اندھیرا، اُجالا!
26 ستمبر 2019 2019-09-26

گزشتہ کالم میں، میں نے سندھ کے ایک ہسپتال میں کتا کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہ ہونے پر ایک بچے کے اپنی ماںکی گود میں سِسک سِسک کر دم توڑنے کے موضوع پر لکھا تھا۔ یقین کریں میں ابھی تک اِسی کیفیت میں مبتلا ہوں وہ بچہ میرا تھا، وہ غم میرا ہے۔ شُکر ہے میں انسان ہوں حکمران نہیں ہوں ورنہ اِس سانحے پر میرے جذبات بھی وہی ہوتے جو سندھ کے وزیروں شذیروں خصوصاً سندھ کے اصل حکمران بلاول بھٹو زرداری کے ہیں، وہ شاید کرپشن میں اپنے ”باپ محترم“کے جیل جانے کے غم میں اتنا بوکھلا گیا ہے اور اتنی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں اللہ نہ کرے جِس روز خاص مردانہ صلاحیتوں کا مالک یہ شخص اِس ملک پر بطور حکمران مسلط ہوگیا ملک کی بدقسمتی کی یہ انتہا ہوگی۔ منہ میں سونے بلکہ ہیرے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کو غربت یا غریبوں کے دُکھوں کا اندازہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اگلے روز میں اُس کا ایک بیان سوشل میڈیا پر پڑھ رہا تھا کہ ”بچے کو کُتے نے پہلے کاٹا اُس کی موت بعد میں واقع ہوئی“۔ اُس کے خیال میں ”بچے کو مرنا پہلے چاہیے تھا اور کُتے کو اُس کے بعد اُسے کاٹنا چاہیے تھا“، مجھے یاد ہے چند برس قبل میں کراچی گیا، سمندر کنارے واک کرتے ہوئے اچانک میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا ”جوسمندر میں ڈوب جائے اِس نمبر پر رابطہ کرے“۔ میں نے اُس نمبر پر کال کی وہ بند تھا، میں نے سوچا اُس نمبر پر کال کرکے میں اُن سے پوچھوں ”حضور ڈوبنے والے کے لیے سمندر کے اندر آپ نے کونسی ایسی سہولت کا اہتمام کررکھا ہے کہ وہ آپ کو فون کرکے یہ اطلاع دے میں ڈوب رہا ہوں مجھے بچایا جائے “؟ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ ”پاگلوں“ کا معاشرہ ہے، پاگلوں کو قانون کے مطابق ہرطرح کا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، وہ قتل کردیں، ڈاکے ماریں، چوریاں کریں، وہ چاہے ”خود ساختہ “ پاگل ہی کیوں نہ ہوں سارا معاشرہ اُسے اپنا ”ساتھی“ سمجھ کر اُس کے ساتھ کھڑے ہو جاتا ہے، خود ”قانون“ بھی اُس کے ساتھ کھڑے ہوجاتا ہے، قانون بھی شاید پاگل ہو چکا ہے، اُس بے چارے کو سمجھ ہی نہیں آرہی وہ کس کے ہاتھوں میں ہے بلکہ کس کس کے ہاتھوں میں ہے؟، سندھ کے حکمران سندھ میں ہونے والے ظلم زیادتی یا دیگر غلاظتوں پر جو مو¿قف یا رویہ اپناتے ہیں کوئی باشعور شخص اُس پر صرف ماتم ہی کرسکتا ہے، ہم دعاگو ہیں اللہ سندھ کو پاگل حکمرانوں سے نجات دلاکر دماغی طورپر درست حکمرانوں کے سپرد کرے، جن میں تھوڑی بہت انسانیت ہو، جو اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے پھول جیسے بچوں کی ہلاکتوں پر اس طرح کے بیانات نہ دیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ سندھ پر فرعونوں کی حکومت ہے، .... ہمارے حکمران اتنے بے حس ہوچکے ہیں بڑے سے بڑے سانحے کا اُن پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا، خود عوام بھی اتنے بے حس ہو چکے ہیں بڑے بڑے سانحے پر سوائے سوشل میڈیا پر احتجاج کے کسی عملی جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے وہ تیار ہی نہیں ہوتے، .... بے حسی کا یہ عالم ہے اگلے روز ایک سرکاری رُکن قومی اسمبلی مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے غربت اور اِس نوعیت کے بڑھتے ہوئے دیگرمسائل پر اُن کی توجہ دلائی ایک عجیب وغریب منتطق اُنہوں نے پیش کی، فرمانے لگے ” اصل میں آپ ہماری ”حکمت عملی“ نہیں سمجھتے ، مسئلہ یہ ہے ملکی آبادی بڑھتی جارہی ہے جسے کنٹرول کرنے کا سوائے اس کے اور کوئی حل ہمارے پاس نہیں ہم ایسے حالات پیدا کردیں لوگ خودکشیاں کرنا شروع کردیں جس کے بعد آبادی خود ہی کم ہو جائے گی اور ہمارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے“ ....