آپ کو کیا تکلیف ہے؟
27 اپریل 2018 2018-04-27

میرے ایک دُوست گریڈ 22 کے افسر ہیں، آج کل اُن کے فرض منصبی کے سبب اُن کے نزدیک لوگوں کا جمِ غفیر لگا رہتا ہے، وہ کام میں سولہ سولہ اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے مصروف رہتے ہیں، بلکہ وہ مجھے بتا رہے تھے کہ میں اتوار ، اور ہفتے والے دِن بھی کام نمٹاتا رہتا ہوں، اور یہ کہ میں نے پچھلے دنوں پانچ سال میں پہلی دفعہ دو چھٹیاں کر لی تھیں۔ کیونکہ میں شدید تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔

اُن کے ایک وکیل دُوست رُوزانہ بلا ناغہ اُن کے دفتر آجاتے ہیں، اور پھر عشاءکے بعد کم از کم دو گھنٹے کے لئے اُن کے گھر اپنی کچہری لگا لیتے ہیں، اور اُن کے ساتھ اُن کا ایک جواں سال بیٹا بھی ہوتا ہے،

اُن کی گھریلو مصروفیات ، اور فون پر بار بار اور خود ملازم آکر کہتے ہیں کہ سَر ، اندر بیگم صاحبہ بُلا رہی ہیں، آپ کے فلاں دُوست کا چوتھی پانچویں بار فون آرہا ہے، مگر وہ ٹس سے مَس نہیں ہوتے، اور کہتے ہیں کہ بھائی صاحب ، اَندر جا کے فون سُن آئیں، میری خیر ہے ، میں بیٹھا ہوں میرا فکر نہ کریں،

واپس جمائیاں اور انگڑائیاں لیتے ہوئے صَاحبِ خانہ آکر بتاتے ہیں کہ آج میں صبح سویرے نمازِ فجر کے لئے اُٹھا، اور اِس وقت رات کے دَس بجے ہیں، مگر ابھی تک میں نے ایک منٹ کے لئے بھی آرام نہیں کیا ۔ یہ سن کر وکیل صاحب ، حسبِ معمول و عادت یہ کہتے ہیں، کہ بس آخر میں ایک ضروری بات آپ کو بتانی ہے، اُن کا بیٹا، اُنہیں کہتا ہے ، کہ ابو یہ بات آپ پہلے بھی سات بار اُنہیں سُنا چکے ہیں،

اُن کے ابُو جَلال میں آکر کہتے ہیں، کہ اُنہوں نے سات بار ، میری بات سُن لی ہے، جَب سننے وَالے نے سات بار ، سُن لی ہے تو آٹھویں بار بھی سُن لیں گے، تمہیں کیا تکلیف ہے؟

یہ بات مُجھے جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کے ازخود نوٹس لینے پر ، بقول اُن کے وہ بنیادی حقوق انسان کے نگہبان و نگران ہیں، اور اگر یہ بات بھی آپ تسلیم نہیں کرتے تو اگر کہیں قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو یہ میرے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دوں۔ چاہے، وہ وزیر قانون ہی کیوں نہ ہو،

جبکہ دُوسرے فریق کی یہ رائے ہے، کہ چیف جسٹس سُپریم کورٹ کی بھی اپنی متعین شدہ، حُدود و قیو دہیں، اُنہیں اُن سے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے، بہر کیف یہ ایک لمبی بحث ہے، جس میں ، میں پڑنا نہیں چاہتا مگر وکیل کی طرح جناب چیف جسٹس، اگر میری آٹھویں دفعہ بھی بات سن لیں، تو کِسی کو کیا تکلیف ہے؟

کیونکہ سَرور لو لاک فخرِ مُوجودات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہر نیک اور بَد کے ساتھ نیکی کر، اگر بد نیکی کے قابلِ نہیں، تو ، تو اِس کے قابل ہے اور دو بھائیوں میں صُلح کرا دینا نماز ، روزہ اور صدقے سے بھی بڑی نیکی ہے، اِسی لیے تو حضرت بایزید بسطانی ؒ کا فرمان ہے ، کہ نیک بخت وہ ہوتا ہے کہ جو نیکی کرے اور ڈرے، اور بدبخت وہ ہے کہ بدی کرے، اور مقبولیت کی اُمید رکھے،

چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ میں مختصر وقت رہ گیا ہے بلکہ گِنتی کے چند دِن رہ گئے ہیں، بچوں کی تعطیلاتِ گرما کی طرح ، مگر کام اِتنا زیادہ ہے ، کہ جسے سمیٹنا بُہت مشکل ہے ، اِسی لئے میرے خیال کے مُطابق اگر صرفِ اور صرف عدلیہ کے اپنے نظام عدل میں ، کُچھ اِس طرح کا انتظام وانصرام ہُو جائے، کہ اِنصاف کا حصول اگر گھر کی دہلیز پہ نہیں تو کم از کم ایک ہی نسل، راہی مُلک عدم ہونے سے پہلے خصوصاً دیوانی معاملات کے فیصلے سُن کر، اور دُعائیں دے کر ثواب دارین حاصل کر لے، عدالتوں میں لاکھوں تصیفہ طَلب مقدمات کا جاں بلب سائلین شدت سے انتظار کر رہے ہیں) 2014 ء(میں یہ تعداد تقریباً اٹھارہ لاکھ تھی۔ اگر یہ تمام مُعاملات ایک وقتِ مُقررہ تک اپنے انجام تک پہنچا دیے جاتے، اور خاص طور پر جھوٹا مُقدمہ کروا دینے ، اور کر دینے وَالوں کیلئے ایک سزا کا تعین کر دیا جاتا، تو آج صُورتِ حال قطعی مختلف ہُوتی، مگر جناب چیف جسٹس تو تمام جج صاحبان کے دفاع میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں، حالانکہ حقیقت بالکل اِس کے برعکس ہے۔ اور بعض جج صاحبان کے ” ریڈر“ سَرِ عام رشوت لیتے نظر آتے ہیں، بقول شاعر

گنگ ہُو جاتا ہے، جُو بھی بات سنتا ہے مری

زیر کیسا میرے لہجے میں سَرایت کر گیا!

ہم گواہی دے کر ناحق شہر میں رُسوا ہوئے

زور پر دانائی کے وہ تو عَدالت کر گیا !!

مجھے پچھلے دنوں ، مدتوں کے بعد نام کے ” ایوانِ عَدل“ جانے کا اتفاق ہوا، تو میں توبہ توبہ کر اُٹھا، جہاں ہر بات، اپنے انجام سمیت خدا کو حاصر ناظر کہہ کر کہی جاتی ہے ، جج صاحب کے ، برابر میں بیٹھے ایک شخص غالباً جس کو ریڈر کہا جاتا ہے، جج صاحب غالباً وقفے کے دوران جب اُٹھ کر چیمبر میں چلے گئے، تو ریڈر نے سیڑھیوں کے ذریعے نیچے آنے کو وقت کا ضیائع سَمجھا، اور اُس نے اتنے وفٹ اُونچے عدالتی سٹیج سے چھلانگ لگا دی، اور کِسی چیز کی پَروا کئے بغیر بھاگ کر وکیل کو پکڑلیا، اور ” اگلی ڈیٹ“ دینے کا بھی ” معاوضہ“ مانگنے لگا، حالانکہ وکیل نے کہا تھا کہ جو مرضی تاریخ ڈال دیں، میں بھی یہ تمام واقعہ خدا کو حاضر ناظر جان کر بتا رہا ہوں۔ میرے خیال میں اگر نچلی سَطح تک عَدل و انصاف ، یعنی مقدمات کا فیصلہ ممکن حد تک جلدی ہو جائے، کیونکہ نچلی سطح پر اختیارات کی تقسیم تو مُشرف نے کر دی تھی۔ اور چیف جسٹس اس کا تعین کر جائیں، تو کروڑوں عوام پہ اُن کا احسان ہوگا، اگر چہ قانون سازی پارلیمان کا کام ہے، مگر وقت کا تعین تو اِسلامی اور انگریزی قانون، دُونوں میں ہُو سکتا ہے، اِس امر سے ہم سب آگاہ ہیں کہ آجکل کے سیاسی دور میں جہاں سیاسی اُصول قائداعظم ؒ جیسے قد آور شخص کے دُور سے کوسوں دُور نظر آتے ہیں، جہاں رائج الوقت قانونی ضابطوں میں نظریہ پاکستان کی جگہ ”نظریہ ضرورت“ ، کی جڑوں کو مضبوط کرنے، اُس کی آبیاری کر کے کروڑوں عوام کو غربت و افلاس کی دلدل میں دھکیلنے کیلئے پی ، سی ، اُو زدہ جج صاحبان، اور قانون دان وافر تعداد میں اور تمام صُوبوں میں بہ افراط موجود ہوتے ہیں،

قائین آپ کو یاد ہوگا کہ یہاں صریحاً کا ایک ظالم جابر آمر کیلئے آئین کی دفعات کا ایک نیازی حافظ بن کر عُمر رسیدگی کے باوجود، آئینی وقانونی تحفظ کی بات کرتا رہا اور دُوسرا گریبان پھڑ والے اور مُنہ کالا کروانے والا وکیل ، دُوسرے وکیل کے ہاتھوں ذلیل ہو کر بھی بڑی ڈھٹائی اور بے ضمیری کے ساتھ قوم کے سامنے گھنٹوں تشریحات و مکالمہ بازی میں مصروف رہا۔

جناب چیف جسٹس وقت کی ہی اَصل میں قدرو قیمت ہوتی ہے، اور وقت کی آپ کے پاس بالکل کمی ہے،

بروقت دُرست سمت میں دُور اندیشا نہ فیصلے ، سیاسی رہنماﺅں اور قوم کے مستقبل کے محافظ بن جاتے ہیں۔ اور آپ صِرف ایک ہی فیصلہ کر جائیں کہ مقدمہ کیلئے ایک ” میعاد مقررہ“ مقرر کر جائیں ، ورنہ تو بقول اِسلام عظمی

ہم گواہی دے کے ناحق شہر میں رسوا ہوئے

زور پردَانائی کے وہ تو، عدالت کر گیا


ای پیپر