پی ٹی آئی۔۔۔ افضل چن اور لالہ عیسیٰ خیلوی
27 اپریل 2018 2018-04-27

جن لوگوں نے میرے پرکھوں بزرگوں اور بڑوں کے ملک پاکستان کا نام ساری دنیا میں روشن کیا ہے ان میں عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا نام بھی سر فہرست ہے۔ تھر سے اٹھنے والے اس خوبصورت اور مسحور کن آواز نے فجی کے جزائر سے لے کر دنیا کے دو سو ممالک میں ملک عزیز کی نمائندگی کی۔ اور ملک عزیز کی ناموری کو چار چاند لگائے۔ پوری دنیا اسے لالہ کے نام سے جانتی ہے اور یہ ٹائٹل پاکستان میں صرف چند لوگوں کے حصے میں آیا یعنی لالہ عالم لوہار لالہ سدھیر اور پھر لالہ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ۔ اب کچھ کچھ آواز شاہد خان آفریدی کے بارے میں بھی سنی جاتی ہے۔ لالہ عرف عام میں بڑے بھائی یا خاندان کے بڑوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس لفظ کا مونث بھی نہیں ایجاد ہوا۔ میں نے اس شخص میں بہت خوبیاں دیکھیں۔ یہ شخص شریف صاف گو، ایماندار سادہ لوح سچا اور کمٹڈ آدمی ہے۔ (سوائے ہمارے بھائیوں کے لالہ نے ہر جگہ اپنی کمٹمنٹ کو پورا کیا ہے) جب عمران خان نے کینسر ہسپتال شروع کیا تو اس شخص

نے دل و جان سے اس ہسپتال کے لیے دامے، درمے سخنے اور قدمے خدمت کی۔ لالہ نے بغیر کسی لالچ اور طمع کے عمران خان کا بھر پور ساتھ دیا۔ اندرون اور بیرون ملک اپنی خدمات پیش کیں۔ جب پی ٹی آئی معرض وجود میں آئی تو لالہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کا کشکول پھینکا اور پی ٹی آئی کے کارواں کا ہم سفر بن گیا۔ ایسی ہمسفری اختیار کی کہ عمران کے ہر جلسے کے روح رواں رہے۔ یہاں تک کہ آواز سے لے کر ساز تک کی خدمات بھی پیش کیں۔ اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما کی حیثیت سے اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ لالہ نے تاحیات پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم کو اپنا تخت و تاج اور اوڑھنا بچھونا قرار دیا اور افضل چن پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور لیڈر گردانے جاتے تھے۔ انہوں نے کڑے وقت میں بھی پی ٹی آئی کو داغ مفارقت نہیں دیا۔ دوسری اہم بات کہ چن صاحب پنجاب میں پی پی پی کے اعلیٰ اور مضبوط رکن سمجھے جاتے تھے۔ ان کے اچانک پی ٹی آئی میں شمولیت کے فیصلے نے پاکستان پیپلز پارٹی کے گراف کو نیچے گرا دیا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے اس فیصلے سے زرداری صاحب اور بلاول بھٹو زرداری کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ کیونکہ سندھ کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی پی پی اپنا سیاسی مورال اور وقار کھو چکی ہے۔ان سے پہلے بھی پی پی پی کے بہت بڑے بڑے تھم، اپنی پارٹی کی چھت کو گرا چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے شاہ محمود قریشی، فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل، شفقت محمود، راجہ ریاض، سید صحام بخاری، فواد چوہدری ، غلام مصطفیٰ کھر، امتیاز صفدروڑائچ، محمد اشرف سوہنا، نور عالم خان، رانا آفتاب نے اپنا رُخ پی ٹی آئی کی طرف موڑا۔ ق لیگ سے جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان۔ عامر ڈوگر، غلام سرور خان، ظہیرالدین، کامر صادق، ریاض فتیانہ، سعید ورک نے اپنی سیاسی اڑان پی ٹی آئی کے سپرد کروائی۔ ن لیگ سے اختر کانجو، لیاقت علی جتوئی، چوہدری محمد سرور (سابق گورنر پنجاب) رمیش کمار نے اپنی تمام جذبات پی ٹی آئی کو پیش کر دیں۔ رہتی کسر ایم ایم اے سے فیاض چوہان، اعظم سواتی اور ایم اے ایم سے سمیع الحق نے نکالی۔ آخری چھینٹا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ڈال کر پی ٹی آئی کے سفید دامن کو داغ دار کر دیا۔

