اس میں نیا کیا ہے ؟
26 ستمبر 2018 2018-09-26

تبدیلی، نیا پاکستان اور نظام کی تبدیلی کے نعروں اور شوروغوغا میں حکمرانوں کا روایتی کھیل جاری ہے ۔ کئی دہائیوں سے یہی سلسلہ جاری ہے کہ غلطیاں حکمران کرتے ہیں مگر ان کی سزا عوام بھگتے ہیں۔ پالیسیوں ، اقرباء پروری اور بری حکمرانی کا تمام تر بوجھ پاکستان کے محنت کش طبقے اور غریب عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ جب سے سیاسی اور سماجی شعور حاصل کیا تواتر سے ایک بات سنتے آئے ہیں کہ ملکی معیشت مشکل میں ہے ۔ عوام ملک کی خاطر قربانی دینے کیلئے تیار رہیں۔ معیشت کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ مالیاتی اور تجارتی خسارہ موجود ہے ۔ اسے کم کرنے کے لئے عوام پر بوجھ ڈالنا ضروری ہے ۔

یہ سب سنتے کان پک گئے ہیں۔ اس دوران کئی حکومتیں آئیں اور گئیں مگر ہر وزیر خزانہ یہی کچھ کہتے پائے گئے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کئی سال سے مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے اصلاحات کا منصوبہ بنا رکھا ہے ۔ ہم نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گے۔ ہمارے پاس ماہرین کی ٹیم موجود ہے ہمیں جیسے ہی اقتدار ملے گا ہم اپنے ویژن کے مطابق تبدیلیوں کا آغاز کر دیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئے اور عمران خان کو وزیر اعظم بنے ایک ماہ سے زائد کا وقت ہو چکا ہے ابھی تک ٹاسک فورس یا کمیٹی کی جانب سے کوئی ٹھوس رپورٹ تجاویز یا اصلاحات سامنے نہیں آئیں تحریک انصاف کی تبدیلی حکومت کی سادگی اور بچت جیسے مصنوعی اور سطحی اقدامات کا جس طرح سے سینئر کالم نگار ، تجزیہ نگار اور متحرک سماجی رہنما فرخ سہیل گوئیندی صاحب نے اپنے کالم میں پوسٹ مارٹم کیا ۔ میں اس حوالے سے ان سے بہتر لکھنے اور اس میں کوئی بھی اضافہ کرنے سے قاصر ہوں۔ فرخ سہیل گوئیندی کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ نہایت پیچیدہ معاملے اور مسئلے کو نہایت سادگی اور آسانی کے ساتھ پیش کر دیتے ہیں۔ انہوں نے سادگی اور بچت کے حوالے سے نہایت خوبصورت کا تم تحریر فرمایا اور یہ واضح کر دیا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک نان ایشو کو اہم ترین ایشو کے طور پر پیش کر رہی ہے ۔ جو کہ غلط ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمنٹ میں منی بجٹ پیش کر دیا۔ جب اسد عمر قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کر رہے تھے تو وہ وہی کچھ فرما رہے تھے جو ان سے پہلے وزیر خزانہ کہتے آئے ہیں۔ حکومت نے اب تک معاشی محاذ پر جو کچھ کیا ہے وہ سب کچھ پہلے کی حکومتیں بھی کرتی آئی ہیں۔ اسد عمر نے گیس مہنگی کر دی۔ اربوں روپے کے نئے ٹیکس لگائے۔ چند درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی بڑھا دی۔ چند دنوں تک بجلی بھی مہنگی ہو جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ پٹرول کی قیمت بھی بڑھ جائے گی۔ یہ سب کچھ تو پچھلی حکومتیں بھی کرتی آئی ہیں۔ تو اس میں نیا کیا ہے ؟ ۔ تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے وزیر خزانہ اسد عمر نیا کیا کر رہے ہیں جس سے نیا پاکستان بن جائے گا اور تبدیلی رونما ہو جائے گی۔ جو کچھ اسد عمر نے کیا ہے کہ اس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔ اشیائے ضرورت مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا۔ پاکستانی مصنوعات چینی مصنوعات کے مقابلے میں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ برآمدات کی بجائے درآمدات میں مزید اضافہ ہو گا۔ عام آدمی کی جیب پر مزید بوجھ پڑے گا۔ غربت میں اضافہ ہو گا۔

