فلسطینی سائنسدان کا جسد خاکی آبائی علاقے پہنچا دیا گیا
27 اپریل 2018 (17:32) 2018-04-27

غزہ:ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں نامعلو موٹرسائیکل سواروں کے حملے میں شہید ہونے والے فلسطینی سائنس دان ڈاکٹر فادی البطش کا جسد خاکی آبائی علاقے غزہ پٹی میں پہنچا دیا گیا ، جسد خاکی غزہ لائے جانے پر اہم شخصیات نے استقبال کیا، البطش کے آخری دیدار کیلئے ہزراوں شہر ی ان کے گھر پر جمع ہوگئے،شہید کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔


تفصیلات کے مطابق ملا ئیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں نامعلو موٹرسائیکل سواروں کے حملے میں شہید ہونے والے فلسطینی سائنس دان ڈاکٹر فادی البطش کا جسد خاکی آبائی علاقے غزہ پٹی میں پہنچا دیا گیا ۔پروفیسر فادی البطش کوالالمپور میں ایک جامعہ میں پڑھاتے تھے۔ ڈاکٹر فادی البطش کا جسد خاکی ملائیشیا سے مصر کے راستے غزہ پہنچایا گیا جہاں ان کے دیدار کے لیے ہزراوں شہریوں ان کے گھر پر جمع ہوگئے۔ ملائیشین پولیس کے مطابق موٹر بائیک پر سوار دو حملہ آوروں نے 35 سالہ پروفیسر بطش کو 14 گو لیاں مار کرشہید کردیا تھا۔اس وقت وہ کوالالمپور کے ایک نواحی علاقے میں نماز فجر کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔ کلوز سرکٹ ٹی وی کی فوٹیج کے مطابق دونوں مشتبہ قاتلوں نے جائے واردات پر پروفیسر بطش کا 20 منٹ تک انتظار کیا تھا۔ان کے خاندان اور دوستوں نے اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد پر انھیں قتل کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔


اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے بھی اسرائیل پر کوالالمپور میں پروفیسر فادی البطش کے قتل کا الزام عائد کیا ہے لیکن اسرائیلی ریاست نے اس الزام کی تصدیق یا تردید نہیں کی ،ان کی میت مصر سے سرحدی گزرگاہ رفح کے ذریعے غزہ کی پٹی میں ان کے آبائی قصبے جبالیہ میں تدفین کے لیے لے جائی گئی ۔ملائشیا کی پولیس نے اگلے روز مقتول پروفیسر کے دونوں مشتبہ قاتلوں کی تصاویر جاری کردی ہیں ۔ پولیس نے کہاتھا کہ وہ دونوں بظاہر شکل وشباہت سے یورپی یا مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بعد اس شبے کو تقویت ملی کہ قتل کی اس واردات کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے۔


ای پیپر