بھارت کی ہٹ دھرمی
26 ستمبر 2018 2018-09-26

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے ساتھ ہی’’ ہندو لالے‘‘ کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگے اور اب وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ بھارتی حکمران نریندر مودی ہو یا کوئی اور، سبھی کی پاکستان کے بارے میں پالیسی ایک البتہ ہمارے ہاں صرف حکمران ہی نہیں کچھ دوسرے لوگ بھی امن کی خواہش پالے ہوئے۔ یہ وہ گروہ ہے جو ’’امن کی آشا‘‘ کے گیت گاتا، سرحدوں پہ دیئے جلاتا اور امن کی فاختہ اُڑاتا رہتا ہے ۔ اگر کہا جائے کہ

پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سدھانے کی سوچتے ہو

بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وہ اپنے انداز دیکھ لینا

اُنہیں یہ سمجھانے کی کوشش بے سود کہ لاتوں کے بھوت ،باتوں سے نہیں مانتے اور ہندو لالے کو تو آغوشِ مادر سے ہی یہ سبق سکھایا جاتا ہے کہ زورآور کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ اور کمزور کا دھرتی سے نام ونشان مٹا دو، تو وہ ٹھک سے ہم پر ’’غیرت بریگیڈ‘‘ کا الزام دھر دیتے ہیں۔ حقیقت مگر یہ کہ غیرت مند قومیں ہی ہمیشہ سرخرو ہوتی ہیں۔ اقبالؒ کا درسِ بیداری بھی یہی کہ

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ ودَو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

تاریخ گواہ کہ بھارت تو گزشتہ سات عشروں سے جنگی جنون میں مبتلاء ہے مگر ہم نہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو ہمیشہ ہماری کمزوری ہی سمجھا گیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم نے بھارت کو جنگ کی دھمکی دی ہو البتہ اُدھر سے ’’گیدڑ بھبھکیوں‘‘ کی یلغار ہوتی ہی رہتی ہے۔ ایک فرق اور کہ بھارتی قوم اور میڈیا پاکستان مخالفت میں اپنی حکومت کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اگر کسی سربراہِ مملکت نے امن کی خاطر قدم آگے بڑھایا بھی تو قوم دو حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ ایک گروہ تو وہ جو بہرحال بھارت سے دوستی کا خواہش مند، خواہ اِس کے لیے ’’منتوں تَرلوں‘‘ ہی سے کام کیوں نہ لیناپڑے اور دوسرا بقول سیکولرز ’’غیرت بریگیڈ‘‘۔ سارک کانفرنس کے موقعے پر بینظیر بھٹو نے اسلام آباد سے کشمیریوں کی آزادی کے پوسٹر اتروائے تو وہ غدار ٹھہرائی گئیں۔ میاں نوازشریف کے دَورِحکومت میں بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے دورے پر آئے تو میاں صاحب نے واہگہ بارڈر پر اُن کا استقبال کیا لیکن اُس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف نے استقبال کے لیے جانا تک گوارا نہ کیا۔ جماعت اسلامی نے واجپائی کی آمد کے خلاف پورا لاہور بند کر دیا۔ نون لیگ کے پچھلے دورِحکومت میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی میاں نوازشریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لیے اچانک پاکستان آئے تو پاکستان کے دَرو دیوار ’’مودی کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے‘‘ کے نعروں سے گونجنے لگے۔طُرفہ تماشہ یہ کہ بھارت کی طرف قدم بڑھانے والے ہر حکمران پر سیاسی جماعتیں غداری کا ’’لیبل‘‘ تو چسپاں کر دیتی ہیں لیکن جب اُنہی کے ہاتھ حکومت آتی ہے تو سب سے پہلے بھارت کو امن کا پیغام دیا جاتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے ہاں کل تک تو پوری شد ومَد سے میاں نوازشریف پر’’ بھارت دوستی‘‘ کا الزام دھرا جاتا رہا اور کہا گیا کہ میاں صاحب کا بھارت کے ساتھ ذاتی کاروباری تعلق ہے اِس لیے وہ بھارت کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتے (حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار میاں نوازشریف کی حکومت میں ہی اقوامِ عالم کو بھارتی ریشہ دوانیوں کے ڈوزیئر دیئے) لیکن اُسی تحریکِ انصاف کے وزیرِاعظم عمران خاں نے بھی اپنی پہلی تقریر میں ہی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ’’ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا توہم دو قدم آگے بڑھائیں گے‘‘۔ اگر میاں نوازشریف کی امن کی خواہش غلط تھی تو پھر عمران خاں کی خواہش کیسے درست ہو سکتی ہے۔

