قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں!
26 ستمبر 2018 2018-09-26

گوتم بدھ نے کہاتھااس دنیا میں دکھی انسانیت کے جتنے آنسوبہے ہیں جمع کیے جائیں توشاید سمندرکم پڑجائیں۔ میری عاجزانہ رائے ہے کہ گزشتہ تیرہ سوسالوں کے دوران جتنے آنسوغم حسین میں بہے ہیں، آدم زادکے مجموعی دکھوں پربہنے والے آنسوؤں سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ایسا نہیں کہ روئے زمیں پراس سے بڑے ظلم وستم کے واقعات نہ ہوئے ہوں گے، کہ ظالم وقاہرحکمرانوں نے خاندان یا گروہ تو کیابستیوں کی بستیاں، شہرکے شہراورملک کے ملک تہس نہس کیے ہیں ، قدیم تاریخ کو چھوڑئیئے شام ہماری آنکھوں کے سامنے بربادہورہاہے، لیبیابربادہوچکا، ہیروشیما ناگاساکی کل کی بات لگتی ہے تاہم سانحہ کربلاکوجو بات تاریخ انسانی کے تمام واقعات سے ممیزکرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سراپا " ایک بیانئے"کی جنگ تھی جو ایک ہی ملت کے دوگروہوں کے درمیان جاری ہوا تھا۔ ایک گروہ وہ تھا جس نے کلمہ گوہوتے ہوئے قبل ازاسلام کی جاہلیت خالصہ کی طرف مراجعت کرلی تھی یہ ہزاروں اورلاکھوں کی تعدادمیں تھااورحسین ؑ سے بیعت چاہتاتھاجدیداسلوب میں حسین کا ووٹ بزورشمشیرچاہتاتھا، دوسری جانب بہترجاں نثاروں کاوہ کارواں تھا جو اسلام کے " لاقیصرولاکسریٰ" والے ازلی وابدی وسرمدی اصول کا علم بلندکرتے ہوئے کہتا تھا" ہمارا ووٹ، ہماری مرضی!پھرلاکھوں اورہزاروں ایسے نفوس تھے جنہیں اس معرکے سے کوئی سروکارنہ تھا، زبان عام میں جسے خاموش تماشائی کہا جاتا ہے۔ تاریخ عالم کے بڑے دردناک حادثات اس گروہ کے مرہون منت ہیں۔یونانیوں نے ایسے ہی تو قانون سازی نہ کررکھی تھی کہ جب ریاست پربحران آئے تو جولوگ لاتعلق رہیں گے ان کی قومیت منسوخ کردی جائے گی۔پھرچشم فلک نے وہ معرکہ عظیم دیکھا کہ نواسہ رسول نے کس بانکپن سے مٹھی بھرساتھیوں کے ساتھ لشکریذید کا مقابلہ کیاکس برف دلی سے آگ کا دریا عبورکیا، یوں اسوہ حسین بلا تفریق مذہب وملت رنگ ونسل انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔

امریکا کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والا فیدل کاستروہو یا ہیوگوشاویز، کشمیری حریت پسند ہوں یا نہتے فلسطینی،بوسنیا وچیچنیا کے جاں بازہوں یا برما کی روہنگیا مسلم کمیونٹی، افغان حریت پسندہوں یا کئی عشروں سے امریکا سے برسرپیکارایرانی سب اسوہ حسین سے نمو پاتے ہیں۔ڈاکٹرعلی شریعتی نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا، "ہرگھڑی یوم عاشور ہے ، ہردن یوم عاشورہے."۔کوئی گھڑی ہے کہ مخلوق خدا پرآرے نہ چلتے ہوں، کوئی لمحہ ہے کہ خلق خداپرستم کے پہاڑنہ توڑے جارہے ہوں، ظلم خواجگان جہاں کی مستقل روش ہے تو حسینیت ہرلمحے کا زندہ وجاوداں کردارہے۔ "ستیزہ کاررہاہے ازل سے تاامروز،،چراغ مصطفوی سے شراربولہبی"۔دراصل جب کاروان ملت خلافت سے قیصریت کیطرف چل پڑا توایسی برگزیدہ ہستیاں نہ رہی تھیں جنہوں نے خلیفہ دوم سے کہا تھا کہ اگرآپ ٹیڑھے یا ترچھے چلے تو ہم تلوارسے آپ کو سیدھا کردیں گے اورنہ وہ امیررہے تھے جنہوں نے یہ کلمات سن کرخدا کا شکراداکیا تھا۔جناب حسین نے خلافت سے قیصریت کیطرف بڑھتے عبوری قدم تو برداشت کیے مگرجب یہ فتنہ مکمل طورپرنمودارہواتو سربکف ہونا ناگزیرٹھہرا۔یوں تو نمازپنجگانہ کا اہتمام بھی تھا، روزہ، حج، زکوٰۃ بھی جاری وساری تھے۔مگرملوکیت درآنے سے ریاست اسلامیہ رکن رکین اورمحورومرکزسے محروم ہوگئی" کس دریں جاں سائل ومحروم نیست،، عبدو مولیٰ، حاکم ومحکوم نیست" کا مظہرنہ رہی۔ درویشی وقاہری کی یکجائی اور حرف قل ا لعفو کو طاق نسیاں بنادیا گیاتھا۔بحران کے ان لمحات میں جب امت کوئے بتاں کی ہورہی تو حضرت حسین کوحق نے اپنے جدامجدحضرت ابراہیم ؑ سی خلعت خلت ویکسوئی واخلاص بخشاجنہوں نے کہا تھا فانھم عدولی الا رب العالمین: بیشک سوائے رب العالمین کے سارا جہاں میرا دشمن وبتکدہ ہے!جوبات اشعری ورازی وغزالی تک کے ملفوظات میں جگہ نہ پاسکی وہ یہ تھی کہ "خودطلسم قیصروکسریٰ شکست،، خود درتخت ملوکیت نشست"جس امت مرحوم نے طلسم قیصروکسریٰ کو توڑڈالاتھا خودتخت ملوکیت پربراجمان ہوگئی ہے۔اوریہ کوئی چھوٹی سی بات ہے؟ "ازملوکیت نگہ گردددگر،،، عقل وہوش ورسم رہ گردددگر" ملوکیت سے زاویہ نگاہ بدل جایا کرتے ہیں، عقل ، ہوش، رسم اورراہ بدل جایا کرتے ہیں۔اس کا ادراک جناب حسین ؑ سے زیادہ کس کو ہوسکتا تھا۔اس وادی پرخارمیں اترے اورہرخارراہ کو ابلہ پا سے سیراب کیا۔پھرہماری تاریخ بتاتی ہے گویا یہ ذمہ داری صرف خانوادہ رسول کی تھی۔

