انسانیت کو درپیش چیلنج اور فکرِ اقبالؒ
27 اپریل 2018 2018-04-27

ایک ماہ قبل جب اقبال اکادمی کی جانب سے ای میل موصول ہوئی کہ ادارہ ’’قومی اقبال کانفرنس‘‘منعقد کر رہا ہے اور آپ کی شرکت کا خواہش مند ہے تو مجھے یہ جان کر خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی۔خوشی اس بات کی تھی کہ علامہ اقبالؒ کے حوالے سے مدت بعد( اقبال اکادمی کی جانب سے) کوئی اچھی کانفرنس منعقد ہونے جارہی تھی اور حیرت اس بات کی تھی کہ یہ کانفرنس سولہ سال منعقد ہونے جا رہی تھی۔سولہ سال سے اقبال اکادمی بھی موجود ہے اور جناب منیب اقبال بھی(جو اس کانفرنس کے صدر تھے)مگر آج تک نہ تو اس ادارے کو خیال آیا اور نہ منیب اقبال کو ۔اقبال کے نام پر کانفرنسیں پوری دنیا میں کہیں ہو ںیا نہ ہوں‘مگر اقبال اکادمی کو یہ کام سالانہ بنیادوں پرکرنا چاہیے تھا۔اقبال اکادمی پاکستان قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ‘حکومتِ پاکستان کا آئینی ادارہ ہے جس کے مقاصد اور اہداف میں یہ بات شامل ہے کہ اقبالؒ کے افکار کی تفہیم و ترویج اور ان کے کام کی اشاعت کی جائے مگر قابلِ افسوس امر ہے کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ سولہ سال نہ تو کئی کانفرنس منعقد کروا سکا اور نہ ہی اقبال پر کوئی بڑا کام سامنے آیا۔آج اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد محمد بخش سانگی(ناظم اکادمی) اور منیب اقبال(صدر کانفرنس) کو یہ خیال آیا کہ اقبال کو یاد کرنا چاہیے اور اس پر خوشی کی بات یہ کہ بالکل نئے اسکالرز کو سامنے لانا چاہیے۔علامہ کو چونکہ نئی نسل سے بے تحاشا امیدیں وابستہ تھیں سو اس خیال سے کانفرنس میں مقالات پیش کرنے والے اسکالرز میں ذیادہ تر نوجوان تھے یا وہ لوگ جو ابھی ریسرچ کا کام کر رہے ہیں۔
قومی اقبال کانفرنس۸۱۰۲ء کاافتتاح چوبیس مارچ کی صبح نو بجے ہونا تھا جبکہ گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ کے انتظار میں یہ اففتاح دو گھنٹے دیر سے ہوا حالانکہ ہال میں ڈاکٹر معین الدین عقیل‘ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی‘ڈاکٹر تحسین فراقی‘ڈاکٹر ایوب صابر اور ڈاکٹر زاہد منیر عامر سمیت کئی ماہرینِ اقبالیات موجود تھے مگر ان تمام کو حکومتی نمائندے کے لیے دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔اس سے پہلے بھی دو دفعہ اہلِ قلم کانفرنس میں یہ معاملہ ہواکہ صدر ممنون
حسین اور نواز شریف کے انتظار میں تین تین گھنٹے تقاریب تاخیر کا شکار ہوئیں۔میرے خیال سے ہال میں موجود سینکڑوں اساتذہ کرام‘محققین ‘ دانشوروں اور اقبال شناسوں کے لیے یہ بے عزتی کا مقام تھا جو اس دن دیکھا گیا‘ابھی تو شکر ہے ہمارے موبائل نہیں باہر رکھوائے گئے ورنہ اس سے قبل یہ بھی سب ہو چکا ہے۔جہاں تک اقبال کے پیغام کا سوال ہے تو اس بات سے کسی کو مفر نہیں کہ اقبال کا آئیڈیل نوجوان اور استاد رہا ہے۔ کانفرنس میں ستر کے قریب پروفیسرز اور اسکالرز نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اقبال کی تفہیم کی اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی مگر منتظمین کی جانب سے دیا جانے والا بنیادی موضوع’’ انسانیت کو درپیش چیلنج اور فکرِ اقبالؒ ‘‘تھا۔زیادہ تر مقالہ نگار اسی موضوع کا احاطہ کرتے رہے۔علامہ اقبال ؒ ایک ہمہ گیر اور توانا فکر رکھنے والے انسان تھے‘انہوں نے اس تبدیلی کو بہت پہلے محسوس کر لیا تھا جو آج ہم اکیسویں صدی میں دیکھ رہے ہیں۔