ببن خالہ اور بھارتی جنرل بپن آفت کا پرکالہ
26 ستمبر 2018 2018-09-26

مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ نہیں ہے، ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایک تجربہ کار موقعہ ہی نہیں موقعہ محل شناس شخصیت ہیں، اور وہ یہ گر بھی جانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے ناطے جام سے جام ٹکرانے کی بجائے وہ ہیلری کلنٹن سے اپنے سابقہ دور میں سر سے سر ٹکراتے رہے۔ اب اپنے حالیہ دورہ نیویارک میں وہ جس دلجمعی محنت اور یکسوئی سے پاکستان کا نقطہ نظر وزرائے خارجہ کانفرنس سے لے کر ورلڈ بینک کے صدر سے مثبت انداز میں پہچانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ اس میں سوفی صد کامیاب رہیں گے اور اقوام متحدہ میں ان کا خطاب ، بھارتی انسانی، اور آبی دہشت گردی مودی سرکار کو ہزیمت کے ساتھ پسپائی پہ مجبور کردے گا، کیونکہ جب کشن گنگا اور رتلے ڈیمز سے بات شروع ہوگی، تو کالا باغ ڈیم کے خلاف ہندوستانی اربوں روپوﺅں کی تقسیم کا بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں ، میں ان کو کامیاب تقریر اور پاکستان کا مو¿قف واضح انداز میں پیش کرنے پر خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتا ہوں گو اس وقت شاہ محمودقریشی ، یعنی سید بادشاہ کا مقابلہ اور سادھو، کنت ، اور جوگی، جادوگروں، اور کاہنوں اور کمینوں سے واسطہ ہے، بقول بابا کچھی خان کہ یہ بدبخت تو اپنے فسوں میں اتنے ماہر ہیں کہ وہ کایا پلٹ کا بھی فسوں جانتے ہیں،وہ کالے کوے کا بھی روپ دھار لیتے ہیں، یہ کوا عام کوﺅں سے خاصا بڑا ہوتا ہے، یا پھر وہ چھپکلی، چمگادڑ، سانپ، گیدڑ بڑی سی بلی کی بھی جون بدلنا پسند کرتے ہیں، ایسے خبیث کاہن ، ساحر اور جادوگر زیادہ تر یہودیوں میں ہوتے ہیں، اور بقول راقم آج کل تو مودی اور یہودی ایک ہوچکے ہیں، بلکہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اب تو ان میں ٹرمپ جیسا انتہا پسند بھی ان میں شامل ہوگیا ہے۔

ایسے خبیث ،کاہن اور جادوگر زیادہ تر یہودیوں میں ہوتے ہیں، ہندوﺅں کے نچلے طبقے کالی دیوی کے پجاریوں اور ملحد ملیچھ شودروں میں بھی پائے جاتے ہیں، یہودی جادوگروں کا یہ مخصوص طبقہ یہودی ملوکیت اور خاص نظریہ قومیت سے تعلق رکھتا ہے، یہ ساحر، کاہن، ”سحر سامری“ اور ” سحر بابلی“ کے پیروکار اور عالم ہوتے ہیں، یہ اپنے جادو کے زور پر ہرسیدھا اُلٹا کام نکلواتے ہیں، ان کے ہاں یہ جادو ایک باقاعدہ سائنس کا درجہ اختیار کر گیا ہے، اور اس سائنسی علم کی باقاعدہ تحصیل ہوتی ہے، جیسے یہ مادام آبیرے، ڈیوڈ یا جیکب کررہے تھے، بظاہر یہ روحیت کا سلسلہ ہوتا ہے۔ لیکن درپردہ یہ سفلی علوم کا حصول اور تحصیل ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ شاہ فیصل کی شہادت میں بھی ان کا ہاتھ تھا، اور یاسرعرفات پہ بھی پے درپے وار اسی لیے کئے گئے تھے اور بھی لاتعداد واقعات ہیں، جو بوجوہ منظر پہ نہیں لائے جاسکتے، ہماری تاریخ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ یہودی ابلیسی ٹولے کے ساحروں اور قزاقوں نے ہمیں کتنا نقصان پہنچایا، اور آج بھی ہمارے ازلی دشمن ، ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر ہمیں کسی بھی موقعے پر زک پہنچانے سے باز نہیں آتے۔

ہمارے صحابہ کرام ؓ اور خود نبی پاک ﷺ کی حیات مبارکہ اور بعد میں لحد مبارک تک کو نقصان پہنچانے سے باز نہ آئے، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فری میسن ہال کلچر اور انسیانی امیاءاور بہبود کے نام پہ کئے گئے یہ ادارے ، یہ تنظیمیں، سوسائٹیز کلب انہی یہودی ساحروں اور اسلام دشمن قوتوں کی بانیاں اور کمین گاہیں ہیں ۔

