دورۂ سعودی عرب۔۔۔نئے دور کا آغاز
26 ستمبر 2018 2018-09-26

اسی ہفتے جب عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد اپنے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد سے مدینہ منورہ کے ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے استقبال کے لیے سعودی عرب کے سرکاری پروٹوکول کے عملے کو خاصی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں یہ ایک غیر تحریری روایت کا حصہ بن چکا ہے کہ صدر کا اور وزیراعظم اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد فوری طورپر عمرہ کرنا اپنے سرکاری فرائض کا حصہ سمجھتے ہیں اس کی ابتداء جنرل ضیاء الحق سے ہوئی تھی مگر ان کے بعد آنے والے جمہوری قائدین نے اس کو فوجی حکمرانوں سے بڑھ کر اپنے لیے کارثواب اور ذریعہ نجات سمجھا۔ پروٹوکول حکام یہ سمجھتے تھے کہ پاکستانی بوئنگ طیارہ میں پوری کی پوری نئی کابینہ اور تحریک انصاف کی اعلیٰ کمان اور وزیراعظم کی فیملی اور رشتے دار کل ملا کر کم ازکم 100افراد کا استقبال کرنا پڑے گا مگر جب طیارے میں سے وزیراعظم کے ساتھ صرف 4وزراء شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ،عبدالرزاق داؤد اور فواد چوہدری برآمد ہوئے توسعودی میزبانوں کو بھی تبدیلی کا احساس ہونے لگا۔

ذاتی طورپر میرے لیے جو بات سب سے زیادہ قابل رشک نظر آئی وہ یہ تھی کہ عمران خان جیسا دنیا دار شخص جب طیارے سے اترا تو اس کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے اس نے باریک سے موزے پہنے ہوئے تھے عرب کی مقدس سرزمین خاص طورپر شہر نبیؐ کے تقدس میں اگر یہ اہتمام کیا گیا ہے تو عمران خان ہم سب سے بازی لے گیا۔ اس پر ہمیں زیادہ کلام کی ضرورت بھی نہیں اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ مجھ جیسے گناہ گار شخص کو اللہ پاک نے چار مرتبہ اپنے گھر کی حاضری نصیب کی ہے۔ عمران خان سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ اب اگر زندگی نے اتنی مہلت دی اور مجھے اللہ کے گھر کی زیارت کا شرف حاصل ہوا تو یہ ننگے پاؤں ہی ہوگا۔ انشاء اللہ۔

کچھ لوگوں کو اس بات پر تعجب تھا کہ عمران خان نے حلف برداری کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ وہ کسی ملک کا دورہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور پہلے تین مہینے کہیں نہیں جائیں گے اس کی وضاحت عمران خان نے سعودی پریس میں کردی ہے ان کا کہنا تھا کہ سعودی اعلیٰ قیادت کے بے حداصرار کے بعد انہیں یہ خبر مناسب لگتا تھا کہ وہ اپنے دورے کو مزید مؤخر کریں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے اس سے بڑی Honourاور کیا ہوسکتی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم (جو اتفاق سے اس وقت عمران خان ہیں ) کے لیے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے پروٹوکول کی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنے ہمراہ لاکر جدہ کے اسرورپیلس میں رسمی نشت کا اہتمام کیا۔ عام طورپر سعودی کنگ کسی سربراہ مملکت کے استقبال کے لیے کھڑا نہیں ہوتا تھا بلکہ مہمان کو پروٹوکول حکام پیلس کے اس حصیتک Escortکرتے ہیں جہاں سعودی بادشاہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر مہمان کا انتظار کررہا ہوتا ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ اس تناظر میں دونوں ممالک کے لیے اس سرکاری دورے کی کیا اہمیت ہے۔

