Source : Social Media

خواجہ آصف نے حکومتی خارجہ پالیسی کا پول کھول دیا
26 ستمبر 2018 (18:33) 2018-09-26

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرخواجہ آصف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ماہ میں حکومت کی جو کارکردگی خارجہ پالیسی کے محاذ پر رہی اس میں پاکستان کو خفت اٹھانی پڑی .

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب گئے تو پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ وہ 10ارب لے آئے ہیں ، اب یہ نہیں پتا چلا ارب الف سے تھا یا عین سے، امریکی وزیر خارجہ کا بھارت میں بیان پاکستان دوستی نہیں دشمنی پر مبنی تھا،حکومت نے توقعات کوجسطرح ڈھیرکیا،ماضی میں کسی حکومت کوایسی صورتحال کاسامنانہیں کرنا پڑا۔

بدھ کوڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے ناپختہ اور بچگانہ نقطہ نظر رہا ہے اور ان حرکتوں سے پاکستان کے وقار کو دھچکا پہنچا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سعودی عرب گئے تو پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ وہ 10ارب لے آئے ہیں ، اب یہ نہیں پتا چلا ارب الف سے تھا یا عین سے۔سعودی عرب کے حوالے سے پہلے دس ارب کی امداد کی بات کی گئی بعد میں سرمایہ کاری کی نوعید سنائی جا رہی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کے حوالے سے بھارت کے انکار پر پاکستان کو دھچکا لگا اور پاکستان کو شرمندگی اٹھانی پڑی ،موجودہ حکومت خارجہ محاذ پر بری طرح ناکام رہی ہے، ملک کے وقار کو دھچکا پہنچایا گیا ہے،جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورے کے حوالے سے کہا گیا کہ نئے سرے سے تعلقات کا آغاز ہوا لیکن 24گھنٹے میں ان دعوں کا کچا چھٹا سامنے آگیا، امریکی وزیر خارجہ کا بھارت میں بیان پاکستان دوستی نہیں دشمنی پر مبنی تھا، امریکہ بھارت مشترکہ اعلامیہ میں ہمیں دہشت گرد کی حوصلہ افزائی کرنے والا ملک قرار دیا گیا ، کہا گیا کہ فرانس سے کال آئی ہم نے نہیں لی، یہ بھی پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔ امریکہ کی ٹیلی فونک گفتگو کا سکرپٹ کے ذریعے ہمیں شرمندہ کیا گیا ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سی پیک پر بھی شکوک و شبہات پیدا کیے گئے ،سی پیک پر بیان دیا گیا اسے ری وزٹ کرئیں گے وہ منصوبہ جس میں 70ممالک شامل ہوں اور اس میں 5کوریڈور شامل ہیں ۔ سی پیک ایسے وقت میں آیا جب ہمارے سرمایہ کار بھی گھبرا رہے تھے۔جب کہ افغان مہاجرین کو پاسپورٹ دینے والے بیان کو بعد میں تجویز کہہ دیا گیا۔ ،امیگریشن ایکٹ کو بھی سامنے نہیں رکھا گیا، جب دیکھا ایک اتحادی ناراض ہے تو تجویز کہہ دیا گیا۔حکومت نے توقعات کوجسطرح ڈھیرکیا،ماضی میں کسی حکومت کوایسی صورتحال کاسامنانہیں کرنا پڑا۔


ای پیپر