بھارتی آرمی چیف کی بلاناغہ دھمکیاں
26 ستمبر 2018 2018-09-26

بھارتی آرمی چیف کی دھمکیاں بلاناغہ جاری ہیں۔ تین چار دن سے وہ مسلسل پاکستان کو للکار رہے ہیں۔ دو تین روز قبل انہیں جنگی جنون کا دورہ پڑا۔ جانے انہوں نے کونسا ڈراؤنا خواب دیکھا ۔ آنکھ کھلی توکارٹون نما بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پاکستان کیخلاف جارحانہ بیان کے گولے داغنا شروع کر دیا ۔ اپنے تئیں پاکستان کو دھمکاتے ہوئے انہوں نے جو کچھ کہا، پاکستانی حکومت نے اسے گیدڑ بھبھکی سے تعبیر کیا۔ بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ’’ پاکستانی فوج سے بدلہ لینے کا وقت آگیا، پاکستان کو ان کی ہی زبان میں جواب دیا جائے گا، پاکستان وہی کر رہا ہے جو کرتا آیا ہے، مزید اقدامات کئے جائیں گے، ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصیلات نہیں بتاسکتے، پاکستان کو سرپرائز دیں گے، بھارتی فوج کی کارروائی میں ہمیشہ سرپرائز ہوتا ہے، مخالف کو بھی درد کا احساس دلانا چاہئے، مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ نہیں چل سکتے، ہمیں مسلسل نئے ہتھیاروں کی ضرورت ہے، مخصوص ہتھیار ہم ایک حد تک استعمال کر سکتے ہیں، ہتھیاروں کی خریداری جاری رہے گی، پاکستان کو درد محسوس کرانا چاہتے ہیں، بھارت کو پاکستان کیخلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی فوج اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کا جواب دینا ہوگا‘‘۔ انڈیا ٹی وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی جنرل نے پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی ’حکم‘ صادر فرمایاکہ 'پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے'۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ واضح کرچکے ہیں کہ ’’ہم اپنے دشمن کے عزائم سے پوری طرح باخبر ہیں اور انہیں ناکام بنا کر رہیں گے، پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف دشمن کے عزائم ناکام بنا دیئے جائیں گے، پاک چائنا اقتصادی راہداری اور اس کے ساتھ گوادر پورٹ خطے کی ایک انتہائی اہم دفاعی نوعیت کی ڈیپ سی پورٹ کے طور پر ہر قیمت پر تعمیر کی جائے گی ،پاک چین اقتصادی راہداری میں ہمارے خطے کے عوام کی زندگیوں کو یکسر تبدیل کردینے کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، پوری دنیا ہمارے سکیورٹی خدشات کو سمجھتی ہے، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، بلوچستان ، فاٹا اور کراچی میں قتل و غارت گری دشمن کے مذموم عزائم کی عکاس ہیں‘۔اس دھمکی پررد عمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جو کچھ کہا ، اس سے عوام کا مورال بلند ہوا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ’ جنرل بپن راوت کا بیان انتہائی نامناسب ہے، بھارتی آرمی چیف امن و امان کی صورتحال خراب نہ کریں،پاکستان ایٹمی قوت ہے اور جنگ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں لیکن ہم امن کے راستے پر چلیں گے، ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں ہم نے امن کو خراب نہیں کرنا، امن کو آگے لے کر جانا ہے کسی کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے، پاکستان امن پسند ملک ہے، جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کیلئے تیار نہ ہو ہم جنگ کیلئے تیار ہیں، بھارتی فوج اپنی ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے، بھارتی حکومت کو کرپشن چارجز کا سامنا ہے، بھارتی فوج توجہ ہٹانے کے لیے جنگ کی طرف رخ موڑ رہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے، مقبوضہ کشمیر کی تھرڈ جنریشن ہے جو قربانیاں دے رہی ہے، حکومت پاکستان کی آج بھی آفر ہے آئیں مذاکرات کی میز پر بات کریں، پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اس کیلئے تیار ہیں، امن و امان کی صورتحال خراب نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنایا گیا، کسی نے صبر کا امتحان نہیں لیا تو قوم کو مایوس نہیں کریں گے، پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا، ہم نے ملک میں امن و امان قائم کیا، پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا،ہمیں پتہ ہے امن پسندی کی کیا قیمت ہے ،ہم کسی بھی فوجی کی بیحرمتی نہیں کر سکتے، ہم کسی سولجر کی نعش کی بے حرمتی نہیں کر سکتے، خواہ وہ دشمن ملک ہی ہو ‘۔ صد شکر آج پوری قوم افواج پاکستان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔عام پاکستانی خوش ہے کہ اس کے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری کی قسم اور حلف دنیا کی بہترین فوج افواج پاکستان نے اٹھا رکھی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کا ہمسایہ بھارت ہے۔ بھارت امریکہ کا جوہری اتحادی ہونے کے باوجود بدترین قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ حالانکہ 2006ء سے اس کا تعارف دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے جنگی جنونی ملک کا ہے۔ اس کا سالانہ جنگی بجٹ 47 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے باوجود اسے اپنے تمام پڑوسی ممالک سے ہمہ وقت خطرہ رہتا ہے اور اس کی ملٹری ڈاکٹرائن یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک کو گیڈر بھبکیوں کے ذریعے خائف کیا جائے۔ بھارت 21 ویں صدی کے شروع ہی سے پاکستان پر لشکر کشی کے مذموم عزائم بنا رہا ہے۔ مذموم عزائم کے اس پیکیج کو اس نے ’’کولڈ سٹارٹ سٹرٹیجی‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ اس سٹرٹیجی کے تحت اس کی خواہش ہے کہ وہ اتنا طاقت ور ہو جائے کہ پاکستان پر ہلہ بول کر صرف 72 گھنٹے میں اسے اپنا مفتوح ملک بنا لے لیکن پاکستان کے اٹامک ڈی ٹیرنٹ کے سامنے اس کی ہر سٹرٹیجی اور حربہ پالیسی 28 مئی 1998ء کے بعد سے بری طرح ناکام ہے۔ پہلے تو بھارت پاکستان کے صرف اٹامک ڈی ٹیرنٹ سے خائف و لرزہ براندام تھا لیکن پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے منظر عام پر آنے اور پاکستان کے اس عزم صمیم کے وہ ہر قیمت پر گوادر ڈیپ سی پورٹ بنا کر رہے گا، نے بھارت کے جنگی جنونی حکمرانوں کے ہر خواب کو پریشاں کر کے رکھ دیا ہے۔ اب اس کے حکمرانوں کی نیندیں مستقبل میں پاکستان کے خطے میں اکنامک ڈی ٹیرنٹ بننے کی ناقابل تردید زمینی حقیقت نے اڑا دی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد 13دسمبر 2001ء وہ دن تھا جب بھارتی پارلیمنٹ پر دہلی سرکار نے سیلف پلانٹڈ حملہ کیا جس کے نتیجے میں 7 افراد مارے گئے۔ دہلی سرکار نے اس کا تمام تر الزام پاکستان کی خفیہ عسکری تنظیم آئی ایس آئی پر عائد کیا اور بدلہ لینے کا اعلان بھی کر دیا۔ جنوری 2002ء میں بھارتی افواج نے پاکستان کی سرحدوں پر ہجوم کر دیا لیکن پاک فوج کے تحرک نے اس کے آپریشن پراکرم کو ناکام بنا کر رکھ دیا۔ بھارتی حکام کو اس امر کا ادراک و احساس ہو گیا کہ عسکری محاذ پر وہ پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ بارِ دِگر انہوں نے نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کو جواز بنا کر واشگاف الفاظ میں سرجیکل سٹرائیکس اور پاکستان پر بش کی پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن کا تجربہ کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کیا لیکن ساڑھے چھ سال گزرنے کے باوجود وہ اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہے اور سدا ناکام رہے گی لیکن جب سے پاکستان نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو عمل کا روپ دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ، بھارتی حکمرانوں نے اسے اپنے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے اکثر دہشت گردانہ اور تخریب کارانہ وارداتوں کے پیچھے دہلی سرکار اور بھارتی فوج کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ اس امر کا اقرار نریندر مودی ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کر چکے ہیں کہ 1970-71ء میں متحدہ پاکستان کے مشرقی حصے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی سازش بھارت نے تیار کی ، اسی سازش کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے پہلی مرتبہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا قیام عمل میں لایا گیا اور پھر کلکتہ میں اس کا باقاعدہ مرکزی ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا جہاں مشرقی پاکستان کے برگشتہ اور بر افروختہ علیحدگی پسند ہندو اور مسلم نوجوانوں کو مکتی باہنی، مجیب باہنی اور قادر باہنی کے دہشت گرد گروہوں میں تقسیم کر کے مشرقی پاکستان بھیجا گیا اور یوں وہاں وفاق پاکستان کے خلاف چلنے والی لسانی اور علیحدگی پسند تحریک کو را نے اسلحہ ومالی اعانت فراہم کی تاوقتیکہ کہ 16 دسمبر 1971ء کو سقوط مشرقی پاکستان کا عظیم المیہ رونما ہوا اور قائداعظمؒ کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔ حقائق و شواہد اس امر کے گواہ ہیں کہ آج بھی بلوچستان اور کراچی میں جو تنظیمیں اسلحہ کے بل بوتے پر محب وطن شہریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہی ہیں، ان کا کسی نہ کسی عنوان سے بھارتی ایجنسی را سے تعلق ہے۔ہندوستان نے پہلے ہی پاکستان کی جغرافیائی شہ رگ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب وہ مستقبل کے ناقابل تسخیر معاشی پاکستان کی شہ رگ اقتصادی راہداری کے خلاف بھی سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔


ای پیپر