تنخواہوں سے کٹوتی
26 ستمبر 2018 2018-09-26

حکومت پنجاب محکمہ خزانہ کی جانب سے تنخواہوں میں کٹوتی کے حوالے سے ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔ اس حکم نامے کے مطابق صوبائی وزراء کی ایک ماہ کی تنخواہیں ، بعض ا فسران کی دو دن کی تنخواہ اور بعض کی ایک دن کی ٹنخواہ کی کٹوتی کی جائے گی۔ کاٹی گئی یہ رقم سپریم کورٹ اور وزیر اعظم کے ڈیم فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔ ڈیم فنڈ کے لئے عطیا ت جمع کرنے کی مہم کافی آگے جاچکی ہے۔ وزیر اعظم نے چندہ مہم میں حصہ لیا ہے ۔ اس سے قبل چیف آف آرمی سٹاف اپنے ادارے کی طرف سے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا چیک وزیر ا عظم اور چیف جسٹس کو پیش کر چکے ہیں۔لاہور اور کراچی چیمبر آف کامرس کے علاوہ جنرل مشرف اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔اسطرح کی مہم صرف پیسے جمع کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے احساس شراکت اور اپنائیت بھی پیدا ہوتا ہے۔اس مہم کے حامی غزوہء تبوک اور کئی دیگر حوالوں سے چندہ مہم کے حق میں دلائل لا رہے ہیں جبکہ اس پالیسی اور سوچ سے اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

چندہ مہم کتنی درست ہے یہ کامیاب ہوتی ہے یا نہیں اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے کٹوتی کے اور اس کے جواز کی بات کرتے ہیں۔ محکمہ خزانہ پنجاب کی طرف سے 14 ستمبر کوجاری ہونے والے مراسلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کس سطح پر ہوا۔ بظاہر یہ ہدایت نامہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 4 جولائی 2018 کے فیصلے کا تسلسل ہے۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیامیر بھاشا اور مُہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ نگران حکومت نے اس فیصلے کی روشنی میں کٹوتی کا فیصلہ کیا۔ نگران کابینہ کی جانب سے کٹوتی کو نہ صرف رضاکارانہ قرار دیا گیا بلکہ اس ضمن میں تجاویز بھی طلب کی گئیں۔ اس فیصلے کو عملی شکل دینے کے لئے فنانس ڈویژن کی جانب سے تنخواہوں سے کٹوتی کا ہدایت نامہ جاری کیا گیا۔ صوبائی محکمہ خزانہ کا مذکورہ مراسلہ بظاہر سپریم کورٹ اور پھر فنانس ڈویژن کے مراسلے کا تسلسل ہے۔ گمان یہی ہے کہ ستمبر کی تنخواہ کٹوتی کے بعد ادا کی جائے گی۔ بات کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے ہم کچھ قواعد اور اعلیٰ عدلیہ کی آراء پر نظر ڈالتے ہیں۔

اگر ہم ملازمت ،آجر employer)) ملازم اور تنخواہ کے معاملے کو قواعد ملازمت اور عدالتی نظائر کی روشنی میں دیکھیں تو ایک دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے۔ لاہور کارپوریشن بنام امتیاز کاطمی( PLD 1996 LHR )میں فاضل جج نے تنخواہ سے جڑے حق اور اس ضمن میں آجر /محکمے کی ذمہ داری کی تشریح کرتے ہوئے رائے دی ’’ جب تک ملازم فرائض کی انجام دہی کر رہا ہو آجر کو تنخواہ روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ عدالت نے روکنے کے لئے withhold کا لفظ ا ستعمال کیا۔ یہ لفظ تنخواہ کو کلی ہی نہیں جزوی طور پر روکنے کا بھی احاطہ کرتا ہے۔تنخواہ وصول کرنے کے بلا روک حق کی مزید تشریح زیب النساء بنام حکومت پنجاب ( 1995 CLC 1288 ) میں کی گئی ہے۔ عدالت نے قراردیا کہ ملازم اپنے گریڈ کے مطابق صرف تنخواہ کا حقدار نہیں ہوتابلکہوہ گریڈ سے جڑے تمام حقوق مراعات اور فوائد کا بھی حقدار ہوتاہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملازمین سرکار کے حقوق کو قواعد میں تشریح کے ذریعے مزید بہتر بنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تنخواہ و مراعاتریاست کی ملازمین کے لئے بخشیش یا عطاء نہیں! بلکہ ملازم کا لازمی حق ہے! ریاست اپنے ملازمین کو تنخواہ اور دیگر مراعات بلا تاخیر ادا کرنے کی پابند ہے۔ عدالت نے اتنا ہی کافی نہیں سمجھا !بلکہ تنخواہ روکنے کے عمل کو آئین کے آرٹیکل 14کی خلاف ورزی قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ نے تنخواہ کوصرف اد ائیگی سے نہیں جوڑ ا! بلکہ ملازم کی جانب سے وصول کئے جانے سے جوڑا ہے۔اس ضمن میں عدالت کی جانب سےright to receive his salary/wages by him. کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