جناب اسد عمر ! نیا تو یہ ہوتا کہ آپ بالواسطہ (ان ڈائرکٹ) ٹیکس لگانے کی بجائے براہ راست (ڈائریکٹ) ٹیکس لاگو کرتے۔ ان لوگوں سے ٹیکس وصول کرتے جو کروڑوں روپے سالانہ کماتے ہیں مگر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ آپ امیدروں پر ٹیکس لگاتے تو یہ نئی بات ہوتی کیونکہ غریبوں کا خون نچوڑنے اور انہیں ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانے کا سلسلہ تو دہائیوں سے جاری ہے ۔

یہ کام تو ڈاکٹر حفیظ شیخ، شوکت عزیز ، اسحاق ڈار اور سرتاج بھی کر لیتے تھے مگر آپ جیسے نابغہ روز گار قابل اور جینئیں وزیر خزانہ سے تو کسی نئے اور مختلف اقدامات اور پالیسیوں کی توقع تھی مگر آپ بھی اسی راستے پر چل پڑے جس پر سفر کرتے ہم آج اس حالت کو پہنچے ہیں۔

حماقت دراصل جہالت اور لاعلمی سے جنم نہیں لیتی بلکہ حماقت ایک ہی تجربے کو بار بار دہرا کر مختلف نتائج کی توقع رکھنے کا نام ہے ۔ آپ سے تو یہ امید تھی کہ آپ نئے تجربات کریں گے۔ پرانے تجربات اور غلطیوں کو دہرانے کی بجائے کچھ نیا کریں گے۔ اگر تجربے بھی کرنے ہیں تو نئے کریں کیونکہ پرانوں کے نتائج تو پہلے والے ہی نکلیں گے۔ جب بھی گیس ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور بالواسطہ ٹیکس لگیں گے تو اس کا ناگریز نتیجہ مہنگائی اور افراط زر کی صورت میں نکلے گا۔ یہ کام خواہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کرے یا پیپلز پارٹی کی نتیجہ یہی نکلے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیر خزانہ اسد عمر ہے یا اسحاق ڈار۔ تحریک انصاف نے معاشی بحران کا تمام تر بوجھ غریب عوام پر منتقل کر دیا ہے ۔ جب 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکوعمت برسراقتدار آئی تھی تو اس نے بھی اس قسم کے اقدامات کئے تھے اور نتیجے میں مہنگائی بڑھی تھی۔

اسد عمر صاحب تبدیلی یہ ہو گی کہ آپ بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کریں اور براہ راست آمدن پر ٹیکس لگائیں۔ اب تک دنیا یمں جتنی بھی فلاحی ریاستیں قائم ہوئی ہیں ان میں ایک تو امیروں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور اسے غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ دوسرا دولت اور وسائل کی تقسیم کو ممکنہ حد تک منصفانہ بنایا جاتا ہے تا کہ سماج میں طبقاتی تفریق کو کم سے کم سطح پر رکھا جا سکے۔ مگر یہ کیسی فلاحی ریاست کی تعمیر ہے جس میں ٹیکسوں کا بوجھ غریبوں پر لادا جا رہا ہے اور طبقاتی تفریق بڑھتی جا رہی ہے ۔ ایسی معاشی پالیسیوں کو لاگو کیا جا رہا ہے جو غربت میں اضافے کا باعث ہیں۔حکومت کے سامنے معاشی چیلنج یہ ہیں کہ کس طرح ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔ جو لوگ دولت کما رہے ہیں ان سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ ٹیکسوں کے موجودہ فرسودہ ، جابرانہ اور استحصالی نظام کو تبدیل کیا جائے۔ ترقی پسندانہ ٹیکس نظام واضح کیا جائے۔ پیدواری قوتوں میں اضافہ کیا جائے۔ صنعت کاری کو فروغ دیا جائے۔ جاگیرداری اور بڑی زمینداری کا خاتمہ کر کے جدید زراعت کو فروغ دیا جائے۔ اجتماعی فارمنگ کو فروغ دیا جائے۔ مزدوروں کو معاشی ترقی میں ان کا مناسب حصہ دیا جائے۔ ان کے استحصال کو روکا جائے اور ان سب سے بڑھ کر جدید تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ موجودہ تعلیمی نظام اور نصاب 21 ویں صدی اور جدید معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔ یہ نظام تعلیم نہ تو اعلیٰ سطح کے ماہرین پیدا کر رہا ہے اور نہ ہی ہنرمند ، پڑھی لکھی اور جدید لیبر قورص پیدا ہو رہی ہے ۔ موجودہ عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کو مفت فراہم کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ بے روز گاری ، جہالت ، افلاس اور غربت کے خاتمے کے لئے معاشی پالیسیوں میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔ کچھ نیا کرنے کی ضرورت ہے جس سے مختلف نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اب تک تو سب کچھ پرانا ہی ہے اس میں نیا کیا ہے ؟


ای پیپر