قارئین یہ سطور میں ایسے ہی لکھ کر آپ کا اپنا وقت ضائع نہیں کررہا۔ اس میں ہمارے سوچ وسمجھ کے انداز بدلنے کی درخواست ، اور مستقبل کے خطرات کی بیخ کنی کے سدباب کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے، کہ مسلمانوں میں کوئی فقیر ، صوفی، درویش ، اور ہندوﺅں سکھوں میں یا عیسائیوں میں، یہودیوں میں یا بدھوں میں کوئی رشی منی ہو یا کوئی بیراگی، جوگی گیانی دھیانی، بھگشو ، لاما، پنڈت ، پروہت ہو یا کوئی پادری ، سینٹ، ان میں ہر کوئی اپنے مالک کو جانتا ہے، اور مشکلات کے وقت، بلکہ ہروقت اسی کی طرف رجوع کرتا ہے، کوئی اسے رب مالک، یا اللہ یا مولا کہہ لیتا ہے، کوئی ایشور ، پرماتما ، بھگوان اور پربھوکہہ کر پکارتا ہے۔ غرضیکہ جسے جس رنگ اور روپ میں وہ نظر آیا وہ وہی کہلایا ، کسی کو وہ کوہ¿ طور پر نظر آیا، کہیں وہ غار حرا میں وحی میں نظر آیا، کہیں معراج کی شب ،عرش کی خلوت میں جلوہ افروز ہوا، اور کسی کو سولی کے اوپر، کسی کی صورت دیکھ کر اس کا پرتو نظر آیا، کسی کی تحقیق میں وہ ابھرا اور کسی کی تحقیق میں وہ سامنے آیا، اور ثابت ہوا۔

مگر روزازل سے روز ابد تک ، گو عددی اعتبار سے کلمہ حق کہنے والے ، اور ماننے والے تعداد میں کم رہے، اور کم رہیں گے، مگر دین اور دنیا میں یہی توکل والے ہی کامیاب رہیں گے، جسے ہمارے ہادی برحق ﷺ نے سچ ثابت کر دکھایا، اور تن تنہا ہونے کے باوجود بھی اپنے امتیوں کی تعداد اربوں تک پہنچا دی۔شاہ محمود قریشی بھی اسی محبوب خدا کے اُمتی اور انہیں کے ماننے والے ہیں بلکہ خود پیر بھی ہیں ، مگر شاید درجہ فقرتک نہیں پہنچے، ورنہ ان کے بھائی ان کی عملی زندگی پہ انگلی اٹھاکر ہمیں انگشت بدنداں نہ کرتے، خیرایسا تو ہوجاتا ہے، خود ان کے چیئرمین اس ”کاواک کہن“ سے درجہ طہوروطہران تک نہیں پہنچ پائے، اور ان کے اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ ناچاقی ونااطمینانی قائم ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے، کیونکہ حضورﷺ کا فرمان ہے، کہ جو حضرت انس ؓکے حوالے سے ہے، آپ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگے، جب تک ایمان نہیں لاتے، اور اس وقت تک ایمان والے نہیں بن سکتے، جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے، کیا میں تمہیں ایسی چیز بتادوں جسے تم اگر اپنا لوتو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے آپس میں کثرت سے سلام کرنے کو رواج دو (حدیث مسلم )

شاہ محمود قریشی کو مگر یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ مفادات اور عقائد اپنی جگہ لیکن کسی ایک فریق کا خبث باطن اور دوسرے کی حیثیت کو دل سے تسلیم نہ کرنے کے اثرات خاندان، معاشرے اور ملکوں کے عوام میں اتنی شدت اور گہرائی سے دلوں میں مرتب ہوتے ہیں، کہ ماہ وسال اور موسموں کا اثر بھی وہ داغ دھونے میں ناکام رہتے ہیں ، جس کا برملا اظہار واعتراف اعلان لاہور کے موقعے پہ بھارت کے معتدل مزاج سمجھے جانے والے واجپائی نے ”چٹی دھوتی اور کھلے جوتے“ پہن کر کلبھوشن کی بیوی کی جوتی کی طرح، اور آنکھیں نیچی کرکے اور دل میں بغض وعداوت رکھ کر جلے دل کے ساتھ کہتے تھے کہ تقسیم پاکستان کے پچاس سال گزرنے کے باوجود ہمارے دلوں کے داغ ابھی باقی ہیں، ”مگر اب تو تقسیم کو ستر سال ہوچکے ہیں “۔

ہندوہونے کی وجہ سے واجپائی اور مودی اور ٹرمپ، جس کے کہنے پر مودی نے وزیر خارجہ ملاقات نہ ہونے دی، کوشاید ہمارے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ فرمان معلوم نہیں کہ زبان کے گھاﺅ تلوار کے زخم سے زیادہ گہرے اور شدید ہوتے ہیں۔

قارئین آپ کے خیال میں بھارتی جنرل بپن کے گھٹیا بیان اپنے ہیں، دنیا کے مضحکہ خیز شکل وصورت اور جسمانی ڈیل ڈول کے سپہ سالار نے مودی کے کہنے پہ یہ بیانات دیئے ہیں جنرل بپن جیسے آفت کے پرکالے کے لیے تو پاکستانی ڈرامے میں دکھائی جانے والی ” ببن خالہ “ ہی کافی ہے، کو سنے دینا، ہمارے وزیراعظم کا کام نہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ میں ہم منصب سے ہی ملوں گا اور یہ بدزبانی بھارتی آرمی چیف نے کی ہے، مودی نے خود نہیں کی ، اس حوالے سے ہماری فوج کے سپہ سالار نے ٹھیک کیا ہے کہ آئی ایس پی آر نے اس کا جواب دیا ہے۔


ای پیپر