سود کا کاروبار، ڈان گولو اور سرکاری ٹولہ
27 اپریل 2018 2018-04-27

سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی ہے لیکن عملی طور پر پہلے سے بھی خراب صورت حال ہے۔ صوبے میں تعلیمی سال شروع ہو چکا ہے لیکن کئی سکولوں میں تاحال نصابی کتب فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔ حکومت پرائمری سطح پر بچوں کو مفت کتب فراہم کر رہی ہے اور ان کتابوں کی سکول تک رسد کے لئے ٹرانسپورٹ کا بجٹ بھی حکومت کے پاس ہے۔ لیکن انتظامیہ کی نااہلی اور بعض افسران کی جانب سے کتابیں پہنچانے کی رقم بچانے کی لالچ میں بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ میڈیا میں مسلسل شکایات کے باوجود اس ضمن میں نہ موثر اقدام کیا گیا ہے اور نہ موثر پالیسی بنائی گئی۔

سندھ میں ’’ سود کا کاروبار، ڈان گولو اور سرکاری ٹولہ ‘‘ کے عنوان سے روز نامہ کاوش لکھتا ہے کہ لگتا ہے کہ بعض افراد اور حلقوں کو سندھ کے عام لوگوں کو غریب بنانے کا ٹاسک ملا ہوا ہے۔ سندھ کے لوگوں کی کثیر رخی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ بغیر کسی جواز کے مصنوعی مہنگائی کے ذریعے لوگوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ سود کاکاروبار عروج پر ہے جس کی وجہ سے لوگ خود گروی ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ پولیس اس کالے کاروبار میں شریک اور سود خوروں کے سرمایہ کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہے۔ سود خوروں کے دباؤ اور پولیس کے خوف کی وجہ سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دھوکہ باز ٹولے سرگرم ہیں۔ جو لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر انہیں لوٹ رہے ہیں۔ کئی عشروں سے جاری اس غیر قانونی کاروبار کو حکومت روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی ایک مثال ڈان گولو ہے۔ جو سینکڑوں خانددانوں سے کروڑہا روپے کا فراڈ کر کے فرار ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کو بااثر افراد اور پولیس کا ساتھ اور چھتری حاصل ہے۔

کوئی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کام تب تک نہیں چل سکتا جب تک اس کو انتظام اور اختیار کی کسی نہ کسی سطح پر سرپرستی حاصل نہ ہو۔ کسی طور پر یہ بات نہیں مانی جاسکتی کہ غیر قانونی کاموں سے پولیس بے خبر ہے۔ اندھا تو انصاف ہوتا ہے۔ لیکن قانون کسی طرح سماعت اور بصارت کھو بیٹھا ہے کہ اس کوسندھ میں سود کا کاروبار اور دھوکہ دہی نظر نہیں آتے؟یہ دونوں کاروبار پولیس اور بااثر افراد کی حمایت کے بغیر کس طرح چل رہے ہیں۔ سود کا کاروبار آج کل کا نہیں۔ سودخور عام لوگوں کو مختلف پھندوں میں پھنساتے ہیں۔ سود کے بجائے قرض کے نام پر قانونی دستاویز لکھوا لیتے ہیں۔ اکثر شہروں اور گاؤں میں سود خوروں کا اہم شکار سرکاری ملازمین ہیں۔ کسی مجبوری میں یہ لوگ قرض لیتے ہیں۔ اس کے عوض سود خور ان کی پوری چیک بک بلینک دستخط کراکے اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہر ماہ ان ملازمین کی تنخواہ یہ سود خور بینک سے اٹھا لیتے ہیں۔ گھر کا گزارہ کرنے اور خرچہ چلانے کے لئے ان سرکاری ملازمین کو ان سودخوروں سے مزید قرضہ لینا پڑتا ہے ۔ یوں سود در سود کا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ لوگ مر جاتے ہیں لیکن قرضہ نہیں اترتا۔ مقامی پولیس، بینک افسران بھی سود خوروں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اگر کوئی ملازم ان سود خوروں سے تنگ آکر بینک کو درخواست دیتا ہے ، تو پہلے سے موجود دستخط شدہ چیک کی بنیاد پر اس ملازم کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ 420 کے تحت درج کر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ سود خور کو پولیس کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ایک ملازم کا یہ حشر دیکھ کر دوسرے ملازمین سود خور کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ سب کچھ بیچ کر اور آخر میں پنشن بھی سود خور کو دے دیتے ہیں لیکن پھر بھی ان کو چھٹکارا نہیں ملتا۔

