پہلے تیس دن
26 ستمبر 2018 2018-09-26

ایسا بھی نہ تھا کہ ہم نے فراموش کر دیا ہو کہ تبدیلی آئے تیس روز گزر گئے۔مسئلہ یہ ہے کہ تبدیلی کی رفتار ماضی سے ہم آہنگ ہونے کی غرض سے اتنی تیز ہے کہ گزرتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور ایک ماہ بیت گیا۔ وہ توشام کا وقت گزر جانے کے بعد رات گہری ہو جانے سے قبل فون کال وصول ہوئی۔ارادہ تھا کہ دوست عرب ملک کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کے بعد سیدھا گھر کا رْخ کرینگے۔سارا دن تو کھل کر سانس لینے کی بھی عیاشی میسر نہ آئی۔ نجی ٹی وی چینلوں کے مزدوروں کی زندگانی کی گھڑیاں، پل، لمحے ایسے ہی گزرتے ہیں۔ پباں بھار کھڑے ہو کر کبھی خبر کے انتظار میں،کبھی اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے۔کبھی بریکنگ نیوز کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی خجالت کے باعث۔ٹی وی سکرینوں کے شہزادے، اینکر تو بس ایک گھنٹے کیلئے چار مہمان سامنے بٹھائے لفظی ملا کھڑے میں وچولے کا کردار ادا کیا اور یہ جا وہ جا۔ لہٰذا کبھی دم بھر کیلئے فرصت مل جائے تو غنیمت محسوس ہوتی ہے۔ فرصت کی اس بریک کو انجوائے کرنے کا زیادہ موقع نہ ملا۔ حکم ملا کہ رات گیارہ بجے مباحثہ میں شرکت کرنا ہے۔ موضوع پوچھا تو پتہ چلا کہ تیس دن مکمل ہو چکے۔ تبدیلی کے سفر میں۔آج ذرا تجزیہ کر لیں۔ان ایام گزشتہ کے۔ کوشش کی جان چھڑانے کی لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات۔سچی بات یہ ہے کہ نوزائیدہ حکومت کے متعلق اتنی جلدی تجزیہ کو دل نہیں مانتا۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے ہمارے مربی پی ٹی آئی سرکار کے کارپر دازان نہایت زود رنج واقع ہوتے ہیں۔ تیزی سے رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ صبر کا پیمانہ جلدی لبریز ہو جاتا ہے۔ویسے تو ابتداء4 میں ایسا ہو جانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ پیپلز پار ٹی اور مسلم لیگ (ن) میں ایک خوبی یہ تو تھی میڈیا کے معاملے میں ذراکشادگی محسوس ہوتی تھی۔ برداشت کا لیول ذرا بلند تھا۔ نئی نویلی حکومت اور اتنی پرانی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو سمجھنا چاہیے کہ جرنلسٹ بیچارا خبراور ایونٹ کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ رشتہ اس کا عوام کے ساتھ ہوتا ہے۔ جن تک خبر اس نے پہنچانی ہے بغیر کسی تعصب،ملاوٹ،ذاتی رائے کے۔ اب اگر وہ ڈنڈی مارے گا تو صرف بددیانتی ہی کا مرتکب نہیں ہو گا بلکہ اپنے پیشے میں بھی ایکسپوز ہو جائے گا۔ میڈیا پرسن نہ جنونی ہے ناں نونی،نہ ہی وہ کسی کا جیالا یا متوالا۔ ان کے متعلق لفافہ وصولی کی بات مبالغہ ہی ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد کو تو تنخواہ بروقت وصول نہیں ہوتی۔ لفافہ کو ن دیگا۔جرنلسٹ کو اس کے پیشے کے تقاضے سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کی کوشش کی جائے تو معاملہ خوش اسلوبی سے چلتا رہتا ہے۔ چار ونا چار بندہ مزدور نہ تیس دنوں کی کار کردگی پر تجزیاتی شو میں شرکت کی حامی بھر لی۔سچی بات یہ ہے تیس دن اتنا مختصر عرصہ ہے کہ کوئی کیا تجزیہ کرے۔ لیکن آ بیل مجھے مار کے مصداق حکومتیں اپنی کارکردگی دکھانے کے چکر میں ڈیڈ لائنیں مقرر کرتی ہیں۔ اور پھر اس چیلنج کو پور ا کرنے کے چکر میں دوڑ دوڑ کر ہلکان ہو جاتی ہیں۔ منزل ملتی ہے ناں غبار راہ کا سراغ۔ پی ٹی آئی کی حکومت سے عوام الناس کو بہت امیدیں ہیں۔ تاریخ میں امیدوں کے اتنے بلند و بالا مینار شائد ہی کسی حکومت نے کھڑے کیے ہوں۔ جتنے ہماری ممدوح جماعت نے۔ سو توقعات بھی اتنی ہی زیادہ ہیں۔ احتساب ہو یا گورننس کا معاملہ پی ٹی آئی کے متعلق عوام الناس مختلف طرح سے سوچتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ پی ٹی آئی خود ہی اپنے آپ کو ہر معاملہ میں سابق حکومتوں کی طرح بنا کر پیش کرتی ہے۔ کوئی سوال پوچھا جائے تو پھرجواب ملتا ہے نواز شریف بھی تو ایسا ہی کرتا تھا۔ زرداری نے بھی تو کئی مرتبہ ایسی ہی بات کی ہے۔ مہربانوں انہوں نے نیا پاکستان اور تبدیلی کا دعوی بھی تو نہیں کیا تھا۔ پی ٹی آئی کو تو ماضی کی حکومتوں سے کہیں بہتر حالات میسر ہیں۔ کوئی بڑا چیلنج ہی سامنے نہیں۔ نواز شریف نے 2 جون 2013 کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو ساڑھے چھ ارب ڈالر کے ذر مبادلہ کے ذخائر تھے۔اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی۔ امن و امان کی صورتحال نہایت خراب تھی۔ اقتدار سنبھالتے ہی گردشی قرضوں کی مد میں ساڑھے تین ارب ڈالر ادا کرنے پڑے۔ گویا ملک چلانے کیلئے نہایت قلیل رقم خزانے میں موجود تھی۔ سیاسی چیلنج الگ۔صرف ایک سال کے اند ر ہی ڈی چوک میں دھرنے کی بساط بچھ گئی۔ جو آخری روز تک نہ سمیٹی جا سکی۔ کسی نہ کسی شکل میں دھرنا سیاست جاری رہی۔ پی ٹی آئی کی حکومت تو خوش قسمت ہے۔ اپوزیشن نام کی کوئی شے بازار سیاست میں موجود نہیں۔ الیکشن جیت لیا سپیکر اپنا، ڈپٹی سپیکر، وزیر اعظم اپنی جماعت کا۔کے پی میں اپنی حکومت۔بلوچستان میں اتحادی براجمان ہیں۔ سندھ میں حکومت تو ہے پیپلز پارٹی کی لیکن نہایت فرینڈلی اتنی دوستانہ کے قیادت کی نیب اور ایف آئی اے کے ہاتھوں درگت بنی ہوئی۔ لیکن پھر بھی کوئی چوں چراں نہیں۔اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں۔جبکہ کوشش ہے کہ اپوزیشن متحرک نہ ہو جائے۔ صدر مملکت اپنی جماعت کا دندان ساز، ماہر طب اور کیا چاہیے۔ ماضی میں تو بس شکایتیں ہی شکایتیں تھیں۔ اب تو وزیر اعظم صاحب خود جی ایچ کیو میں کھڑے ہو کر فرما چکے ہیں۔ ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ ان کی بات پر یقین کیوں نہ کیا جائے۔راوی ڈبل چین لکھتا ہے اور کہیں دریائے چناب کے کنارے بیٹھا امن و سکون کی بانسری بجا رہا ہے۔فیصلہ سازوں کی کھلی چھٹی ہے۔ کوئی سوال پوچھنے والا ہے نہ تادیب کرنے والا۔عوام بھی نہیں۔ وہ تو فی الحال تبدیلی کا جشن منا رہے ہیں۔ نئے پاکستان کے جشن حرف میں شریک ہیں۔ لیکن سوالوں کے انبار ہیں کہ جمع ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

