ڈاکٹر یاسمین راشد محکمہ صحت کو کیسے بہتر بنا سکتی ہیں؟
26 ستمبر 2018 2018-09-26

ہسپتالوں میں ایک اور بڑا مسئلہ سفارشی اور پروٹوکول مریضوں کا ہے۔ ڈاکٹرز اور مریض دونوں اس سے تنگ ہیں۔ پہلے ڈاکٹرز کی بات کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز کے پاس جب کوئی سفارش آتی ہے تو وہ دو طرح کی ہوتی ہے۔ یا تو وہ کسی بڑے عہدیدار، سرکاری افسر یا سیاستدان کی طرف سے ہے یا پھر وہ اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کی طرف سے ہے۔ دونوں صورتوں میں کسی بھی ڈاکٹر کے لیے انکار ممکن نہیں ہے۔ آپ اپنے معاشرے کو سامنے رکھتے ہوے بتائیں کہ کیسے ایک ڈاکٹر کسی بڑے افسر کی اس سفارش کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ اس کے مریض کا کام دوسرے مریضوں سے پہلے کر دیا جائے۔ یا کیا آپ کبھی اپنے رشتے دار یا دوست کو یہ کہ سکتے ہیں کہ آپ کے مریض کا ایکسرے، سی ٹی سکین یا آپریشن اتنی ہی دیر بعد ہو گا جتنی دیر بعد ایک بغیر سفارش والے مریض کا ہو گا؟ نوجوان ڈاکٹرز روزانہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر اپنے جاننے والوں کے مریضوں کی سفارش کے لیے مختلف وارڈز کے چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مریض بھی اس سفارش کلچر سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ وہ انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور انکی باری پر کوئی اثرو رسوخ والا مریض اپنا کام کروا جاتا ہے۔ دو مہینے بعد آپریشن کا ٹائم ملتا ہے۔ جب وہ اپنے ٹائم پر پہنچتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ آپریشن ملتوی ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے انکی جگہ کوئی اور اپنا آپریشن کروا گیا ہے۔ اور وہ ڈاکٹرز کو گالیاں دیتا ہوا چلا جاتا ہے حالانکہ اسے یہ نہیں معلوم کہ ڈاکٹرز تو خود اس سفارش کلچر سے بری طرح اکتا چکے ہیں۔ اب اسکا حل کیا ہے؟ سادہ اور صاف ستھرا حل ہے۔ زیادہ سے زیادہ نظام کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا جائے۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں کی ویب سائٹس ہوں۔ معمول کی آپریشن تھیٹر لسٹیں وہاں موجود ہوں۔ لیب، ایکسرے، سی ٹی سکین اور ایم آر ای کا نظام آن لائن ہو۔ OPD میں بینک کی طرح ٹوکن سسٹم ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ اس سے 100 فیصد مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں لیکن 50 فیصد ہی سہی۔ کچھ تو بہتری آئے گی۔

