دولت نہیں تربیت ضروری ہے
26 ستمبر 2018 2018-09-26

زندگی گزارنے کے لیے دولت اور وسائل کا ہونا ضروری ہیں۔ انسان روئے زمین پر ان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔یہ ضرورتیں فطرت نے انسان کے لیے پیدا کی ہیں اور تمام ضرورتوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا انسان کے اختیار میں نہیں ہے ۔لیکن یہ دولت اور وسائل کتنے ہونے چاہیے، کس کے لیے کمائے جانے چاہیے، کتنے کمائے جانے چاہیے اور کس طرح کمائے جانا چاہیے اس کا اختیار انسان کے پاس ہے ۔

آپ کسی دن فرصت کے لمحات میں اپنی زندگی کا مشاہدہ کریں تو آپ کو اس نتیجے پر پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ ہم زندگی میں جو بھی کماتے ہیں اس کا صرف دس فیصد اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں باقی کا نوے فیصد ہم اپنی اولاد، بیوی، ماں باپ بہن بھائیوں اور رشتے دارواں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ اگر میری ضرورت دس فیصدہے تو میں سو فیصد کیوں کمانا چاہتا ہوں۔ اولاد رشتے دار اور ماں باپ بھی یقیناًآپ کی زمہ داری ہیں لیکن ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز کو بھول جانا کونسی سمجھداری ہے ؟

ہم انکی خواہشات کی تکمیل کے لیے جھوٹ بولتے ہیں،بیواوں کے سر سے چھت چھین لیتے ہیں۔ یتیموں کا حق کھا جاتے ہیں۔ دن رات کرپشن کرتے ہیں۔ پیسہ لوٹنے کے نئے نئے طریقے ایجادکرتے ہیں اور جب ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو ہم فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم یہ سب کچھ اپنی اولاد کے لیے کر رہے ہیں۔لیکن ہم اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ حرام کے بیجوں سے حلال کی کونپلیں نہیں پھوٹتیں۔ بددعاوں کے بادلوں کے سائے میں کمائی گئی دولت سے کبھی رحمت کی بارش نہیں برستی۔حق داروں کے سر کچل کر ان کی کھوپڑیوں سے بنائی گئی کامیابی کی عمارت کبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ کرپشن سے کمائی گئی دولت کے ڈھیر پر کھڑا ہونے سے آپ کا قد ہمیشہ اونچا نہیں رہ سکتا۔ زندگی میں بولے گئے بڑے بول قبر کی دیواروں تک آپ کا پیچھا کرتے ہیں۔ جس دولت کو کمانے کے لیے ہم کسی کا بھی سر دھڑ سے جدا کر جانے کو تیار ہوتے ہیں وہ دولت آخر میں ہمارے کسی کام نہیں آتی۔بلکہ ہماری قبر کا بوجھ بن جاتی ہے ۔ ہماری وہ دولت دنیا کے کتے کھا جاتے ہیں اور ہم اس دولت کا بوجھ جہنم کی سزا پانے تک اٹھاتے رہتے ہیں۔

انسان کی ہزاروں سالہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اولاد کے لیے حرام دولت جمع کرنے کو کامیابی سمجھنے والے دنیا میں ذلیل ہو جاتے ہیں اور دنیا ان کی کہانی کو عبرت کے طور پر یاد رکھتی ہے ۔ہماری زندگی میں ایسے سینکڑوں واقعات سامنے آتے ہیں جہاں ماں باپ کے دس دس بچے ہوتے ہیں اور انھیں ساری زندگی ایک بھی بچے کا سکون نصیب ہوتا۔ ان کی اولاد تعلیم یافتہ، نمازی اورحاجی ہونے کے باوجود بھی ماں باپ کی نافرمان ہوتی ہے ۔انھیں ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے نوکروں اور محلے داروں کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔انھیں صاحب حیثیت اولاد کے گھر میں رہنے کے لیے ان کے گھر کا خرچہ اٹھانا پڑتا ہے ۔ جس اولاد کے لیے باپ نے حرام حلال کی تمیز کیے بغیر دولت کے ڈھیر لگا ئے ہوتے ہیں ان کی اولاد انھیں دفنانے سے پہلے بینک بیلنس کا پتہ لگا نے نکل پڑتی ہے ۔ ان کے مرنے کی خبر ملتے ہی وہ جائیداد کی رجسٹریوں کو قبضہ میں کرنا فرض اول سمجھتے ہیں۔ اگر باپ کا انتقال بیرون ملک ہو جائے تو اولاد بیرون ملک رشتے داروں سے یہ کہ کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ ابا کو وہیں دفنا دیں پاکستان لا کر ہم پر بوجھ مت ڈالیں اور آخر میں پانچ پانچ بیٹے ہونے کے باوجود بھی باپ کو مرتے وقت کسی ایک کا کندھا نصیب نہیں ہوتا۔ انھیں لوگ سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اور انسانیت کے ناطے دفنا دیتے ہیں۔

ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہمیں کس چیز کا مان ہے ۔ ہم کس بات پر اتراتے ہیں۔ ہمیں کس طاقت کا گھمنڈ ہے ۔ جس حرام دولت کو ہم ساری زندگی اپنی طاقت اور اس دولت سے پالی ہوئی اولاد کو اپنا گھمنڈ سمجھتے رہتے ہیں وہی دولت اور اولاد ہماری ذلت اور رسوائی کی وجہ بن جاتے ہیں۔اور اس ذلت اور رسوائی کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ ہم ساری زندگی دولت کو تربیت پر فوقیت دیتے ہیں۔جب بھی دولت ، اقدار، رشتوں ، محبت اور تربیت کے مابین مقابلہ ہوتا ہے تو ہم آگے بڑھ کر دولت کے حق میں ووٹ ڈال دیتے ہیں اور اولاد کو بھی یہ سکھاکرجاتے ہیں کہ دولت ہے تو رشتے ہیں ۔لیکن جب یہی سوچ عمرکے آخری حصے میں اولاد کی نافرمانی کی شکل میں زہریلا پھل دیتی ہے تو اس پھل کو نہ آپ کھا سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔

آئیے آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم اولاد کی تربیت کو دولت کمانے پر فوقیت دیں گے۔ ہم بچپن سے ہی ان میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کہ دولت سے زیادہ ماں باپ اور رشتے اہم ہوتے ہیں۔ہم انھیں مستقل بنیادوں پر یہ احساس دلاتے رہیں گے کہ کیوں اللہ کے نبی اپنی دائی ماں کے آنے پر تکریم میں کھڑے ہو جاتے تھے ۔ کس طرح اللہ کے نبی، صحابہ اور اولیا اللہ اپنے والدین کی عزت کرتے تھے۔ ان کی نظر میں والدین کا کیا درجہ اور احترام تھا اور اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب والدین کی عزت اور احترام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

ہم ان میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہماری زمہ داری ان کی صحیح پرورش کرنا ہے انھیں تعلیم دلوانا ہے ان میں اچھے اور برے کا شعور پیدا کرنا ہے ۔ ان کے لیے دولت جمع کرنا ہماری زمہ داری نہیں ہے ۔ ان کے لیے بنگلے اور جائیدادیں بنانا ہماری زمہ داری نہیں ہے ۔آپ انھیں بتائیں کہ ہم آپ کے لیے صرف اتنا چھوڑ کر جائیں گے جس سے وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہوں اور ہمارے پاس جو بھی زائد ہو گا وہ مرنے سے پہلے کسی ٹرسٹ کے نام کر جائیں گیاور انھیں تلقین کریں کہ وہ بھی اپنی اولاد کے لیے دولت اکٹھی کرنے کی بجائے ان کی تربیت کریں اور ان کے لیے لیے صرف اتنا چھوڑیں کہ وہ بھکاری نہ بن جائیں کیونکہ جو پیسہ آپ آنے والی نسلوں کے لیے جوڑتے ہیں وہ آپ کا نہیں ہوتا لیکن اس کے صحیح اور غلط استعمال کے ذمہ دار آپ ہی ہوں گے ۔جس دن ہم صحیح معنوں میں اپنی اولاد کی تربیت کرنے اوران کے اندرتربیت کو دولت پر فوقیت دینے کے احساسات پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے وہ دن ہماری کامیابی کا دن ہو گا اور یہ دنیا رہنے کے لیے جنت بن جائے گی۔


ای پیپر