’’کرپشن‘‘ اور حکومت برطانیہ
26 ستمبر 2018 2018-09-26

برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید نے جو پچھلے ہفتے پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے اور عمران حکومت کے ساتھ منی لانڈرنگ اور لوٹی ہوئی دولت برطانیہ لے جا کر جائیدادیں بنانے والوں کے جرائم کا سراغ لگانے کے لیے باقاعدہ مذاکرات اور طریق عمل طے کر کے گئے۔۔۔ انہوں نے اپنے ملک واپسی پر بیان دیا ہے کہ برطانیہ وزیراعظم عمران خان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنا اور کرپشن ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ٹھوس ثبوت دینا ہوں گے۔۔۔ سیاسی نعروں پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔۔۔ غیر حقیقی توقعات نہ باندھی جائیں۔۔۔ صرف ثبوتوں سے دلچسپی ہے اور اسی ہی پر کارروائی کریں گے۔۔۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے حوالے سے مقدمات میں سیاسی حساسیت سے واقف ہیں تعمیری انداز میں حکومت پاکستان کے ساتھ کام کریں گے۔۔۔ تمام کارروائیوں میں قانونی طریقے سے عمل کیا جائے گا۔۔۔ اس حوالے سے پاکستانی حکومت کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔۔۔ لیکن برطانوی وزیر نے متنبہ کیا کہ ان کی حکومت سے کوئی غیر حقیقی توقعات نہ باندھی جائیں۔۔۔ اپنے دورہ پاکستان کے صرف پانچ دن بعد برطانوی وزیر داخلہ نے واضح کر دیا ہے کہ صرف قانونی طریق کار پر ہی عمل کیا جائے گا۔۔۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت عمران خان کے اس دعوے سے واقف ہے کہ پاکستان سے اربوں پاؤنڈ لوٹ کر برطانیہ میں جمع کیے گئے ۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اور کسٹمز کے حکام ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اثاثے قانونی ہیں یا غیر قانونی ہیں۔۔۔ برطانیہ میں مشتبہ منی لانڈرنگ ، کرپشن اور ناجائز اثاثوں کی تحقیقات کا ایک پورا طریق کار موجود ہے۔۔۔ برطانیہ کے با اختیار نمائندے نے دورۂ پاکستان کے دوران عمران خان کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نئی شراکت داری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی انصاف سے نہیں بچ سکتا۔۔۔ انہوں نے دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے مزید مربوط اقدامات پر زور دیا تھا۔

پورا بیان پڑھ لیجیے۔۔۔ اس کے ایک ایک لفظ سے عیاں ہوتا ہے کہ حکومت برطانیہ پاکستان کی عمران حکومت کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ اور ناجائز اثاثوں کا سراغ لانے کے لیے تو تیار ہے۔۔۔ لیکن اگر عمران خان اس کی آڑ میں اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں تو حکومت برطانیہ مدد گار ثابت نہ ہو گی صرف اپنے طے شدہ قوانین کے تحت عمل کرے گی۔۔۔ کسی نے اگر منی لانڈرنگ کا ارتکاب کیا ہے۔۔۔ پاکستان سے دولت لوٹ کر برطانیہ لے گیا ہے۔۔۔ وہاں ناجائز اثاثے بنا لیے ہیں۔۔۔ تو ثبوت فراہم کیے جائیں۔۔۔ برطانیہ والے اپنے قوانین کی روشنی میں ان کی پوری جانچ پرکھ کریں گے۔۔۔ ہر ہر پہلو کا جائزہ لیں گے۔۔۔ کسی کو معاف نہیں کریں گے۔۔۔ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔۔۔ مگر اگر کوئی اس کی آڑ میں اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔۔۔ ان کے خلاف ان سے کارروائی کی توقع رکھتا ہے تو اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔ عمران خان کا اس حوالے سے سیاسی ایجنڈا کیا ہے۔۔۔ یہ امر کسی سے چھپا ہوا نہیں ۔۔۔ انہوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اپنی زبردست سیاسی مہم اس نکتہ واحد کے گرد چلائی کہ نواز شریف اور ان کا خاندان پاکستان سے تین سو ارب روپے لوٹ کر بیرون ملک لے گیا۔۔۔ وہاں اپنے اثاثے بنائے۔۔۔ لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ جیسے مہنگے ترین فلیٹ اسی ناجائز دولت کے بل بوتے پر خریدے گئے۔۔۔ ہم برسراقتدار آئیں گے تو ہمارا اولین اور فوری ہدف یہ ہو گا کہ نواز شریف کی کرپشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے بیرون ملک ان کی جمع کردہ دولت کو جس شکل میں بھی وہاں پائی جاتی ہے پاکستان واپس لایا جائے۔۔۔ یہ ہمارے عوام کی دولت ہے۔۔۔ جو نواز شریف نے اپنے اقتدار کی بدولت ان سے چھین لی۔۔۔ چوری کر کے اور منی لانڈرنگ کا وسیلہ استعمال کرتے ہوئے برطانیہ لے گئے۔۔۔ وہاں جائیدادیں بنائی گئیں جن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سب سے نمایاں ہیں۔۔۔ ان اثاثوں کو جو فی الواقع پاکستان کے عوام کی ملکیت ہیں یا ان کے لوٹے ہوئے مال سے ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈال کر بنائے گئے ہیں۔۔۔ انہیں ہر صورت واپس لا کر اور لٹیروں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر دم نہ لیں گے۔۔۔ چنانچہ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار کی باگیں اپنے ہاتھوں میں لیتے ہی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حصول کے حکومتی ارادے اور عزم کا اعلان کر دیا گیا۔۔۔ کچھ ریاستی ادارے بھی عمران خان کے ہم خیال ہیں لہٰذا سابق وزیراعظم نو از شریف کے خلاف مقدمہ پہلے ہی چل رہا تھا۔۔۔ جس دن عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا نوز شریف ، ان کی بیٹی اور داماد انہی الزامات کی پاداش میں جیل میں بند تھے۔۔۔ احتساب عدالت انہیں کڑی سزاؤں اور بھاری جرمانے کا سزا وار قرار دے چکی تھی۔۔۔ لیکن مسئلہ بیج میں یہ آن پڑا کہ اسی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلے میں لکھ ڈالا کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔۔۔ البتہ اثاثے ملزمان کی بظاہر آمدنی سے زائد ہیں۔۔۔ جج صاحب اس کا بھی تعین نہ کر سکے کہ اثاثوں کی حقیقی مالیت کیا ہے اور کس کی کتنی آمدنی ہے۔۔۔ یعنی اسلام آباد ہائی کورٹ کے الفاظ میں تمام تر فیصلے کی بنیاد مفروضوں پر رکھی گئی تھی۔۔۔ اسی بنا پر سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی و داماد کی سزاؤں کو اپیل کا فیصلہ آنے تک معطل کر دیا گیا۔

نئے وزیراعظم عمران خان کا مسئلہ مگر یہ ہے کہ کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملا تو ان کی تمام تر انتخابی مہم اور اس کی بنیاد پر انتخاب جیتنے اور کئی مبصرین کے نزدیک اداروں کی سر پرستی کے ساتھ برسراقتدار آنے کا جواز ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔۔۔ وہ پوری عمارت دھڑام سے نیچے گر جاتی ہے جس کی بنا پر پہلے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو اقامہ کے بھونڈے الزام کی بنا پر برطرف اور نا اہل قرار دیا گیا۔۔۔ پھر اسے پابند سلاسل رکھ کر انتخابات جیتے گئے۔۔۔ اسی ماحول میں حکومت برطانیہ کے ساتھ بھی روابط قائم ہو چکے تھے۔۔۔ لندن والوں سے پر زور مطالبہ کیا گیا آپ اپنے یہاں کرپشن کا ایک پیسہ برداشت نہیں کرتے لہٰذا ہمارے ’مجرم‘ کی لوٹی ہوئی اور آپ کے یہاں اثاثوں کی شکل میں تبدیل شدہ دولت کے حصول میں پاکستان کی نئی حکومت کی مدد کیجیے۔۔۔ انہوں نے اپنے وزیر داخلہ کو جو اتفا ق سے پاکستان نژاد ہیں اسلام آباد بھیجا۔۔۔ نئی حکومت کے وزیراعظم اور تمام متعلقہ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔۔۔ خیال تھا اگر کوئی نا قابل تردید ثبوت جناب وزیراعظم، ان کے مشیران گرامی، متعلقہ محکموں اور جنہیں ہمارے یہاں کے سیاسی روز مرہ میں ادارے کہا جاتا ہوا کے پاس ہے تو حکومت برطانیہ کے با اختیار نمائندے کے حوالے کر دیا جائے گا۔۔۔ اس کے بعد ان سے کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔۔۔ برطانوی وزیر داخلہ نے بھی ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔۔۔ اب واپس جانے کے پانچ روز بعد انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے ثبوت اور شواہد ہیں تو سامنے لائیے۔۔۔ ہم اپنے قانونی دائرۂ کار کے اند ررہتے ہوئے لازماً کارروائی کریں گے۔۔۔ بصورت دیگر ہم سے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں حصہ دار بننے کی توقع نہ رکھیے۔۔۔ ہم سے یہ کام سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔ ہمیں اپنی سیاست میں ملوث نہ کیجیے۔۔۔ میں گزشتہ برس ماہ اکتوبر میں ایک میڈیا کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گیا ہوا تھا۔۔۔ دوران قیام برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کے کیفیٹریا میں دو تین پاکستانی اراکین پارلیمنٹ اور وہاں کے مقامی صحافیوں کے ساتھ کافی کے کپ پر تبادلہ خیالات ہوا۔۔۔ میں نے سوال اٹھایا ایون فیلڈ فلیٹس پاناما سکینڈل سامنے آنے سے بہت پہلے سے شریف خاندان کی ملکیت میں ہیں۔۔۔ اگر انہیں منی لانڈرنگ یا کسی قسم کی ناجائز اور غیر قانونی دولت کے ذریعے خریدا گیا تھا تو برطانوی حکومت نے اس کا نوٹس کیوں نہ لیا ۔۔۔ ان کی نگاہ سے اس طرح کے معاملات کیسے چھپے رہ سکتے ہیں۔۔۔ جواب دیا گیا اگر برطانیہ کے اندر قانون کی کوئی خلاف ورزی کی گئی ہوتی تو شریف خاندان کب کا گرفت میں آ چکا ہوتا۔۔۔ وہ اپنے ملک کے اندر آنے والے ایک ایک پیسے کی قانونی حیثیت پر نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔ اگر کوئی کام چھپ چھپا کر بھی لیا جائے تو اس کا راز فاش ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی کیونکہ یہاں کے قانون سے بہت سخت ہیں۔ اگرچہ عمران حکومت نے نوا زخاندان کی ’’شہرت دوام‘‘ رکھنے والی تین سو ارب کی لوٹ مار کا سراغ لگانے کے لیے بیرسٹر شہزاد اکبر نامی نیب کے ایک سابق ماہر کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔۔۔ وہ دن رات سراغ رسانی کے مشن کی تکمیل میں مصروف ہیں لیکن تمام تر تگ و دو کے باوجود حکومت برطانیہ کو ثبوت کیا اس کے معمولی سے شائبے سے بھی آگاہ نہیں کیا جا سکا۔۔۔ اگرچہ سابقہ سسرال ہونے کے ناطے عمران خان کے برطانیہ کے حکمران طبقوں کے ساتھ روابط کسی بھی دوسرے پاکستانی سیاستدان کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔۔۔ مگر انہوں نے ہر حالت میں اپنے قوانین کی پابندی کرنی ہے۔۔۔ یہ امر ہمارے نئے وزیراعظم اور ان کے سرپرست اداروں کے لیے زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو رہا۔۔۔ تاہم جانی پہچانی وجوہ کی بنا پر نوا زشریف کی زندگی اجیرن بنا کر رکھنی ہے۔۔۔ اسے سیاست سے لازماً بے دخل رکھنا ہے اس لیے کرپشن کا الزام نہیں تو طاقتوروں کے پاس کئی اور حیلے بہانے موجود ہیں۔۔۔ طے کیا جا چکا ہے کہ سابق وزیراعظم کو دم نہیں لینے دیا جائے گا۔


ای پیپر