دوسرا بڑا مسئلہ ہسپتالوں میں سیکورٹی سسٹم کا ہے۔ چند بڑے ہسپتالوں کے علاوہ چھوٹے ہسپتال مکمل غیر محفوظ ہیں۔ تحصیل و ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں روز روز کے واقعات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ ایک طرف مشینری کا فقدان ہے اور دوسری طرف ایک ایک مریض کے ساتھ 10،10 لواحقین آ جاتے ہیں۔ میڈیکولیگل رپورٹ نے ڈاکٹرز کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ یہ رپورٹ مریض کو تب دی جاتی ہے جب معاملہ لڑائی جھگڑے کا ہو یا جہاں لواحقین نے قانونی کاروائی کرنی ہو۔ اب وہ مخالف پارٹی پر سخت پرچہ کٹوانے کے لیے مرضی کی رپورٹ چاہتے ہیں۔ ادھر ڈاکٹر نے انکار کیا ادھر چوہدری صاحب کے 50 کے قریب جانثار ڈاکٹر پر حملہ آور ہو گئے۔ ہر کوئی تو چوہدری ہے، کسی کا تعلق وکالت سے ہے، کوئی میڈیا سے ہے، کوئی سیاستدان ہے اور کسی کا بڑا ڈاکٹر واقف ہے۔ ایک نہتا نوجوان ڈاکٹر کس کس کا سامنا کرے۔ اور پھر میڈیکل ایک ایسا شعبہ ہے جس میں 50 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔ آپ ڈاکٹر ہیں یا غیر ڈاکٹر ، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے بتائیں کہ کیا آپ اپنی بیوی، بیٹی یا بہن کو کسی دور دراز علاقے میں بطور میڈیکل افسر بھیجیں گے؟ جہاں آپ کو ڈر ہو کہ کوئی بھی مقامی چوہدری آپ کی بیٹی سے بدتمیزی کر سکتا ہے۔ کیا ایک عورت کے لیے میڈیکولیگل رپورٹ کو ڈیل کرنا آسان کام ہے؟ آخر کیوں آپ کے بیشتر مقامی ہسپتالوں میں سیٹیں خالی پڑی ہیں؟ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وقتی ڈھنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت اس سے نمٹا جاتا ہے۔ خدا کا واسطہ ہے ہسپتالوں کا باقاعدہ سیکورٹی سسٹم بنائیں۔ اس کے لیے قانون سازی کریں۔ کسی پرنسپل یا ایم ایس کو معطل کرنے سے سیکورٹی بہتر نہیں ہو سکتی ۔ پورے پنجاب میں ایک ہی قانون کے تحت مربوط سیکورٹی نظام تشکیل دیں اور اس پہ عمل کروائیں۔

اور آخری بات، ڈاکٹرز کا سروس اسٹرکچر ہے۔ اس معاملے پر شہباز شریف صاحب نے ہزاروں وعدے

کیے اور ہزاروں میٹنگز کیں لیکن کوئی وعدہ وفا نا ہوا۔ عام قارئین کے لیے میں واضح کر دوں کہ سروس اسٹرکچر سے مراد ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت ایک ملازم کو چند مطلوبہ شرائط پوری ہونے کے بعد خود بخود اگلے گریڈ میں ترقی ملتی ہے۔ جس طرح بیوروکریسی اور آرمی میں ہوتا ہے۔ جب ایک ڈاکٹر ایم بی بی ایس اور ہاؤس جاب کرتا ہے تو وہ گریڈ 17 میں بھرتی کا اہل ہوتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ 5 سال لگا کر ایف سی پی ایس کرتا ہے تو اسکا حق ہے کہ اسے فوری طور پر گریڈ 18 میں ترقی دی جائے۔ لیکن یہاں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ بیشمار ڈاکٹرز ایف سی پی ایس کرنے کے بعد 10،10 سال تک گریڈ 18 کے منتظر رہتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا سروس اسٹرکچر انکا حق ہے اور اس وعدے پہ عمل ہونا چاہیے۔

اور بھی بیشمار مسائل ہیں لیکن چند بڑے مسائل اور انکا حل میں نے گزشتہ اور آج کے کالم میں تحریر کر دیا ہے۔ میڈم یاسمین راشد صاحبہ آپ تو خود ایک سینئر ڈاکٹر ہیں۔ ہڑتالوں اور احتجاج شروع ہونے سے پہلے ان مسائل کو حل کرنے کا لائحہ عمل دیں۔ جب بھی ہڑتالیں اور احتجاج ہوتے ہیں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹرز کا مسئلہ کیا ہے جناب گزشتہ عشروں سے یہی مسائل ہیں اور ابھی تک حل طلب ہیں۔ مجھے معلوم ہے یہ مسائل دنوں یا مہینوں میں حل نہیں ہو سکتے لیکن اس کے لیے سفر تو شروع کریں۔ ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیمات کے ساتھ بیٹھ کر مناسب روڈ میپ بنائیں۔ ورنہ محض ہنگامی دوروں اور چھاپوں سے مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔


ای پیپر