ہمارے نظام تعلیم کا ایک بڑا المیہ
27 اپریل 2018 2018-04-27

گزشتہ دنوں دیپالپور کے مشہورترین تعلیمی ادارے اے آر سائنس سکول میں ایک تربیتی و اصلاحی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ادارہ کے ڈائریکٹرمعروف ماہرتعلیم میاں محمد اسلم ڈولہ کی دعوت پرتشریف لانے والے عالمی شہرت یافتہ ٹرینر و موٹیویشنل سپیکرسید قاسم علی شاہ نے موجودہ تعلیمی اداروں میں پروان چڑھنے والی کچھ روایات اور حقیقی کامیابی پر بہت مفصل گفتگو کی جس نے حاضرین کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا اور یقیناََ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جس پر ہمارا نظام تعلیم چل کر ترقی و کامیابی حاصل کرنے کے نام پر معاشرتی و اخلاقی طور پر تباہ ہوتا چلاجارہاہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارباب اختیار اور ماہرین تعلیم کو اس جانب ضرور توجہ دینی چاہئے ورنہ ایک وقت آئے گا کہ ممکن ہے ہماری شرح خواندگی سو فیصد کو پہنچ جائے لیکن اس کے باوجود ہم معاشرتی و اخلاقی لحاظ سے پستی کی ان گہری کھائیوں میں گرچکے ہوں گے کہ جن سے باہر نکلنا ہماری نسلوں کیلئے انتہائی مشکل ہوگا۔

سید قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان دنوں ہر سکول اور کالج کے دروازے اور شہر کے ہر چوک پر بڑے بڑے بورڈز اور پینافلیکسز پر ادارے میں اعلیٰ نمبروں سے پاس ہونیوالے بچوں کی تصاویر لگی ہوتی ہیں جن کو دیکھ کرہی لوگ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ ادارہ کتنا بہتر پرفارم کررہاہے اور اس میں پڑھنے والے بچے کتنے ذہین ہیں جو کہ اس لحاظ سے ایک اچھی بات ہے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا نمبرز اور پوزیشنز ہی کامیابی کی گارنٹی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہ کامیابی اصل میں کہتے کس کو ہیں ؟ کیا اس بندے کو آپ کامیاب کہہ سکتے ہیں جس نے سکول کی ہرکلاس میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی ہو اورکالج میں ہرسال بڑے بڑے اعزازات حاصل کرتا رہاہو مگر وہ والدین اور اساتذہ کا نافرمان ہو یااس بندے کو ہم کامیاب کہہ سکتے ہیں جو اپنی اعلیٰ ڈگریوں کی بناپر کسی اعلیٰ پوسٹ پر تعینات ہوجائے مگر وہاں بیٹھ کر وہ عوام کی توہین کرے اور ان کو کیڑے مکوڑے سمجھے ؟ ہرگز نہیں میرے خیال کے مطابق وہ

سکول سے حاصل کردہ بہترین نمبرز ،کالجز کے بڑے بڑے ایوارڈز اور شاندار یونیورسٹی ریکارڈ کے باوجوددنیا کا ناکام ترین انسان ہے۔

ملک میں 118یونیورسٹیاں ہیں اور ملک میں پی ایچ ڈی پروفیسرز کی تعداد 11670ہے مگر آپ اپنے بچوں سے پوچھ لیں کہ ان میں سے کتنے پروفیسرز اور لیکچرز آپ کے بچوں کی پرسنیلٹی گرومنگ کررہے ہیں کتنے ہیں جو بچوں کو صرف نمبرز کے چکر میں لگانے کی بجائے ان میں اخلاقیات اور مذہب کے پہلو کو بھی اجاگرکرنے کی کوشش کررہے ہیں ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کی میموری اور رٹے کو ہی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں آج ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم حقیقی کامیابی کے میعار کو سمجھیں ورنہ ہماری نسل پڑھ لکھ کر بھی ناکام رہے گی ۔