چھوٹے کاشتکار فصل کی بوائی کے لئے بیج، کھاد اورزرعی ادویات سود پر لیتے ہیں۔ حالت یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ قرضہ اتارنے کے لئے زمین بیچنی پڑتی ہے۔ یہ کالا کام روکنا جن کی ذمہ داری ہے وہ اس نظام کو مضبوط کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہماری مراد سرکاری ٹولہ یعنی پولیس ، بینک عملہ اور بااختیار اور بااثر افراد ہے۔ اس صورت میں سود اور دھوکہ دہی کا کاروبار کس طرح سے رک سکتا ہے؟

آج کل جس طرح گٹکے اور مین پوری کے خلاف موثر کریک ڈاؤن کر کے اس زہر کو بند کرایا گیا ہے سندھ میں سود اور دھوکہ دہی کے خلاف بھی اسی طرح کے جرأتمندانہ اقدام کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان سود خوروں اور دھوکہ بازوں کو ظاہر کریں اور ان کے خلاف ثبوت پیش کریں۔ غیر قانونی سود کا کاروبار اتنا منظم ہے کہ سود خور کمزوری یا ثبوت کا کوئی راستہ نہیں چھوڑتا۔ اس کاروبار کا خاتمہ کسی سپیشل ٹاسک فورس کے بغیر ممکن نہیں۔

محکمہ آبپاشی کا احتساب کب ہوگا؟ کے عنوان سے روز نامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ پانی کی قلت سندھ میں مستقل عذاب بنی ہوئی ہے۔ ویسے تو گزشتہ کئی برسوں سے پانی کی قلت کامسئلہ درپیش ہے، لیکن رواں سال سندھ نے جس قلت کا ساما کیا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اول یہ کہ اوپر سے پانی کی تقسیم کا معاملہ ہے۔ وہاں سے جو تھوڑا بہت پانی سندھ تک پہنچتا ہے اس کو آخری سرے تک پہنچانا محکمہ آبپاشی کی ذمہ داری ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ بڑے زمینداروں کی ضرورت پوری کر کے نیچے چھوٹے کاشتکاروں کو پانی سے محروم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک روز کے اخبارات اٹھا کے دیکھیں پانی کی قلت کے خلاف سندھ بھرمیں چھوٹے کاشتکاروں کے مظاہرے اور احتجاج رپورٹ ہوئے ہیں۔ پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ گندم کے لئے باردانہ نہ ملنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا مسلسل حکمرانوں کی توجہ اس حساس مسئلے کی جانب مبذول کراتا رہا ہے۔ سندھ کی اکثریت کے روزگار کا ذریعہ زراعت پر۔ زراعت کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا مناسب حل اگر نہیں تلاش کیا جاتا، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہاتھوں سے سندھ کے عوام کو بھوک اور بدحالی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ زراعت کے لئے پانی بنیادی جز ہے۔ یہ معاملہ اپنی جگہ پر کہ پانی کی قلت میں پنجاب کو وفاق کی حمایت حاصل ہے ، لیکن اس سچائی سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتی کہ جو پانی سندھ میں پہنچتا ہے اس کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی۔ حکمران جماعت کے بڑے جاگیرداروں کی پانی پر اجارہ داری ہے، اس کا حساب وفاق نہیں سندھ حکومت کو لینا ہے۔ سندھ حکومت کو اس معاملے میں اپنے نوازنے کی پالیسی ترک کرنی پڑے گی۔ بصورت دیگر سندھ کے عوام یہ رائے قائم کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی میں حکومت بھی شامل ہے۔ سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ بلاتاخیر چھوٹے کاشتکاروں کو بلاامتیاز پانی کی فراہمی یقینی بنائے، جو جمہوری حکومت ہونے کے ناتے اس کا فرض ہے۔


ای پیپر