پنڈت جواہر لال نہرو سے نریندر مودی تک کوئی ایک دَور بھی ایسا نہیں گزرا جس میں بھارت جنگی جنوں میں مبتلاء نہ ہوا ہو۔ ہر بھارتی حکمران اپنی آڑھت کی دُکان پاکستان دشمنی پر سجاتا اور خصوصی طور پر انتخابات کے دوران تو اپنی انتخابی کمپین میں پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔ پاکستان کے دشمن ،بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ دار اوربھارتی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے وحشی درندے نریندر مودی کو شاندار کامیابی اپنی اسلام اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ہی ملی۔ یہ وہی شخص ہے جس نے بنگلہ دیش میں جا کر بَرملا کہا کہ پاکستان کو دولخت کرنے میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے۔تو پھر ایسے شخص کو امن اور ملفوف محبت کا پیغام؟۔ بات اگر عمران خاں کی تقریر تک محدود رہتی تو گوارا مگر کپتان کو شاید جلدی ہی بہت تھی۔ اُنہوں نے بھارتی حکومت کا رَدِ عمل آنے سے پہلے ہی بغیر سوچے سمجھے بھارتی وزیرِاعظم کو خط لکھ ڈالا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ جب نیویارک میں ہوں تو ملاقات کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ بھارتی حکومت نے ملاقات کے لیے مثبت جواب دیاتو تحریکِ انصاف نے پورے ملک میں شور مچا دیا کہ بھارت ’’مذاکرات‘‘ پر راضی ہو گیا۔ جوا باََبھارتی حکومت نے پہلے تو یہ کہا کہ بات مذاکرات کی نہیں، ملاقات کی ہوئی ہے اور پھر انتہائی حقارت سے دھتکارتے ہوئے کہہ دیا کہ ملاقات بھی نہیں ہوگی۔ تحریکِ انصاف کے اکابرین کو سوچنا چاہیے تھا کہ جو حکومت سفارتی آداب کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے عمران خاں کے خط کو میڈیا میں ’’وائرل‘‘ کر دیتی ہے، اُس سے خیر کی توقع بھلا کہاں۔ اب کپتان صاحب لاکھ کہتے پھریں کہ نریندر مودی نے ’’چھوٹا آدمی‘‘ ہونے کا ثبوت دیا ہے، بات بنتی نظر نہیں آتی۔

بھارتی دھتکار کے بعد تحریکِ انصاف کا بیانیہ یہ ہے کہ ملاقات بھی ہو جانی تھی اور مذاکرات بھی لیکن 2019 ء کے انتخابات اور سکینڈل کی زد میں آئے ہوئے نریندر مودی نے دباؤ میں آکر ملاقات منسوخ کی ہے۔ بجا! مگر کِس بھارتی حکمران نے کبھی پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا؟۔ نریندر مودی وہی کچھ کر رہا ہے جو ہمیشہ سے بھارتی پالیسی رہی ہے۔ پاکستان کا وجود اُسے کل قبول تھا نہ آج ہے اور ایٹمی پاکستان تو ہمہ وقت اُس کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ اِس پر مستزاد اقتصادی راہداری، جو دفاعی طور پر مضبوط پاکستان کو اقتصادی رفعتوں سے ہمکنار کرنے جا رہی ہے، بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی چیف آف آرمی سٹاف کا بیان اِسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ اُس نے پاکستان کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی ، اُس کا انجام بھی وہ خوب جانتا ہے۔ بھارت سمیت اقوامِ عالم کو یہ معلوم کہ بھارت کا ایک ایک شہر پاکستان کے ایٹمی میزائلوں کی زَد میں۔ اِس لیے ناممکن ۔۔۔۔۔ ناممکن کہ بھارت کبھی خواب میں بھی پاکستان پر حملہ آور ہونے کا سوچے۔


ای پیپر