیسی مکمل تبدیل کرنے کے لیے 2021 ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت 2021 ء میں گندم خریداری پروگرام ختم کر دے گی اور اس شعبے کے ڈی ریگولیٹ ہونے کے بعد گندم کے نرخ مقرر کرنا حکومت کا کام نہیں ہو گا۔ بلکہ مارکیٹ فورسز یعنی طلب اور رسد کی بنیاد پر قیمت کا تعین ہو گا۔ اس بارے میں ورلڈ بینک نے اپنی طرف سے اعلان کر دیا ہے۔ لیکن حکومت سیاسی مصلحت اور الیکشن ایئر کی وجہ سے اس کو چھپائے بیٹھی ہے اور یہ ملبہ آنے والی نئی حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے۔ اگر ڈیمانڈ اور سپلائی کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تو مڈل مین کی چاندی ہو جائے گی۔ تجارتی مافیا سال کے شروع میں 1000 روپے کے حساب سے ساری گندم خریدے گا۔ اور جب سٹاک ان کے ہاتھ آجائے گاتو گندم کی قیمت 2000 روپے فی 40 کلو گرام ہو جائے گی۔ اگر گندم کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تو کاشتکار تو پہلے ہی مرا ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی مریں گے اور تاجر اور مڈل مین اور فلور مل مالکان فائدہ اٹھائیں گے۔ گندم کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ بنیادی خوراک (staple food) ہے۔ اس کو منافع بخش بنیاد پر چلانا ملکی معیشت اور عوام الناس کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ اگر کاشتکار طبقہ حالات سے دلبرداشتہ ہو کر گندم کی کاشت ترک کر دے اور ہمیں گندم امپورٹ کرنے کی نوبت آجائے گی تو اس کی قیمت 2500 روپے من ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کو کئی گنا زیادہ سبسڈی کا اعلان کرنا پڑے گا۔


ای پیپر