Pakistan,,National Assembly,France,condemning blasphemous
26 اکتوبر 2020 (19:56) 2020-10-26

اسلام آباد: فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ایوان بالا(سینیٹ) کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں متفقہ قرار داد منظور کر لی گئی۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد پیش کی۔ 

قرارداد پیش کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن فرانس کے میگزین میں شائع خاکوں کی مذمت کرتی ہے۔ فرانس کی طرف سے دو ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کی قرارداد کے ذریعے مطالبہ کرتی ہے کہ فرانس سے اپنا سفیر واپس بلایا جائے۔ ہم نے اپوزیشن کی الگ سے قرارداد اس لئے پیش کی کیونکہ ہمیں حکومت پر اعتماد نہیں اور اس کے اب جانے کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ہم سپیکر کا احترام کرتے ہیں لیکن وہ کھلے عام حکومت کی حمایت نہ کریں۔

 خواجہ آصف نے نے کہا کہ حکومت تو سلیکٹرز کے بغیر قانون سازی بھی نہیں کرا سکی اور اب زیادہ وقت نہیں بچا۔  سب باتوں کے باوجود یہ فیٹف سے نہ نکل سکے۔ سپیکر صاحب کو پتا ہے کہ فیٹیف قانون کس نے بنوائے اور اس موقع پر حکومتی ارکان نے خواجہ آصف کو طعنہ دیا کہ کھانے پر تو آپ بھی گئے تھے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مگر جمہوریت کے چیپمئن تو آپ بنتے تھے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے لیے قرار داد پیش کی گئی۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ یورپ میں اسلامو فوبیا کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اسلامو فوبیا کی واضح مثال ہے۔

 منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا کہ پاکستان کو دنیا میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر تشویش ہے۔ ایوان گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتا ہے اور او آئی سی 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کیخلاف دن قرار دے۔

اس سے قبل فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف پاکستان کے ایوان بالا میں مذمتی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ سینیٹ میں قرارداد قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے پیش کی اور قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کیلئے جب حکومت سرپرستی میں ہوں تو مخلتف مذاہب میں تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ہماری محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور کوئی مسلمان آخری نبی الزمان کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔

متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات مسلمانوں کے جذبات مجروع کرتے ہیں اور بین الاقوامی برادری ایسے اقدمات روکنے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے قرارداد کی کاپی دفتر خارجہ اور فرانسسی سفیر کے حوالے کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ فرانس کے صدر میکرون نے اس قبیح حرکت کی سرپرستی میں بیان دیا جو کہ قابل مذمت ، اشتعال انگیزی اور شیطانیت پر مبنی ایک ایسی دانستہ حرکت ہے جس سے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب کے امن پسند عوام کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچی۔ 

سینیٹر سراج الحق نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرانس کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ اور اس کے سفیر کو ملک سے نکالا جائے اور پاکستان کو اس معاملے کو او آئی سی میں لیڈ کرنا چاہیے۔


ای پیپر