حسینیت، یزیدیت اور ہم
26 ستمبر 2018 2018-09-26

سورہ العصر میں فرمانِ الٰہی ہے کہ ’’ زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اورنیک اعمال کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور باہم صبر کی وصیت کی‘‘۔

اللہ نے زمانے کی قسم کھا کر کہا کہ انسان خسارے میں ہے۔ صرف وہ لوگ نقصان میں نہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ایمان صرف لفظی نہیں بلکہ دل سے اس بات کو مانناکہ رزق، دولت، عزت، شہرت، خوشی، غمی ،کامیابی اور ناکامی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب اس بات کا یقین آ جائے تو پھر سب خوف ختم ہو جاتے ہیں اور صرف اللہ کا خوف دل میں باقی رہ جاتا ہے۔ پھر انسان رضائے الٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے بغیر کسی دنیاوی لالچ اورڈر کے اللہ کے احکامات پر عمل کرتا چلا جاتا ہے اور نیک اعمال کرنے میں دشواری محسوس نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی کہا گیا کہ وہ خسارے میں نہیں۔ وہ لوگ بھی خسارے میں نہیں جو حق کی بات کرتے ہیں اورحق کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں کہ حق اور سچ کی بات کریں تو دنیاوی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، تو پھر کہا گیا کہ وہ صبر بھی کرتے ہیں اور صبر کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھی نقصان میں نہیں۔

وہ چند افراد پر مشتمل قافلہ، رضائے الٰہی کو دل میں بٹھائے؛ احکام الٰہی کے پرچارکے لئے؛بغیر کسی خوف کے؛ حق کی بات کرتے ہوئے ڈٹ گیا۔ حضرت امام حسین ؓ چند افراد کے ساتھ باطل کے خلاف کھڑے ہوئے اور پھر جو مشکلات پیش آئیں انہیں صبر سے برداشت کیا ۔ ان کے قدم ایک لمحے کے لئے بھی نہیں ڈگمگائے۔اس وقت بھی وہ حق سے پیچھے نہیں ہٹے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جب اپنے معصوم بچے کی گردن سے خون کافوارانکلتے دیکھا ۔ پھر ظاہری ناکامی کے باوجود کامیاب ہوئے ۔ وقت نے ثابت کیا کہ یزید خسارے میں رہا اور رضائے الٰہی کو تسلیم کرنے، نیک اعمال کرنے، حق پر ڈٹ جانے اور صبر کرنے والا یہ قافلہ کامیاب ہو گیا۔ حسینؓ ہمیشہ کے لئے زندہ باد ہوگئے اور یزید ذلیل و رسوا۔

واقعہ کربلا اور شہادتِ حسینؓ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک لکیر ہے جو اس دن حق اور باطل میں کھینچی گئی۔ اس دن نے دو School of Thoughts کو الگ الگ کر دیا۔ ایک طرف حسینیت اور دوسری طرف یزیدیت ۔ یزیدیت ظلم کا نام ہے، دھوکے کا نام ہے، لوٹ مار کا نام ہے ،ناانصافی کا نام ہے،قتل وغارت کا نام ہے، دولت ، اقتدار اور طاقت کی حوس کا نام ہے جبکہ حسینیت مظلومیت، سچائی، ایمانداری، عدل ، ایثار، حق اور صبر کا نام۔ اس دن نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ حسینیت کا راستہ آسان نہیں۔ اس راستے پر مشکلات ہیں اور یہاں قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں، مگر حقیقی کامیابی کا یہی راستہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں ہار کر بھی جیت ہوتی ہے۔ دوسری جانب یزیدیت میں ظاہری کامیابی اور چمک دمک تو ہو سکتی ہے مگر اس جیت میں بھی خسارہ ہے، ذلت اور رسوائی ہے۔

دو چار دن کے لئے اس واقعے کو یاد کرلینا، اس پر افسوس کا اظہار کرلینا، اس ظلم کی داستان پر چند اشعار پڑھ دینا نہ تو حسینیت کا اصل پرچار ہے اور نہ ہی حسینؓ سے محبت۔افسوس کہ ہم طاقت، دولت، شہرت اور اقتدار کی حرص لئے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ظلم کرتے ہیں اور پھر حضرت امام حسینؓ سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ۔ حسینؓ سے حقیقی لگاؤ، یزیدیت کا انکار اور حسینیت کا اقرار ہے اور حسینیت کا حقیقی اقرار حق کے ساتھ کھڑے رہنا ، باطل کا انکار کرنا ، مظلومیت کا ساتھ دینا اور ظلم سے نفرت کرنا ہے۔

ہمارے معاشرے میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ایسے واقعات ہوتے ہیں اوربیسیوں ایسے افراد دکھتے ہیں جن سے یزیدیت جھلکتی ہے۔ شہادتِ حسینؓ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کے ساتھ نہ کھڑا ہوا جائے۔ چاہے وہاں طاقت نہ ہو، چاہے وہاں مفاد نہ ہو، چاہے وہاں دولت نہ ہو،چاہے بہت تھوڑی تعداد میں لوگ ساتھ ہوں، چاہے اس میں ظاہری نقصان ہی ہو ۔۔ کھڑا حق ہی کے ساتھ ہونا ہے، بات حق ہی کی کرنی ہے۔ واقعہ کربلا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حسینیت کو دل میں جگہ دی جائے اور یزیدیت اور یزیدی خواہشات سے نفس کو پاک کیا جائے۔ یہی حسینؓ سے حقیقی محبت ہے اور یہی واقعہ کربلا کا اصل پیغام ہے۔


ای پیپر