سوال کیا ہیں۔ خرچے بچانے ہیں تو اتنی بڑی تعداد میں وزارتیں کیوں؟ اتنے وزرا ہیں تو پھر ان پر ٹاسک فورس کس لیے۔نیچے اتنی بڑی بیورو کریسی کس لیے۔ منتخب افراد توقابل قبول لیکن ہر شعبہ میں دوست ہی کیوں؟ کیا پارٹی کے کارکن اس قابل نہیں۔انیل مسرت کون ہے۔ زلفی بخاری کا کیا کارنامہ ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ پنجاب کے ہسپتال بھی بعض اپنے ہی احباب دیرینہ کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ڈاکٹر یاسمین راشد کس مرض کی دوا ہیں۔ حکومت کا کام منافع کمانا نہیں عوام کی بھلائی کے نام کرنا ہے۔ان کو روزگار دینا ہے۔ادارے بند کرنا، بلڈنگیں بیچنا نہیں۔ ایسا ماحول تیار کرنا ہے کہ عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہو۔ حکومتیں ریڈیو پاکستان بند نہیں کرتیں۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتیں۔ سالانہ ترقیاتی بجٹ بڑھاتی ہیں۔گھٹاتی نہیں۔ کھاد کی قیمتیں کم کرتی ہیں زیادہ نہیں۔ وزیراعظم دن میں چار، پانچ میٹنگ اس لیے نہیں کرتے کہ ان کی ٹیم عوام کیلئے بد خبریاں لیکر آئے۔مشیران کرام بھینس فروشی سے نکل کر حقیقی کارکردگی کی جانب آئیں۔تاکہ وزیر اعظم کی دن رات محنت کا ثمر عوام تک پہنچے۔


ای پیپر