قوتیں، حماقتیں اور منافقتیں!
26 ستمبر 2020 2020-09-26

اے پی سی میں اپنی طرف سے سب سے ”جاندار تقریر“ میاں محمد نواز شریف نے کی، دوران تقریر سب سے زیادہ ”جاندار“ بھی وہی لگ رہے تھے، میں سوچ رہا تھا میرے دوست وزیراعظم عمران خان روایتی کم ظرف نہ ہوتے اے پی سی میں کچھ اداروں کے خلاف ایسی جارحانہ تقریر کرنے پر باقاعدہ فون کرکے اُن کا شکریہ اداکرتے، کیونکہ اِس تقریر کا سب سے زیادہ فائدہ وزیراعظم خان صاحب کو ہی ہوگا۔ ممکن ہے نواز شریف نے اِس اقدام سے اس احسان کا بدلہ چکانے کی کوشش کی ہو جو بیرون ملک علاج کے لیے باہر بھجواکر اُن سے کیا گیا تھا، یہ حقیقت جاننے کے باوجود کہ باہر جاکرواپس کون آتا ہے، نواز شریف پر تو پھر بھاری مقدمات قائم ہیں، ہمیں تو اُس جہانگیر ترین کی واپسی کی بھی کوئی اُمید نہیں جس پر ہلکے مقدمات ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کل کلاں ایسے حالات پیدا ہو جائیں یہ دونوں ایک ہی طیارے میں واپس آئیں، اور یہ وہی طیارہ ہو جو ماضی میں ہمارے پیارے خان صاحب کے زیراستعمال رہا ہے، .... ویسے اگر میاں محمد نواز شریف یہ سمجھتے ہیں اُن کی کچھ اداروں کے خلاف جارحانہ تقریر کا اُنہیں کوئی فائدہ ہوگا اور عوام اِس سے خوش ہوں گے، یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔ اِس سے اُن کا ووٹ بینک بڑھنے والا یابھرنے والا نہیں ہے، اُنہیں چاہیے وہ اپنا ووٹ بینک بڑھنے کی ذمہ داری مکمل طورپر وزیراعظم عمران خان پر چھوڑ دیں، اِس مقصد کے لیے خان صاحب اور اُن کی ٹیم ہی کافی ہے، حتیٰ کہ اِس ضمن میں مریم نواز اور شہباز شریف کو بھی خاص کاوشیں کرنے کی ضرورت نہیں، جہاں تک اُن کی اِس جارحانہ تقریر سے عوام کے خوش ہونے کا معاملہ ہے تو اپنے اپنے ذاتی مفادات میں بُری طرح اُلجھے ہوئے، قومی مفادات سے مکمل طورپر بے نیاز عوام پر ایسی تقریروں یا ایسی باتوں کا کوئی اثر ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوتی نہ ہی اکتوبر 1999کی بارہویں شریف کو خود نواز شریف برطرف ہوکر جلاوطن ہوتے، ہمارے ”غیرت مند عوام“ نے تو پاکستان کے ٹوٹنے کے صدمے کو بھی ہنس کر سہہ لیا تھا، اور اب بقیہ پاکستان کے اخلاقی طورپر برباد ہونے کے ”صدمے“ کو بھی ہنس کر وہ صرف سہہ نہیں رہے، اُس کا باقاعدہ حصہ ہیں، .... جو کچھ ” اصلی حکمرانوں“ نے اِس ملک کے ساتھ کیا، تقریباً وہی کچھ ”سیاسی حکمرانوں“ نے اِس ملک کے ساتھ کیا، ان کی بے شمار بداعمالیوں کے دیگر بے شمار نقصانات کے ساتھ ساتھ ایک ناقابل تلافی نقصان یہ ہوا ہمارے عوام میں سیاسی واصلی حکمرانوں کی غلط کاریوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی سکت ختم ہوگئی۔ پہلے ہمارے حکمران کوئی ملک یا عوام دشمن فیصلہ کرتے تھے، عوام کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آتی تھی، احتجاج کے ایسے ایسے طریقے اپنائے جاتے تھے حکمران یا حکومتیں اپنے ملک یا عوام دشمن فیصلے واپس لینے پر مجبور ہو جاتی تھیں، اب زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے عوام کی اکثریت ایسے فیصلوں کے خلاف فیس بک یا سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع پر حکمرانوں کے خلاف دوچار جملے لکھ کر یہ سمجھتی ہے انہوں نے ”بھرپور غیرت “ کا مظاہرہ کرلیا ہے، .... آئین قانون اور جمہوریت کی اپنے تین بارہ اقتدار میں دھجیاں اُڑانے والے نواز شریف اب جتنی چاہیں آئین قانون جمہوریت کی باتیں کرلیں مکمل طورپر سوئے ہوئے عوام پر اِس کا کوئی خاص اثر اب ہونے والا نہیں ہے، عوام کی جو حالت ہے سچ پوچھیں میں تو اِس ڈیپریشن کی زد میں آیا ہوا ہوں اللہ نہ کرے دشمن ملک ہم پر حملہ کردے ایسی صورت میں ہم اُس دلیری اور غیرت کا مظاہرہ کرسکیں گے جو 1965ءکی جنگ میں ہمارے بزرگوں نے کیا تھا ؟۔ آئین، قانون اور جمہوریت کی حفاظت کرنے والوں کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے ایسا ماحول اِس مملکت خداداد میں قائم کریں لوگوں کی غیرت واپس آئے۔ اُن میں سچ بولنے اور سچ سننے کا حوصلہ پیدا ہو، کسی بھی خرابی کے خلاف مزاحمت کرنے کی طاقت پیدا ہو، یہ اگر ہنگامی بنیادوں پر نہ ہوا ملک مزید کمزور ہوتا جائے گا، .... جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے اے پی سی میں کی گئی اُن کی جارحانہ تقریر کا کسی پر کوئی اثر اِس لئے نہیں ہوگا ایک تو جن کے خلاف کچھ اشاروں کنایوں میں اور کچھ کُھلم کُھلا جو باتیں وہ کررہے تھے ماضی میں ہمیشہ اُن ہی کے کاندھوں پر سوار ہوکر مسند اقتدار تک وہ پہنچتے رہے ہیں، اگر وہ یہ توقع کررہے ہیں آئندہ اِس سے مختلف راستے سے مسند اقتدار پر کوئی سوار ہو سکے گا، یا خود وہ ہو سکیں گے، یہ اُن کی غلط فہمی ہے، اللہ جانے یہ سب باتیں تین اقتدار ”ہنڈانے“ کے بعد ہی اتنا زور دے کر وہ کیوں کررہے ہیں؟ ، شاید اِس لیے کہ اب اُنہیں یہ یقین ہوگیا ہے، اور اگر نہیں ہوا تو یہ یقین اُنہیں کرلینا چاہیے کچھ بھی ہوجائے چوتھی بار وہ کم ازکم خود اقتدار میں نہیں آسکتے، سو ممکن ہے وہ یہ سب باتیں اِس لیے کررہے ہوں کہ اگر میں (میاں محمد نواز شریف) خود اقتدار میں نہیں آسکتا تو میرے خاندان کا کوئی اور فرد بھی نہ آئے، .... بے چارے شہباز شریف اتنا پریشان اپنے بھائی نواز شریف کی صحت کے حوالے سے نہیں جتنا پریشان اُن کی تازہ ترین حماقت کے حوالے سے ہیں، .... اے پی سی میں نواز شریف نے موجودہ حکمرانوں اور اُن کے سرپرستوں سے بہت مطالبات کیے، کاش اِس موقع پر ایک مطالبہ یا گزارش وہ اے پی سی میں شریک اپنے پیٹی بند بھائیوں سے بھی کرلیتے، یہ مطالبہ کہ ماضی میں بار بار آئین توڑنے والوں کا ہم جو ساتھ دیتے رہے ہیں، اُن کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اُن کے آلہ کار بنتے رہے ہیں، بلکہ اب تک بن رہے ہیں، اِس پر ہمیں ”اجتماعی توبہ“ کرنی چاہیے، عوام سے معافی مانگنی چاہیے، پھر اُس کے بعد قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اجتماعی طورپر یہ قسم اُٹھانی چاہیے کچھ بھی ہوجائے آئندہ آئین توڑنے والوں کا سہارا لے کر ہم کبھی اقتدار میں نہیں آئیں گے، .... میں اکثر سوچتا ہوں اِس ملک میں بے برکتی کی جوانتہا ہوتی جارہی ہے اُس کی سب سے بڑی وجہ ہماری منافقت اور جھوٹ ہے، جو ہماری نس نس میں اتنے رچ بس گئے ہیں کہ سچ بولتے ہوئے، اور ہر بات پر منافقت نہ کرتے ہوئے ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے ہم بہت بڑے گناہ کررہے ہیں جن کی سزاہمیں دنیا میں ہی مل جائے گی، ایک طرف ہماری ”سیاسی قوتیں“ بلکہ ہماری ” سیاسی کمزوریاں“ جھوٹ بول بول کر، اور منافقت کرکرکے اپنا بول بالا کرنے کی کوششیں کرتی ہیں، تو دوسری طرف ہماری ”اصلی قوتیں“ اِن معاملات میں اُن سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں، ہماری ”اصلی قوتوں“ کا یہ فرمانا ”ہم سیاست میں ملوث نہیں، یا سیاسی معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، یہ ایک ایسا جھوٹ بلکہ ایسا ”تاریخی جھوٹ“ ہے جسے بول بول کر وہ شاید تنگ نہ آئے ہوں مگر دنیا اِس جھوٹ پر اعتبار نہ کرکرکے تنگ آچکی ہے، .... اُن کا یہ کہنا یا یہ تاثر دینا درست ہے”سیاستدان خود اُنہیں سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں “ .... دوسری جانب اِس اٹل حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا اس ملک کی اصلی قوتیں خود ایسا ماحول پیدا کردیتی ہیں سیاسی قوتیں اُن کی مرضی اور اجازت کے بغیر پرمارنے کی کوشش کریں اُن کے پر ہی نہیں رہتے۔ اِس ملک کی اصلی قوتیں ایک ”ہاتھی“ کی مانند ہیں جس کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے ہمیشہ اور رہے ہیں، اور میں کیا کہوں؟؟؟!! 


ای پیپر