فوٹوبشکریہ فیس بک

ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق دو مقدمات کا فیصلہ سنا دیا
26 ستمبر 2018 (11:25) 2018-09-26

لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق دو مقدمات کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے نواز شریف، شہباز شریف سمیت دیگر افراد کی عدالت طلبی کی درخواست خارج کر دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی طلبی کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے مقدمات کا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ عدالت نے 27 جون کو وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو ماڈل ٹاون لاہور میں پنجاب پولیس نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائشگاہ کے سامنے تجاوزات کے خاتمے کیلئے آپریشن کیا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق ہوگئے۔

گاڑیوں پر ڈنڈے برسا کر شیشے توڑنے والے سانحہ کے مرکزی کردار گلو بٹ کو 19 جون کو گرفتار کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے پنجاب حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام اور 5 رکنی جے آئی تشکیل دی جس کا عوامی تحریک نے بائیکاٹ کیا۔

21 جون کو وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ سے استعفی لے لیا۔ پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو بھی عہدے سے برطرف کر دیا۔

لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے 14 اگست کو طاہر القادری نے اسلام آباد کی جانب قصاص مارچ کیا اور ڈی چوک میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

جسٹس علی باقر نجفی کمیشن نے 9 اگست کو تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر کے پنجاب حکومت کو بھجوا دی۔ راناثناءاللہ کو کلین چٹ ملنے پر 14 اکتوبر کو عہدے پر بحال کردیا گیا۔

ٹرائل کورٹ شریف بردران سمیت سابق وزرا کو کیس میں بے گناہ قرار دے چکی ہے۔ جس پر پاکستان عوامی تحریک نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔


ای پیپر