سانحہ کربلاایک سبق تھاملوکیت کیخلاف سپرآزما ہونے کا، ظلم کیخلاف پابجولاں نکلنے کا، خلق خداکو شخصی اقتدارسے نکال کراقتدارباری تعالیٰ کی چھتری فراہم کرنے کا، تمیزبندہ وآقاکا بت پاش پاش کرنے کا، سائل ومحروم سے خالی ریاست الٰہیہ کے قیام کاجہاں عبدومولیٰ اور حاکم ومحکوم کی دوئی ختم کی جاسکے۔مگرملوکیت کواستحکام ملتاگیا اوریہ امت مرحوم غلامی واسیری کے زنجیروں میں جکڑتی چلی گئی۔سانحہ کربلاسبب بناامت مرحوم کی تقسیم درتقسیم کا،اقبال رحمت اللہ کو ساری زندگی یہ رنج رہاکہ سانحہ کربلا نے اس امت میں شیعہ سنی کی وہ خلیج حائل کی ہے جوہرآئے دن بڑھتی جارہی ہے۔ایران میں صفویوں نے شیعہ ازم کو ریاست کا مذہب بناڈالاجس کا خودڈاکٹرعلی شریعتی بڑا ناقدرہاہے، ادھرسلجوقوں اورعثمانیوں نے سنی ازم کو فروغ دیا۔دونوں طرف فرقے رہے اسلام غریب الدیارہوا۔ معروف مستشرق برنارڈلیوس کہتے ہیں "اسلام نے ایک ہزارسال میں دودفعہ عیسائیت کے وجودکو خطرے میں ڈالاہے ، ایک بارجب اہل اسلام اندلس کی ڈالیوں پرآشیاں تعمیرکررہے تھے، دوسری بار جب عثمانی ویانا تک پہنچ گئے تھے" پھرلکھتا ہے "کہ صدہزارشکرکہ ایران میں صفویوں کا شیعہ اقتدارنہ ہوتا تو عثمانی پورے یورپ کو اپنا باجگزاربناکرچھوڑتے"۔ مطلب عثمانی آگے بڑھتے تو پیچھے صفویوں سے خدشات لاحق ہوجاتے ، پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔ کیا یہ تھا صلہ شہید؟ کیا حسین ؑ نے قربانی اس لیے دی تھی کہ یہ امت دوگروہوں میں بٹ جائے جس کا فائدہ اغیارکوہو؟

آج مشرق وسطیٰ آگ وبارودکی لپیٹ میں ہے۔فلسطین آتش زیرپا ہے ،لیبیا جل کرراکھ ہوا، اہل عراق خانماں بربادہیں، یمن خون آلودہے، شام دھواں دھواں ہے۔کیا کسی شیعہ کا گلہ کٹنے سے حضرت ابوبکروعمروعثمان جنت میں خوش ہوتے ہوں گے یا کسی سنی کا گلہ کٹنے سے حضرت علی وفاطمہ وحسن وحسین وجد میں آجاتے ہوں گے۔خدارا ایران وسعودی عرب اپنے تنگ نظرمسلکی اورسیاسی مفادات سے بلندہوکرامت احمد مصطفےٰ کے حق میں سوچیں۔کیا اسوہ حضرت حسن ؑ کومشعل راہ نہیں بنایا جاسکتاہے جو اتحادواتفاق امت کیلئے اپنے حق خلافت سے دستبردارہوگئے تھے۔کیااسوہ حضرت عمررضی اللہ سے سبق لیا جاسکتاہے کہ میرا بیٹا چاہے مستحق بھی ہو تواسے خلیفہ مت بناناتاریخ یہ نہ کہے کہ عمرخلافت اپنے گھرکو سونپ گئے۔سعودی عرب اورایران چاہیں توباہم تنازعات سے ماوراہوکرملت اسلامیہ کو امن اورخوشحالی بھی دے سکتے ہیں ورنہ آگ اوربارودتو دے ہی رہے ہیں۔

فلسفہ تاریخ کے بانی اول ابن خلدون نے یہ قاعدہ طے کیا تھا جو واقعہ جتنا زیادہ مشہورہوجاتاہے، افسانہ ارائی اسے اپنے حصارمیں لے لیاکرتی ہے۔گوئٹے نے کہا تھا " عظمت انسانی کی حقیقت کی انتہا یہ کہ وہ فسانہ بن جائے" ضرورت ہے کہ سیرت حسین پرسے افسانے کی گردہٹاکرحقیقت تلاش کی جائے۔حسینیت کوشیعہ سنی تقسیم کے بجائے اتحادامت اورآزادی حیات کا استعارہ سمجھاجائے۔

قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

گرچہ ہیں تابدارابھی گیسوئے دجلہ وفرات


ای پیپر