سوچ بدلنے کی ضرورت
27 اپریل 2018 2018-04-27

انسان کی یہ عادت ہے کہ اس کو دوسروں میں بہت خامیاں نظر آتی ہیں جبکہ وہ اپنی خامیوں کو نہیں دیکھتا۔ دوسروں پر تنقید کرتا ہے لیکن اپنی اصلاح پر توجہ نہیں دیتاہے۔دوسرے لوگوں کی اچھائی کو بُرائی میں بدل دیتا ہے اور اپنی بُرائی کو اچھائی میں بدل دیتاہے۔وہ لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن انسان کی ایک اور عادت بھی ہے اور یہ اچھائی ہے ۔اچھا انسان پہلے اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور پھر دوسروں کا جائزہ لیتا ہے۔دوسرے لوگوں کو نیک کاموں کی تلقین کرتاہے ۔ پہلے خود وہ کسی بات پر عمل کرتاہے اور پھر دوسروں کو اس پر عمل کی تلقین کرتا ہے۔وہ ہمیشہ امن وامان کا درس دیتاہے ۔اچھائی اور بُرائی انسان کے ذہن میں ہوتی ہے ۔ وہ جسے چاہے عادت بنا سکتاہے۔

جب ہم بھارت کی بات کر یں تو واضح طور پردکھائی دیتا ہے کہ بُرائی کرنا اس کی عادت ہے جو شروع سے لے کر آج تک تبدیل نہیں ہوئی۔کبھی تو اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے اور کبھی سکھوں کے ساتھ ناانصانی کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ کشمیریوں پر بھی ظلم کرتاہے۔ بھارت ہر وقت سازشیں کرتارہتا ہے اور وہ ان سازشوں کو دوسرے ملکوں میں بھی لے جاتا ہے۔ بھارت شروع ہی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور بھارت نے کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مثال قائم کر دی ہے۔آئے دن پاکستان کے ساتھ کسی نہ کسی سرحد پر فائر نگ کھول کر سرحدی خلاف ورزی کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

بھارت اور اس کے قریبی اتحادی ممالک امریکہ اوراسرائیل نے عالمی سطح پر یہ سازش کی ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام غیرمحفوظ ہاتھوں میں جانے کا خدشہ ہے ۔آئیے اب حقیقت کی طرف بڑھتے ہیں کہ کس کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور کس کا غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔بھار ت ایک بڑا ملک ہے اس میں تین بڑی قومیں رہتی ہیں۔ایک ہندو، دوسری سکھ اور تیسری مسلمان۔ہندوؤں میں ذات پات کا تعصب اس حد تک پایا جاتا ہے کہ وہ سکھوں اور مسلمانوں کو اپنے ملک میں غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ بھارت ہندوؤں کا ہے اور جس نے بھی اس ملک میں رہنا ہے وہ غلام بن کر رہے۔اس کے برعکس سکھ اور مسلمان برابر کے حقوق حاصل کرکے رہنا چاہتے ہیں۔جوکہ ہندوؤں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ۔اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جلد ہی آنے والے وقت میں بھارت تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ ایک ملک ہندوؤں کا، دوسرا سکھوں کا اور تیسرا مسلمانوں کا ملک وجود میں آئے گا۔بھارتی ایٹمی پروگرام میں ہندو، سکھ اور مسلمان کام کر رہے ہیں۔جب بھارت تین حصوں میں تقسیم ہو گا تو ہر کوئی ایٹمی پروگرام پر اپنا حق جتائے گا۔ غور سے مشاہدہ کرنے پر یہ معلوم ہو تا ہے کہ ان حالات میں بھارت کا ایٹمی پروگرام غیر محفوظ ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

بھارت کے قریبی اتحادی اسرائیل کا مشاہد ہ کرنے پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسرائیل بھی اپنے ہمسایہ ممالک پر ظلم کر رہا ہے ۔ یہ مظالم دن بدن حد سے بڑھ رہے ہیں ۔ان حالات میں مستقبل قریب میں اس کے ارد گرد کے ممالک اسرائیل پر حملہ کر دیں گے اور اس پر قبضہ کرکے اپنی کھوئی ہوئی زمین کا خطہ واپس حاصل کر لیں گے۔ان حالات میں اسرائیل کا ایٹمی پروگرام بھی غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ امریکہ جو کہ ہمیشہ ہی سے بھارت اور اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے اس کے اپنے ملک کے حالات بھی دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔امریکہ بھی جنگوں میں حصہ لے کر معاشی طور پر بہت کمزور ہو گیاہے۔ان کے عوام میں بھی انتشار اور بے چینی بڑھ گئی ہے ۔کہتے ہیں جب بھوک بڑھتی ہے تو لڑائیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔اگر امریکہ کے بھی یہی حالات رہے تو آنے والے دنوں میں اس کی معاشی حالت اور بھی کمزور ہو جائے گی اور اس کے عوام سڑکوں پر آ جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی سا لمیت بھی خطرے میں پڑجائے گی۔وہ امریکہ جو دوسروں پر تنقید کرتا ہے ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا ایٹمی پروگرام بھی غیر محفوظ ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔

پاکستان نے کبھی بھی کسی پر الزام نہیں لگایا ۔پاکستان ثبوت کے ساتھ سچی بات کرتاہے۔وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمیشہ ہی سے امن و امان کا خواہش مند رہا ہے اور ہر وقت دوسرے ممالک کے درمیان صلح کرانے کا کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

دنیامیں اب ایسا ماحول بن گیا ہے کہ ہر ملک ایٹم بم کی ٹیکنالوجی ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتاہے۔ تمام بڑے ملک جتنی رقم جدید ترین ہتھیاربنانے پر خرچ کررہے ہیں اگر اتنی رقم وہ اپنے عوام کی فلاح وبہبود پر کریں تو اس سے ان کے ملک میں خوشحالی آئے گی۔ اسی طرح بھارت کو چاہیے کہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلا لے اوراپنے اندر موجود سازشوں کو ختم کر لے۔ اس کے بعد اس کو اپنے دفاع پر بہت زیادہ رقم خرچ نہیں کرنا پڑے گی اور وہی رقم اپنے عوام پر خرچ کرے۔ایسا کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے۔ بھارت نے اگر اپنے ملک اور عوام کو بچانا ہے تو اس کو کشمیر پر قبضہ چھوڑنا پڑے گااور اپنے عوام کو برابر کے حقوق دینا پڑیں گے۔اسی طرح امریکہ کو بھی جنگیں چھوڑ کر اپنے عوام پر توجہ دینا پڑے گی اور اس کو بھارت اور اسرائیل پر دباؤ ڈال کر کہنا پڑے گا کہ وہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ حل کریں ۔اگر بھارت ، امریکہ اور اسرائیل نے ان معاملات پر توجہ نہ دی اور ان مسائل کو حل نہ کیا تو آنے والے وقت میں اس کے بہت خطر ناک نتائج نکلیں گے۔


ای پیپر