چیئرمین پیمرا کے خلاف سازشوں کا جال
26 ستمبر 2018 2018-09-26

چیئرمین پیمرا کے عہدے پر گزشتہ 8 سال سے جو بھی آیا وہ پریشانی کا شکار رہا۔ ادھر ادھر کے مسائل کے باعث وہ ٹھیک طرح سے اپنی ذمہ داریاں بھی نہیں نبھا سکا۔ قصہ رشید چودھری سے شروع ہوا انہیں کسی نہ کسی طرح گھر بھیج دیا گیا، ابصار عالم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ انہیں کسی نہ کسی طرح دوران ڈیوٹی الجھائے رکھا گیا۔ ابصار عالم کے بعد ہر طرح کی تحقیق کے بعد سلیم بیگ جو پی آئی او تھے کو باقاعدہ ایک ضابطہ کے تحت منتخب کیا گیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بھی شاید کوئی نادیدہ قوتیں کام سے روکنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ انہیں نیب کے ایک ایسے ریفرنس میں پھنسانے کی کوششیں کی جا رہی ہےں جس سے نیب کا ادارہ انہیں پہلے ہی باعزت بری کر چکا ہے۔ لیکن اب اچانک ایک نوٹس دوبارہ جاری کر دیا گیا ہے جس سے انہیں ناصرف الجھایا جا رہا ہے بلکہ میڈیا میں اس نوٹس کی ایسی تشہیر کی گئی ہے کہ جیسے یہ ریفرنس ثابت ہو گیا ہو اور چیئرمین پیمرا ابھی سے مجرم بن گئے ہیں۔

قصہ دراصل یہ ہے کہ ڈی ایم جی گروپ کے ایک صاحب کی خواہش تھی کہ یہ عہدہ ڈی ایم جی گروپ کو دیا جائے۔ اس خواہش میں ناکامی کے بعد انہوں نے سلیم بیگ کے خلاف ایک نیا جال تیار کیا اور اپنے نیب کے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بے سروپا ریفرنس تیار کیا گیا، یعنی کہ چیئرمین پیمرا کی آسامی کے لئے میرٹ پر کوالیفائی کرنا ان کا جرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔قبل ازیں انہی لوگوں نے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن کسی نہ کسی طرح روکے رکھا بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان کی مداخلت سے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اب ذرا دیکھیں کہ بنائے جانے والے ریفرنس کی حقیقت کیا ہے۔ ایک ایسا کیس بنایا گیا جس میں اس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام سرکاری محکموں میں یہ عام پریکٹس ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا انتخاب کرتے ہیں اور یہ پریکٹس خود نیب میں بھی موجود ہے۔ ایجنسی کی تقرری دو طرح سے ہو سکتی ہے۔ مستقل اور قانون کے تحت کوئی بھی محکمہ ایڈہاک تقرری مخصوص حالات میں کرنے کا مجاز ہے اور تقرری کر کے ایک مراسلہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پہنچا دیا جاتا ہے اور اس سارے کیس میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار صرف ایک ڈاکخانہ کا ہوتا ہے۔

2012ءمیں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی ایڈہاک تقرری کی اور وزارت اطلاعات و نشریات کو قاعدے کے تحت ایک مراسلہ جاری کر دیا جسے انفارمیشن افسر نے روٹین میں پراسس کیا اور یہ سلسلہ تو 1947ءسے جاری ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو نیب کو اس طرح کے سیکڑوں ریفرنسز بنانے کی ضرورت ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں نیب کا کردار جہاں قابل تحسین رہا وہاں اس پر تنقید بھی ہوتی رہی، بہت سے ایسے کیس سامنے آئے جن میں کچھ نہیں تھا لیکن نیب کے دفتر میں انہیں مجرموں کی طرح نہ صرف طلب کیا جاتا رہا بلکہ متعلقہ شخص کے آنے سے پہلے وہاں میڈیا کو اطلاع کر دی جاتی کہ اس طرح متعلقہ شخص خوب ذلیل ہوتا اور ہمارا میڈیا بھی بدقسمتی سے ایسے کسی فرد کو مجرم کی طرح ہی ذلیل کرتا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے لئے نیب کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کیا اس کے پاس ہر شہری کی پگڑیاں اچھالنے کا لائسنس ہے یقینا ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہ تمام وہ سرگرمیاں ہیں جو چیئرمین نیب کی قومی خدمات پر پانی پھیر رہی ہیں۔ چیئرمین نیب کو اس سلسلے میں خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ خاص طور پریہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کون سے ایسے عوامل اور کون سے ایسے لوگ ہیں جو ان کی قومی خدمات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایسی تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے جن سے نیب کے کردار پر سوالیہ نشان سامنے آ رہا ہے۔


ای پیپر