کاش کہ میں آئندہ دیپالپور آؤں تو مجھے ایسے بچوں کی تصاویر نظر آئیں جن کے نیچے د رج ہوکہ یہ بچہ والدین اور اساتذہ کا انتہائی ادب کرتا ہے،مجھے ایسے بچوں کی تصاویر نظر آئیں جو دس سال کی عمر کے باوجود نماز نہیں چھوڑتے اور ایسے بچے بھی ان بورڈوں پر نظر آئیں جن کا امتیاز یہ ہو کہ وہ صفائی ستھرائی میں سب سے بہتر ہوں ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں کرنی ہوگی کہ کردارسازی اور پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ کے بغیر نمبرز فائدے کی بجائے نقصان دہ ہیں کیوں کہ اعلیٰ کردار سے عاری یہ سٹوڈنٹ بہترین نمبرز لے کر جس بھی شعبے میں جائیں گے وہاں پر انسانیت کی بجائے پیسے کو ترجیح دیں گے آج سے پندرہ بیس سال پہلے اتنی ہڑتالیں نہیں ہوتی تھیں مگر اب ہر ڈیپارٹمنٹ میں ہڑتالیں اور احتجاج ہورہا ہے ۔

گزشتہ دنوں ڈاکٹروں کی ہڑتال تھی تو کسی نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا کہ آپ کے احتجاج کی وجہ سے لوگ مررہے ہیں تو اس کا جواب تھا کہ ہم کیا کریں مرتے ہیں تو مرجائیں ہم ساٹھ لاکھ روپے لگاکر ڈاکٹربنے ہیں اگر ہمیں اس کا مناسب ریٹرن نہیں ملے گا تو ہم کام نہیں کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ اگر ہمارے ان نوجوانوں کی کردار سازی پرتوجہ دی جاتی ان کو سیرت طیبہؐ پڑھائی جاتی تو آج ان کا جواب اس طرح کا نہ ہوتا ہمیں اپنی نسلوں کو بچانے اور پاکستا ن کو خوشحال ملک بنانے کیلئے صرف نمبرز گیم پر انحصار کرنے کی بجائے آج ہی سے کچھ عہدے کرنے ہوں کہ اور اس کیلئے عوام میں شعور بھی بیدار کرنا ہوگا نمبر ایک ہمیں یہ عہدکرنا ہوگا کہ ہم اپنے گھراوراپنے شہر کوصاف ستھرا رکھیں گے اور صفائی تو ایسی چیز ہے جس کو ہمارے مذہب اسلام نے نصف ایمان قراردیا ہے نمبر دو۔اپنے بچوں کی کردار سازی پر توجہ دیں گے اور اس کیلئے سب سے پہلے ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہوگا کیوں کہ بچہ جودیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے ،تیسرا یہ کہ ہم شکرگزاری کو اپنی عادات میں شامل کریں گے یہ شکرگزاری ہر اس بندے کی ہونی چاہئے جس نے آپ کیلئے کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی کیا ہو ہمارا المیہ ہے کہ ہم نہ اللہ کا شکراداکرتے ہیں اور نہ ہی اس کے بندوں کا شکریہ اداکرنے کی ہمیں عادت ہے جس کیوجہ سے نعمتیں ہم سے چھین لی جاتی ہیں چوتھی یہ کہ نصاب میں سیرت پاکؐ کو شامل کرنے کیلئے مہم چلائیں گے اور نمبر پانچ نماز و تلاوت کو کبھی نہ چھوڑیں ۔ہمارا دین اسلام فطرت کے عین مطابق اور کامیاب دنیا و آخرت کی ضمانت ہے لیکن ہم آج اس کو فراموش کرکے رسوا ہورہے ہیں یہاں انہوں نے معروف یہودی مصنف مائیکل ہارٹ کی 1976میں لکھی جانیوالی مشہورزمانہ کتاب ''دنیا کی سوعظیم ترین شخصیات'' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے بھی جب ان شخصیات کو مرتب کیا تو سب سے پہلا نام محمد عربیؐ کا ہی تھا اس نے لکھا کہ محمدؐ کی ذات کائنات کی سب سے متاثر کن ترین شخصیات میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں۔ اور آج ہم اسی نبیؐ کے امتی ہوکر ان کے اسوہ حسنہ کو فراموش کرکے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔ سیدقاسم علی شاہ نے حکومت سے تعلیمی نصاب سے مسٹرچپس جیسی شخصیات کو نکال کرسیرت پاکؐ کو شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ آخر میں شرکاء نے اس علمی و فکری مجلس کے بہترین انعقاد پرڈائریکٹراداراہ میاں اسلم ڈولہ،میاں انس اسلم ڈولہ، چوہدری عرفان سگی اور خالدمحمود سمیت تمام انتظامیہ کا شکریہ اداکیا۔


ای پیپر