ان کی شاعری پوری دنیا میں نہ صرف امن کا گہوارہ ہے بل کہ عالمی سطح پر موجود عصری اور معاشی فکر کو اجاگر کرنے میں بھی اپنا نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔علامہ اقبالؒ کے کلام کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کی عصر شناس فکر نے عالمی سطح کے دانشوروں اور فلاسفروں کو نہ صرف پڑھا بل کہ ان کو اپنا موضوع بھی بنایا۔اس سے نہ صرف انہیں نئی منزلوں کا شعور ملا بل کہ فلسفے کی گتھیاں سلجھانے میں بھی مدد ملی اورساتھ ہی ساتھ اپنے شعری جہان میں عصری معنویت کا پہلو پیش کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ان کے کلام میں موجود ہمہ گیریت کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ان کی آواز سے نہ صرف فارسی و اردو ادب متاثر ہوا بلکہ ان کی آواز سے عالمی ادب پر بھی گہرے ثرات مرتب ہوئے۔ حضرت اقبالؒ کے شعری جہان کا سفر کرتے ہوئے بارہا ایسے مقامات پر نظر رکتی ہے جہاں سے صاف پتا چلتا ہے کہ اقبالؒ بدلتی ہوئی دنیا کا نقشہ اپنی عمیق نظری سے دیکھ رہے تھے۔برطانوی سامراج سے لے کر ہندوانہ استحصال اور پھر تقسیم سے قبل کے فسادات تک تمام موضوعات اقبالؒ کے کلام میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔قرآن و حدیث کا گہرا مطالعہ اور سائنسی فکر کی تفہیم و تعلیمات نے ان کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔یہی وجہ ہے کہ اقبال کا کلام نہ صرف ایک خاص طبقے کی نمائندگی کرتا ہے بل کہ عالمی ادب پر بھی اس کے اثرات اردو اور فارسی سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔معاشرتی کسمپرسی سے لے کر عصری خوبیوں اور خامیوں سے جڑ کر جس طرح اقبال نے اپنا الگ شعری جہان تخلیق کیا ان کی مثال نہ تو ان سے قبل ملتی ہے اور نہ ہی ان کے بعد۔عصرِ عاضراور بدلتی ہوئی دنیا میں بھی جب فکرِ اقبالؒ کی معنویت تلاش کریں تو ایک ہمہ جہت نظامِ معاشرت کی طرف نظر جاتی ہے۔علمِ اقتصادیات سے لے کر فنونِ لطیفہ علامہ اقبالؒ کی کثیر الجہات فکری شخصیت ہر شعبہ حیات کی طرف توجہ مبذول کرواتی ہے۔مجھے یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے اس کانفرنس میں اقبال اکادمی کے شانہ بشانہ کام کیا اور عرفان صدیقی دونوں دن کانفرنس میں موجود رہے بلکہ مندوبین کے اعزاز میں ایک عشائیہ بھی دیا۔ہمارے ہاں عموما یہ ہوتا ہے کہ اہم موضوعات پر کانفرنسیں تو منعقد ہو جاتی ہیں مگر وہاں پڑھے جانے والے مقالات کانفرنس ہال سے باہر نہیں جا پاتے۔میری کانفرنس کے منتظمین سے یہ گزارش ہے کہ ان مقالات کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے جو دو دنوں میں وہاں پڑھے گئے۔تاکہ اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکے کہ اکیسویں صدی کا اقبال شناس اسکالر اقبال کے کلام کو کس نظر سے دیکھتا ہے یا اس کے نزدیک اقبال کا شعری جہان عصری تقاضوں سے کتنا ہم آہنگ ہے۔اگر دیگر کانفرنسوں کی طرح یہ مقالات بھی ایوانِ اقبال تک محدود ہو کر رہ گئے تو اس کانفرنس کا بالکل بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اس کے دور رس اثرات اسی صورت میں ممکن ہیں کہ جو مکالمہ قومی اقبال کانفرنس۸۱۰۲ء میں شروع کیا گیا اس کی گونج پوری دنیا میں جانی چاہے اور ۹۱۰۲ء کی کانفرنس تک اس مکالمے سے مزید کئی مکالمے جنم لینے چاہیں۔
آخر میں علامہ کا ایک شعر:
اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تاخاکِ بخارا و سمر قند


ای پیپر