مجھے اُن کی بات سُن کر بہت غصہ آیا، میرا جی چاہا اُن کی گردن دبا کر آبادی کو کم کرنے میں کچھ حصہ اپنا میں بھی ڈال دوں .... ملک میں غربت اور بداخلاقی کا جوماحول بنا دیا گیا ہے لوگ اپنی عزتیں تک نیلام کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں، ”جنسی جرائم“ شاید اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اخلاقی لحاظ سے ہم مکمل طورپر تباہ ہوچکے ہیں، اُوپر سے ہمارے قومی ادارے مسائل حل کرنے کے قابل ہی نہیں رہے، کچھ قومی اداروں کا کردار انتہائی کھسرانہ ہوچکا ہے، قصور میں کتنے ہی عرصے سے بچوں کو اغواءاور زیادتی کے بعد قتل کیا جارہا ہے، کئی بچے تاحال لاپتہ ہیں، اُن کے والدین پر کیا گزررہی ہے؟ اِس کا احساس اُن حکمرانوں اور افسروں کو کیونکر ہوگا جن کے بچے ہرلحاظ سے محفوظ ہیں، پولیس اور دیگر طاقتور ادارے تمام تر کوششوں کے باوجود درندوں کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام ہیں، ان حقائق کے بعد ہم اچھی طرح اندازہ لگاسکتے ہیں کچھ جرائم پیشہ افراد کا سراغ لگانے میں ہم ناکام رہتے ہیں تو کسی دُشمن ملک کے ساتھ جنگ ہم نے کیا لڑنی ہے؟ ، ہمیں تو اپنے لوگوں نے آگے لگایا ہوا ہے، ....اِن حالات میں اگلے روز مجھے ایس پی صدر راولپنڈی رائے مظہر اقبال کے اُس جرا¿ت مندانہ کردار پر بڑی حیرت ہوئی جس کے مطابق اُس نے ایک بچے کے ساتھ مسجد میں بدفعلی کرنے والے امام مسجد کو نہ صرف فوری طورپر گرفتار کرلیا بلکہ اُس بدکردار مولوی کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی پروا بھی نہیں کی، نہ مولویوں کے ایک مخصوص ٹولے کی دھمکیوں کو وہ خاطر میں لایا، ورنہ آج کل ہماری پولیس کے حالات یہ بنے ہوئے ہیں کسی پولیس افسر کے خلاف چاہے ناجائز طورپر ہی چار لوگ کسی جگہ اکٹھے ہو جائیں نہ صرف متعلقہ افسر بلکہ افسران بالا کی بھی ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے پولیس کا کام اب صرف اپنی ہی ہوائیں خارج کرنا رہ گیا ہے، کچھ عرصہ پہلے پولیس کا اتنا ڈر خوف ہوتا تھا پولیس کو دیکھ کر بڑے بڑے مجرموں کے پیشاب نکل آتے تھے، اب چھوٹے چھوٹے مجرموں کو دیکھ کر خود پولیس کے پیشاب نکل آتے ہیں، بے شمار معاملات میں اب بے چاری پولیس کے لیے اپنا ”پیشاب“ روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں نے پولیس کی مکمل سرپرستی نہ کی، اُس کے اچھے کاموں پر اُسے شاباش نہ دی، خصوصاً میڈیا نے اس حوالے سے اب کوئی مثبت کردار ادا نہ کیا تو خود میڈیا اور حکمرانوں کو بھی اِس کے خوفناک نتائج بھگتنا پڑیں گے ،.... میں نے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان سے کہا ہے وہ ایس پی صدر راولپنڈی کو خصوصی شاباش دیں جس نے پولیس پر مخصوص حالات کے باعث طاری ہونے والے خوف سے بالاتر ہوکر اِس طرح فرائض ادا کیے کہ عمومی طورپر پولیس کے لیے منفی جذبے رکھنے والا میڈیا بھی عش عش کراُٹھا۔ یہ بڑا دلچسپ کیس تھا، یہاں تک کہ بدفعلی کا شکار ہونے والے بچے کا باپ بھی کسی انجانے خوف کا شکار ہوکر بدکردار مولوی کے خلاف قانونی کارروائی سے گریزاں تھا۔ پولیس نے اُسے ہرطرح کا قانونی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی، اب مولوی جیل میں ہے اور بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جارہا ہے، سوکچھ قومی اداروں کے حوالے سے جب میری مایوسی حد سے بڑھنے لگتی ہے کوئی نہ کوئی رائے مظہر اقبال اُس میں رکاوٹ بن جاتا ہے !!


ای پیپر