غفلت کے نقصانات
27 اپریل 2018 2018-04-27

ہم بین الاقوامی یا قومی مصلحت کا شکار ہوتے ہوتے ملک کا کافی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔لیکن ہم اس مصلحت کو پور ا کرنے میں بضد ہوتے ہیں ۔ہمارے سول اور فوجی حکمرانوں کا مزاج تقریباًملتا جلتا ہے یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں کے مزاج کے اندر ضد ، اناء اور تکبرانہ سوچ ملتی جلتی ہے یہ ضد ،اناء اور تکبرانہ سوچ ملک کے مسائل حل کرنے میں سب سے بڑی روکاوٹ بن جاتی ہے۔ میں کئی مثالیں یہاں تحریر کر سکتا ہوں لیکن اس تحریر میں جس موضوع پر لکھنا مقصود ہے وہ فاٹا کے عوام کے مسائل ہیں ۔فاٹا کے عوام پچھلے دس بارہ سال سے گھمبیر مسائل کا شکار ہیں ۔پہلے طالبان ان پر مسلط تھے ۔جب طا لبان اس خطے میں منظم ہو رہے تھے اس وقت بھی ہمارے سکیورٹی ادارے اور اس وقت کے حکمران پرویز مشرف نے اس خطے کو کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ توجہ نہ دینے کی وجہ سے طالبان وہاں منظم ہوئے۔ فاٹاکے عوام ملک پاکستان میں رہتے ہوئے بھی طا لبان کے رحم کرم پر تھے اور طالبان نے ملک میں رہتے ہوئے ملک کے قوانین کو ملیا میٹ کرتے ہوئے اپنی علیحدہ سے حکمرانی قائم کر دی۔اسلام کے نام پر معصوم بچوں کوورغلا کرملک کے اندر قتل وغارت کی انتہا کر دی۔ طالبان کے آنے سے پہلے بھی فاٹا کے عوام قومی دھارے میں نہ ہونے پر شکایت کرتے تھے اور طالبان کے جانے کے بعد بھی فاٹا کے عوام یہی رونا رو رہے ہیں لیکن آج بات صرف قومی دھارے پر لانے کے لیے نہیں بلکہ بات اس سے بھی آگے جا چکی ہے۔آج فا ٹا کے عوام جو اپنے گھروں سے دربدر ہوگئے تھے یعنی گھر سے بے گھر ہونے کے بعدجو تکالیف فاٹا کے عوام نے برداشت کیں وہ ریاست کے لیے قربانی اور وفاداری کی انتہا ہے ۔اور اب جب کامیاب آپریشن اور طالبان کے جانے کے بعدجب

گھروں کا وآپسی کا سفر شروع ہواتوسارے کا سارا انفراسٹکچرجو تباہ ہو چکا ہے۔ سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں۔ نئی نسل تعلیم سے محروم ہو رہی ہے ۔ آنے والی نسل احساس محرومیوں اور غربت میں جنم لے گی یعنی اب سوال فاٹا کے عوام کی موجودہ اور آنے والی نسل کا ہے ۔مو جودہ نسل تباہی کے دہلیز پر کھڑی ہے ۔اور آنے والی نسل بھی ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولے گی جہاں نہ تو انفرا سٹکچر ہوگا اور نہ ہی درس و تدریس کا کوئی خاص انتظام ہو گا محض چند ایک کیڈٹ کا لج کھولنے سے اتنے بڑے علاقے کو کور نہیں کیا جا سکتا۔ ایک علاقے میں رہنے والے عوام سے کہاں تک قربانی لی جا سکتی ہے۔ آج فاٹا کے عوام قومی دھارے میں آنے کے لئے التجا کر رہے ہیں ۔دھرنوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں بھی فاٹا کے اراکین قومی دھارے پر آنے کے لیے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں ۔لیکن ہمارے حکمران فاٹا کے عوام کی آواز سننے کے بجائے اپنی سیاست سے کا م لے رہے ہیں ۔ یعنی ہمارے حکمرانوں کو سیاست قومی مفادات سے زیادہ عزیز ہے ۔ قومی دھارے کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ لاپتا افراد کا ہے ۔ وہ افراد جو بغیر کسی قانون کے لاپتا ہے۔ یا کسی جرم میں مبتلا ہونے کے ساتھ کسی ادارے کے پاس ہیں توقا نون کے مطابق ان کو سزا دی جائے تا کہ ان کے اپنوں کو بھی اس بات کا علم ہو۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ ایک کمیشن بنا کر اس مسئلے کا حل نکالا جائے ۔فاٹا کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے نہ تو فاٹا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کے دوسرے علاقوں میں ۔پہلے بھی ہم یہ غلطی کر چکے ہیں کہ ہمارے سابقہ حکمرانوں نے اس علاقے کو بے یارو مددگار چھوڑا ہوا تھابلکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کسی بھی حکومت نے فاٹا کو قومی دھارے پر لانے کے لیے سنجیدہ کو شش نہیں کی ۔ اس کے نتیجہ میں ریاست پاکستان اور اس کے عوام کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ۔اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہمارے حکمران غفلت سے کام لے رہی ہیں۔ہمارے حکمران فاٹا کے عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ما سوائے پاکستان آرمی کے ۔یہ ادارہ تھوڑابہت کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ایک بات بہت اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ سول انتظامیہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان آرمی براہ راست عوام میں انتظامیہ کا کام سر انجام دے رہی ہے۔جو بہت خطرناک ہے کیوں کہ جب فوجی ادارے براہ راست عوام کے مسائل میں دخل اندازی کرتے ہیں تو عوام کی شکایات بڑھ جاتی ہیں ۔جس سے ادارے اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں ۔ وہ ادارہ عوام میں اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے ۔ پاکستان آرمی ایک منظم ادارہ ہے جس کا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے ۔ اور عوام کا پاکستان آرمی پر کافی اعتماد ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اعتماد کم ہو جائے جو ملک کے لیے کافی نقصان دہ ہے ۔ملک کے اندر جرائم کو روکناملک میں عدل وانصاف کو قائم رکھنا اور عوامی مسائل کو حل کرنا حکمرانوں کے ساتھ سول انتظامیہ اور دوسرے اداروں کا کام ہے۔اگر وقت پر ان مسائل کا حل تلاش نہیں کریں گے تو اس کا خمیازہ بعد میں بھگتنا پڑے گا۔آج ہمارے پاس وقت ہے ۔ہمارے سکیورٹی ادارے اور حکمرانوں کو اس ایشو پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر فاٹا کے عوام خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے خواہش مند ہوں جو کہ اکثریت کی رائے ہے تو اس کو ضم کیا جائے ۔یا پھر فاٹا کے عوام علیحدہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں تو اس پر بھی حکمرانوں کو اتفاق کرنا چاہیے ۔لیکن اس طرح ریاست کے کسی حصے کی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ فاٹا کے عوام کے ساتھ ساتھ قیام امن کے لیے فاٹا کو قومی دھارے میں لانا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ اور وقت پر مسائل کا حل ملک و قوم کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔کیونکہ اسی میں ریاست کی فلاح ہوتی ہے ۔


ای پیپر