لیڈر کا اپنی سیاسی جماعت یا سیاسی پلیٹ فارم سے اپنی وفاداریاں تبدیل کر لینا در اصل اپنے ضمیر کے ساتھ غداری ہے۔اپنے ملک کے ساتھ غداری ہے۔ اگر آپ کو اپنی پارٹی کے سربراہ سے اختلاف ہے۔ اگر آپ کی سیاسی پارٹی کرپشن میں ملوث ہے۔ اگر آپ کی پارٹی ملکی اور مفاد عامہ میں اہم کردار ادا نہیں کر رہی ہے۔ تو آپ اس سلسلے میں کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ اپنی مثبت رائے دے سکتے ہیں۔ پارٹی میں بہتری کے لیے دلائل دے سکتے ہیں۔ حق اور سچ کی بات کہہ سکتے ہیں۔ عوامی حقوق کی پاسداری کے لیے سچ کا علم بلند کر سکتے ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی بناء پر پارٹی چھوڑی جا سکتی ہے۔ اگر آپ ان وجوہات کی بناء پر ایسا کرتے ہیں تو آپ اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں۔ آپ اپنے مفاد کا سوچتے ہیں۔ آپ کے دل میں ملک اور عوام کا کوئی درد نہیں ہے۔ کوئی دکھ نہیں ہے اور کوئی خیال نہیں ہے۔ پارٹی چھوڑنا حماقت ہے اور اپنے آپ کو ’لوٹا‘ سے آشنا کروانا ہے۔ اور اپنے آپ پر بلاوجہ انگلیاں اٹھوانا ہے۔

پچھلے دنوں مجھے واٹس اپ پر ایک تصویر موصول ہوئی۔ تصویر دیکھ کر میرے ہوش و حواس اڑ گئے۔ ضیاء الحق چیف آف آرمی سٹاف کی وردی میں ملبوس جناب ذوالفقار علی بھٹو سے جھک کر اور ہلکی سی مسکراہٹ میں سلام لے رہے ہیں۔ تصویر کے خال و خد بتا رہے تھے کہ جو سلوک ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا کیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسے کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ اور قدرت نے جو سلوک جسٹس مولوی مشتاق اور سابق چیف جسٹس نعیم حسن شاہ سے کیا ہو گا وہ تو عالم ارواح میں ہی پوچھا جا سکتا ہے۔ بھٹو کی بے گناہ پھانسی کے بارے میں تو ایک شاعر یوں رقمطراز ہیں۔

تجھ کو مرنا تھا تجھے موت بھی آجانی تھی

دکھ تو یہ ہے کہ تیرا قاتل تیرا درباری تھا

لہذا آستین کے سانپ ہی اپنوں کو ڈستے ہیں۔ خان صاحب کو بھی اپنے نئے درباریوں سے چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ اپنے خاص اور وفادار لوگوں کو ٹکٹ دینے چاہئیں۔ نئے آنے والے دیوانوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے مثبت وفادار ایماندار اور مخلص ساتھی عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی جیسے انسان کو ٹکٹ عطا کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنے سیاسی پلیٹ فارم سے ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔ اور اپنی پارٹی کے لیے بھی کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار کرسکیں کہ پارٹی کے سیاسی دروازے سے کس کو اندر آنے دینا ہے اور بیس لوگوں کی طرح پارٹی سے کس کو نکالنا ہے۔ اکیلے ایک بندے کی رائے تو صرف آخر نہیں ہو سکتی۔ سیانے کہتے ہیں ایک، ایک اور دو گیارہ۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ لالہ عیسیٰ خیلوی کو پارٹی میں کوئی مناسب عمدہ دیں تاکہ بوقت ضرورت ان سے بھی کوئی مشورہ لیا جا سکے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔


ای پیپر