ن لیگی حکومت کا چھٹا اور آخری بجٹ ،اپوزیشن کا شدید احتجاج ،پارلیمنٹ میں ہنگامہ کھڑا کر دیا

27 اپریل 2018 (18:04)

اسلام آباد :قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پورے مالی سال اورمنتخب رکن کی بجائے نامزد کردہ وزیر خزانہ سے بجٹ پیش کروانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آﺅٹ کیا،پیپلز پارٹی نے بجٹ تقریر کے دوران ایوان کا بائیکاٹ جاری رکھا جبکہ تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان میں واپس آ کر شدید نعرے بازی کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا گھیراﺅ کیا، پی ٹی آئی ارکان کے گھیراﺅ سے بچانے کےلئے حکومتی خواتین ارکان نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو اپنے حصار میں لئے رکھا ،اپوزیشن کی جانب سے ”ووٹ کو عزت دو“”شرم کرو حیا کرو....رانا کو بحال کرو“” بجٹ نامنظور“ ”وزیراعظم عمران خان“کے نعرے لگائے گئے، پی ٹی آئی کے ارکان نے مفتاح اسماعیل کے سامنے بجٹ دستاویزات پھاڑ کرلہرائیں،وزیرمملکت عابد شیر علی اور پی ٹی آئی کے مراد سعید اور امجد خان نیازی کے مابین ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی، حکومتی ارکان عابد شیر علی کو جبکہ پی ٹی آئی ارکان مراد سعید کو ایوان میں باہر لے گئے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کیا، بجٹ تقریر سے قبل اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس منتخب وزیرمملکت موجود ہیں مگر حکومت نے منتخب نہ ہونے والے شخص کو بجٹ پیش کرنے کےلئے نامزد کیا، حکومت نے آئین کی غلط تشریح کر کے مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنایا،دکھ اور تکلیف اس بات کی ہے کہ نواز شریف کا نعرہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو،مگر آپ خود ہی ووٹ کی عزت کو پامال کر رہے ہیں،منتخب وزیر خزانہ ہوتے ہوئے باہر کا بندہ لایا گیا، اس موقع پر اپوزیشن نے ”رانا کو بحال کرو”کے نعرے لگائے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بار بار کہا کہ پارلیمنٹ کو عزت دو مگر حکومت نے ہماری بات نہ سنی، آج بھی حکومت پارلیمنٹ کے باہر فیصلے کر رہی ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیر منتخب وزیرخزانہ بجٹ پیش کر رہا ہے، حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہے، مگر ان میں سے کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جو بجٹ پیش کر سکتا، حکومت نے بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے ”شرم کرو حیال کرو....رانا کو بحال کرو“ کے شدید نعرے بازی کی گئی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت نگران حکومت کےلئے بجٹ پیش کرنے بجائے پورا مالی سال کا بجٹ پیش کر رہی ہے جو نئی آنے والی حکومت کی حق تلفی ہے،اخلاقی طور پر حکومت کے پاس پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے، حکومت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کر رہی ہے۔

اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مفتاح اسماعیل کو بجٹ پیش کرنے کا کہا تو سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت اگر بضد ہے کہ اس نے غیرمنتخب رکن سے بجٹ پیش کروانا ہے تو ہم اس بجٹ تقریر کا حصہ نہیں بنیں گے ،اپوزیشن احتجاجاً ایوان سے واک آﺅٹ کرتی ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم کے علاوہ باقی تمام اپوزیشن جماعتیں واک آﺅٹ کر گئیں۔ پیپلز پارٹی واک آﺅٹ کے بعد بجٹ تقریر ختم ہونے تک ایوان میں واپس نہیں آئی اور اپنا بائیکاٹ جاری رکھا جبکہ تحریک انصاف کے ارکان اپنا واک آﺅٹ کرنے کے بعد دوبارہ ایوان میں واپس آ گئے اور بجٹ نامنظور کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔

تحریک انصاف کے ارکان نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا گھیراﺅ کیا ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے ارکان نے بجٹ دستاویزات پھاڑ کر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے سامنے لہرائیں، تحریک انصاف کے ارکان نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے مائیک بھی چھیننے کی کوشش کی مگر حکومتی ارکان نے بروقت مفتاح اسماعیل کو اپنے حصار میں لے لیا، اس دوران تحریک انصاف کے امجد خان نیازی، مراد سعید اور عابد شیر علی کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی، پی ٹی آئی کے مراد سعید نے وزیراعظم کی ڈائس پر چڑھنے کی کوشش کی مگر حکومت ارکان نے ان کی کوشش ناکام بنا دی، حکومت نے تحریک انصاف کی خواتین اراکین کی جانب سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو بجٹ تقریر کرنے سے روکنے کی کوشش کو ناکام بنانے کےلئے اپنی خواتین ارکان کو مفتاح اسماعیل کے سامنے کھڑا کر دیا، تحریک انصاف کے رکن مراد سعید نے چار دفعہ ڈائس پھیلانگتے ہوئے عابد شیر علی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی مگر پی ٹی آئی کے ارکان انہیں پکڑ کر ایوان سے باہر لے گئے جبکہ حکومتی ارکان عابد شیر علی کو پکڑ کر ایوان سے باہر لے گئے۔

مزیدخبریں