ہر حکومت نے بلوچستان کارڈ کھیلا :اختر مینگل
26 ستمبر 2018 (18:51) 2018-09-26

اسلام آباد:حکومتی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی منی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر حکومت نے اپنے مفادات کے تحفظ کےلئے بلوچستان کے کارڈ کو کھیلا ہے.

ہم ڈیمز، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر مانگتے ہیں اور بدلے میں ہمیں چھونیاں دی جاتی ہیں ،ہمیں چھونیاں نہیں تعلیمی ادارے دئےے جائیں،ملک میں وافر بجلی ہونے کے باوجود1800میگاواٹ کی بجائے600میگاواٹ بجلی دی جا رہی ہے، یٹائرڈ جج ،جرنیل اور بیوروکریٹ کی اندروان اور بیرون ملک جائیدادوں کی فہرست اور انکی کس کس ملک کی شہریت ہے اسکی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں،منی بجٹ میں ہمیشہ عوام پر بوجھ ڈالا جاتا ہے، حکومت نے گیس کی قیمتیں بڑھائی ہیں جس کے ساتھ بجلی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی، جس کا اثر نا چاہتے ہوئے بھی آج نہیں تو کل غریب عوام پر پڑے گا،ہمیشہ آئی ایم ایف یا عالمی بینک کے دباﺅ پر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں، بدقسمتی سے ہماری اقتصادی پالیسیاں خود مختار نہیں رہیں۔

وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں فنانس ترمیمی بل 2018پر جاری عام بحث میں اظہار خیال کر رہے تھے۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کو منی بجٹ کے ساتھ پی ایس ڈی پی کی کاپی فراہم کرنا چاہیے تھی، مجھے سینیٹ کے ایک رکن نے پی ایس ڈی پی کی کاپی فراہم کی ہے، ہمیشہ جب منی بجٹ پیش کیا جاتا ہے اس کی دلیل بھی ساتھ دی جاتی ہے، منی بجٹ میں ہمیشہ عوام پر بوجھ ڈالا جاتا ہے، حکومت نے گیس کی قیمتیں بڑھائی ہیں جس کے ساتھ بجلی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی، جس کا اثر نا چاہتے ہوئے بھی آج نہیں تو کل غریب عوام پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف یا عالمی بینک کے دباﺅ پر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں، بدقسمتی سے ہماری اقتصادی پالیسیاں خود مختار نہیں رہیں، ہماری اقتصادی پالیسی ہمیشہ کشکول کی مرہون منت رہی ہیں، جب تک معاشی طور پر خود مختار، قرضوں سے چھٹکارا اور خارجہ پالیسی کا اختیار منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں آتا اسی طرح کے چھڑلو الیکشن کےلئے ہمیں ہر 5سال بعد تیار رہنا ہو گا، گزشتہ 5سالوں کے پی ایس ڈی پی کا مطالعہ کیا جائے تو دعوے کئے جاتے ہیں کہ بلوچستان میں دودھ کی نہریں بہا دی گئی ہیں۔

ہر ممبر نے اپنی تقریر میں گوادر کا ذکر کیا ہے،اپنے خوابوں کی تعمیر کےلئے غریبوں کی جھونپڑیوں کو ختم کیا گیا اور ماہی گیروں کو سمندر سے 25کلومیٹر دور آباد کیا گیا، گوادر کے نام پر ملک نے ترقی کی اور ڈالروں کی سرمایہ کاری ملک میں آئی، گوادر کے معاہدوں کو خفیہ نہ رکھا جائے، ہمیں بتایا جائے وہ قرضہ تھا یا سرمایہ کاری ہے، 60 یا 65ارب ڈالر میں سے گوادر کے لوگوں کو کیا دیا گیا، گوادر کو آج بھی بجلی ایران سے آرہی ہے، ہم گوادر کو میگا سٹی بنا رہے ہیں، ہر حکومت نے اپنے مفادات کے تحفظ کےلئے بلوچستان کے کارڈ کو کھیلا ہے، ہمارے حکمرانوں کو بلوچستان کا جغرافیہ بھی معلوم نہیں ہے، بلوچستان کے لوگ پینے کے پانی کے محتاج ہیں، بلوچستان زیر زمین پانی کی سطح دن بدن گرتی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ملک میں وافر مقدار میں بجلی دستیاب ہے، مگر وافر مقدار کی بجلی بلوچستان کو فراہم کیوں نہیں کی جاتی، بلوچستان میں بجلی کی طلب 1800میگاواٹ ہے مگر صرف 600میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، بلوچستان میں ٹرانسمیشن لائنیں خستہ حال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نارن ڈیم کو ہر سال پی ایس ڈی پی میں ڈالا جاتا ہے مگر کسی کی پسند نا پسند کی بنیاد پر اس کو ڈراپ کر دیا جاتا ہے، اس کو آئندہ سال پی ایس ڈی پی میں ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میں غیر ملکیوں کااثرورسوخ بڑھ رہا ہے، جس کو فوری روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ڈویلپمنٹ اور تعلیم کے خلاف ہیں، گزشتہ حکومت میں احسن اقبال سے ہمارے مذاکرات ہوئے میں نے پیشکش کی ہے ہمارے علاقے میں جتنی زمین چاہیے ہم دیتے ہیں یہاں یونیورسٹی بنائی جائے، مگر پلاننگ ڈویژن اور اسلام آباد میں بیٹھے لوگ ہمیں ابھی جہالت میں رکھنا چاہتے ہیں۔

اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں لاکھوں ایکڑ سرکاری زمین پڑی ہے، بلوچستان میں فوری کینسر ہسپتال قائم کیا جائے، ہم نے ڈیمز، صحت، تعلیم اور روڈز کےلئے تجاویز دیں۔ مگر حیرت ہے ہم تجاویز کچھ اور دیتے ہیں اور بن کچھ اور جاتا ہے، بلوچستان میں چھونیاں تو بن جاتی ہیں مگر تعلیمی ادارے نہیں ، بلوچستان میں ریکارڈ چھونیاں بنیں۔ہمیں چھونیاں نہیں تعلیمی ادارے دئےے جائیں۔انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت ہچکولے کھا رہی ہے،اسکے ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم سیاستدان ہیں۔کبھی کسی ریٹائر جج ،جرنیل کو کسی دوسرے ریٹائرڈ جج جرنیل کیخلاف بات کرتے کسی نے سنا ہے مگر ہم سیاستدان دوسرے سیاستدان کا قبر تک پیچھا کرتے ہیں۔میرا مطالبہ ہے کہ ریٹائرڈ جج ،جرنیل اور بیوروکریٹ کی اندروان اور بیرون ملک جائیدادوں کی فہرست اور انکی کس کس ملک کی شہریت ہے اسکی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں ۔


ای پیپر