میری نواز شریف سے کوئی علیحدہ پالیسی نہیں:شہباز شریف
26 ستمبر 2018 (18:58) 2018-09-26

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری نواز شریف سے کوئی علیحدہ پالیسی نہیں ، جمہوریت میں ایک رائے دینا جمہوری حق ہوتا ہے، نواز شریف ہمارے قائد ہیں اور انہی کو ہم فالو کرتے ہیں.

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری سے مدد کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا،خریدو فروخت کی ایک منڈی صدارتی الیکشن میں لگائی گئی،18 ویں ترمیم کی رول بیک کی باتیں فی الوقت قبل از وقت ہیں، تحریک عدم اعتماد ایک پارلیمانی اقدام ہے لیکن ابھی ملک کو استحکام چاہیے،میٹرو بس پراجیکٹ کا شوق سے احتساب کریں یا آڈٹ کرائیں لیکن پشاور میٹرو کو بھی شامل کرلیں،عجیب بات ہے، نواز شریف کو سپریم کورٹ یا احتساب عدالت سزا دے تب ڈیل نہیں اور ہائیکورٹ سزا معطل کردے تو ڈیل ہے۔

وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے ۔اس موقع پر بیگم کلثوم نواز کے ایصال کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں پہلی بار نہیں آیا، اس سے قبل 1990ءمیں اس ایوان کا ممبر منتخب ہوا ،پی آر اے کے ساتھ ویسے ہی خوشگوار تعلق رہے گا جیسا سابق سپیکر ایاز صادق کا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن کی خواہش ہے کہ متحد ہوکر چلا جائے، وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر تقسیم ضرور ہوئی لیکن اپوزیشن بہرحال ایک ہے، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور قومی ایشوز پر ہم سب ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ خارجہ، داخلہ اور قومی سلامتی کے امور پر اتفاق رائے رہے، پی اے سی کو میں خود ہیڈ کروں گا اور جو روایات ہیں انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن سے رابطے روز ہوتے ہیں، مدد کے لیے آصف زرداری سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ پیپلزپارٹی سے کوئی مدد طلب کی گئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہخریدو فروخت کی ایک منڈی صدارتی الیکشن میں لگائی گئی، ہم ایسی خریدوفروخت پر یقین نہیں رکھتے ، پی ٹی آئی نے جس طرح جہاز بھر بھر کے ارکان کو خریدا وہ بھی سب کے سامنے ہے، تمام اداروں کا آئین میں ایک کردار ہے، جنہیں آئینی حدود میں ہی رہنا چاہیے،18 ویں ترمیم کی رول بیک کی باتیں فی الوقت قبل از وقت ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکمران 70گاڑیاں نیلام کرنے والے واویلا کررہے ہیں، ہم نے 500گاڑیاں اپنے دور میں نیلام کیں،ضمنی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں، حکومت نے آتے ہی عوام پر مہنگائی بم گرا دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ایک پارلیمانی اقدام ہے لیکن ابھی ملک کو استحکام چاہیے، پارلیمنٹ کسی کو بنا بھی سکتی ہے اور ہٹا بھی سکتی ہے تاہم یہ پری میچور بات ہے۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر من پسند احتساب کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے احتساب کیا جایے گا تو اس کی حمایت کریں گے ،عجیب بات ہے، نواز شریف کو سپریم کورٹ نااہل کرے یا احتساب عدالت سزا دے تب ڈیل نہیں اور ہائیکورٹ سزا معطل کردے تو ڈیل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی ملک کی خدمت کررہی ہے اسے من پسند کی بھینٹ چڑھایا گیا تو خود حکومت کو مشکل ہوگی،میٹرو بس پراجیکٹ کا شوق سے احتساب کریں یا آڈٹ کرائیں لیکن پشاور میٹرو کو بھی شامل کرلیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہمارے قائد ہیں اور انہی کو ہم فالو کرتے ہیں، میری کوئی علیحدہ پالیسی نہیں البتہ جمہوریت میں ایک رائے دینا جمہوری حق ہوتا ہے اس الیکشن میں بہت سے لوٹوں کو اٹھا کر بیت الخلاء بھیج دیا ہے۔


ای پیپر