مہمانوں اور میزبانوں کی نمائشی مسکراہٹوں کے پیچھے دونوں اطراف کو اس دورے کی مشکلات کا احساس تھا کہ یہ ایک ایسے وقت پر ہورہا ہے کہ جب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے آئی ایم ایف کو پاکستان کو مزید قرضہ نہ دینے کی ہدایت کی ہے اور پاکستان کی مالی مشکلات اس کی 70سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں غیرملکی قرضوں کو بوجھ ریاست کی کمرتوڑنے کے درپے ہے جو 95ارب ڈالر تک جاپہنچا ہے۔ گردشی قرضے 16ارب سے اوپر ہیں 38بلیئن ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ نومبر میں 12بلیئن ڈالر کی قسط ادا کرنی ہے حکومت کے خسارے میں چلنے والے ادارے ریلوے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز سالانہ 6ارب ڈالر کا خسارہ دے رہے ہیں اور عوام مہنگائی کے گھن چکر میں بال بال جکڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف کی نوزائیدہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عالمی مہاجنوں (Global Lenders)کی منتیں کرنے اور سوددر سود کے چکر میں مزید پھنسنے کی بجائے اپنے دوست ممالک سے مددطلب کی جائے جن میں سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور چائنہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا شورمچارہا تھا کہ عمران خان ایک نئے بیل آؤٹ پیکج کے لیے سعودیہ اترے ہیں مگر عمران خان نے سعودی عرب اور امارات دونوں ممالک میں اس تاثر کی تردید کی کہ ہم کسی امدادی پیکج کی درخواست لے کر آئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم دوستوں کے ساتھ تعاون کے فروغ کی نئی راہیں کھولنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ اور آزمودہ دوست ہے جس نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں کے دوران سعودی عرب نے Defered Paymetیعنی موخر ادائیگیوں کی بنیاد پر پاکستان کو پیٹرول کی سپلائی جاری رکھی۔ 2013ء میں نواز شریف کے اقتدار میں آنے پر سعودیہ نے خیر سگالی کے تحت پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی خطیر رقم امداد یا صلہ رحمی کے طورپر بطور ہدیہ دیدی۔ لیکن ان دوواقعات سے ایک عمومی تاثر یہ ابھر رہا تھا کہ اس کے پیچھے دو حکمران خاندانوں کے ذاتی مراسم کا دخل ہے۔ مگر سعودی عرب نے اپنے قول وعمل سے ثابت کردیا ہے کہ حکومتیں بدل جانے سے ریاستوں کے تعلقات نہیں بدلتے پاکستان میں کوئی بھی برسراقتدار آئے گا سعودی عرب ایک وفادار ساتھی کی طرح اسے اپنا کندھا پیش کرے گا جو عناصر یہ سمجھتے تھے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے لول کی وجہ شریف خاندان تھا انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ سعودی عرب نے پہلے سے بڑھ کر بغیر کسی ذاتی پسند یا ناپسند پاکستان کی پہلے سے بڑھ کر پذیرائی کی ہے جو پاکستان کے لیے باعث اطمینان بھی ہے اور باعث فخر بھی۔

اس دورے کی ایک پیش رفت ایسی تھی جس نے دنیا بھر میں سب کو روطۂ حیرت میں ڈال دیا اس پر تبصرے جاری ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب کو (BRI)Belt&Roadinitiativeکے چائنہ کے سی پیک منصوبے میں بطور تھرڈ پارٹنر شمولیت کا اعلان کردیا ہے جس کی مکمل تفصیلات تو ابھی تک نہیں آئیں البتہ کہا گیا ہے کہ 10ارب ڈالر کی مالیت کے سعودی منصوبے پاکستان میں شروع کئے جائیں گے گوادر پورٹ منصوبہ چائنا کو اعتماد میں لینے کے بعد سعودی عرب کو منتقل کردیا جائے گا جہاں ایک بہت بڑا آئل سٹی تعمیر کیا جائے گا اس موقع پر اپوزیشن کی طرف سے چوہدری احسن اقبال نے سوال اٹھایا کہ کیا اس پر چائنا کو اعتماد میں لیا گیا تھا جس پرحکومت نے کہا کہ بالکل یہ سارا کچھ چائنا کی رضامندی سے کیا جارہا ہے۔ اس کا اہم ثبوت یہ ہے کہ جس دن وزیراعظم عمران خان سعودی کنگ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کررہے تھے عین اس وقت پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چائنا کے صدر زی پنگ کے ساتھ اہم ملاقات کررہے تھے۔

2015ء میں جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کے معاملے پر پاکستان میں نواز شریف کی حکومت نے سعودی عرب کو فوج بھیجنے سے معذوری ظاہر کی اور باقاعدہ پارلیمنٹ سے قرار داد منظور کروائی تو اس کے بعد پاکستان اور سعودیہ بشمول امارات کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری آگئی اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک ماضی کے اس واقعہ کو بھول کر نئے عزم اور نئے جذبے کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز کرنے جارہے ہیں جس سے خطے میں امن اور خوشحالی کا دور آئے گا۔


ای پیپر