سطور بالا میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تنخواہ اور اس کے ساتھ جڑے دیگر فوائدپورے طور پر ادا کرنا حکومت ،محکمہ ،ایجنسی اور آجر کا فریضہ اور ملازم کا حق ہے۔ مزید یہ کہ اگر اس حوالے سے فرض کی ادائیگی میں کوئی تاخیر یا رکاوٹ سامنے آئے تو زنجیر عدل ہلائی جا سکتی ہے۔درجنوں نظائر میں عدالتوں کی جانب سے ملازم کو ریلیف ملا ہے۔ تنخواہ کے حق کو سمجھ لینے کے بعد لازم آتا ہے کہ اس کی ادائیگی کے طریقے پر بھی ایک نظر ڈالیں۔ سب سے پہلے ہر ادارہ اپنے ملازمین کی فہرست اور تنخواہ مراعات کے مطابق اپنا مطالبہ /تخمینہ تیار کرتا ہے اور پھر متعلقہ محکمے کو پیش کرتا ہے۔ اسطرح فوج ، پولیس ، صحت ، تعلیم سب محکمہ جات اپنے اپنے مطالبہ کو حکومت کے سامنے لاتے ہیں ۔ یہ تمام ممطالبات بجٹ میں شامل ہوکر قومی یا پھر صوبائی اسمبلی سے منظور ہوتے ہیں۔ ہر دفتر ، صیغے یا شعبے کو اس کے بجٹ کی اطلاع دے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد وقت موجود کا مقامی افسر تنخاہ کا بل محکمہ خزانہ کو جمع کراتا ہے ۔ یہ بل پاس ہوتا ہے پھر تنخوا ہ ملازمین میں تقسیم ہونے کا مرحلہ آتا ہے۔ اگر کس دفتر کا تنخواہ حاصل کرنے اور تقسیم کرنے کے اختیار کا حامل افسر (DDO)تبدیل ہو جائے تو نگران عارضی افسر نہ بل جمع کراسکتا ہے نہ مالی اختیارا استعمال کرسکتا ہے۔ یہ صورت تمام محکموں میں پائی جاتی ہے۔ تعلیم صحت اور کئی دیگر محکموں میں افسر خود DDO ہوتے ہیں۔جیسے کالج میں میرا انتظامی افسر میری تنخاہ کا بل جمع کرانے اور ادا کرنے کے عمل سے لا تعلق رکھا گیا ہے۔ اس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ DDO پاورز کے نوعیت دافع اختیارات (Excluding Powe1s ) کی ہے۔ یعنی یہ اختیار عطا تو ہوسکتا ہے منتقل نہیں ہوسکتا۔سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ قائم کر کے وہی طرز عمل اختیار کیا ہے جو ماضی میں حکومتی سطح پر کیا جات اتھا۔ اسے بادشاہوں کا طریقہ کار کہا جاتا تھا کیونکہ بادشاہ کی منشا کسی اصول ضابطے کی پبند نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی عدالت کی جانب سے ایک پاپولر فیصلہ کیا گیا۔ پھر جلد میں اسے نگران کابینہ نے اختیار کر لیا ۔ نئی حکومت نے نہ صرف اس فیصلے کو قبول کر لیا ہے بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔ فنڈ کا نیا نام سپریم کورٹ وزیراعظم فنڈ قرار پایا ہے۔ تنخواہوں میں کٹوتی کا حکمنامہ اسی بات کا تسلسل ہے۔ اس سارے عمل کی ضرورت و اہمیت سے انکار ہر گز نہیں ہے اس سارے عمل سے محکمانہ اور مالیاتی قواعد کے علاوہ تنخواہ کی تقسیم اور وصولی کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں جن کا جوا ب اس لئے ملنا ضروری ہے کہ خواہش کی حکومت کی بجائے قانون واصول کی حکومت کا تاثر قائم ہو! اس ضمن میں مندرجہ ذیل سوالات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

* کیا تنخواہ کی جزوی کٹوتی تنخواہ روکنے کے مترادف یا وصولی میں رکاوٹ جیسی نہیں ہے؟

*کیا وفاقی اور پھر صوبائی سطح پر از خود خٹوتی سے DDO کے مسلمہ تصور کی نفی نہیں ہوئی؟

*جب ایک مد کے لئے منظور شدہ بجٹ دوسری مد میں منتقل ہوتا ہے تو اس کے لئے باقاعدہ طریقہ اختیار ہوتا ہے۔ موجودہ تناظر میں سب منظوریاں اور تخصیص کہاں ہیں؟

*جناب COAS اورC J ایک تصویر اور ایک صفحہ پر دکھائے گئے ہیں اچھا لگا۔ جناب CJ کوایک ارب روپ کا چیک پیش کیا گیا یہ بھی ٹھیک! لیکن کیاCOAS سب کی طرف سے ادائیگی

اصول و قانون کے مطابق ہے؟

* نگران کابینہ کی جانب سے عطیہ کے رضاکارانہ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔یہ آپشن کب اور کس نے ختم کیا؟


ای پیپر