french-ambassador-foreign-office-summons-anti-islam-campaign-blasphemous-sketches
26 اکتوبر 2020 (13:29) 2020-10-26

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے پاکستان میں تعینات فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

فرانسیسی سفیر کو سپیشل سیکرٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔ اس کے علاوہ خاکوں کی اشاعت کے بعد فرانس کے صدر میکرون کے گستاخانہ بیان پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ اس سے قبل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے فرانس کیساتھ شدید احتجاج کیا ہے اور اس سلسلے میں سفیر کو دفتر خارجہ نے طلب کیا ہے۔ ان کے سامنے مسلمانوں کے جذبات رکھیں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کبھی پتا چلتا ہے کہ حجاب پر پابندی کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر کے حالیہ بیان سے گھر گھر احتجاج کی کیفیت ہو سکتی ہے۔ لوگوں کے جذبات روندیں گے تو ردعمل سے معاشرے تقسیم ہو جائیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام کیخلاف مواد پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ اسلامو فوبیا دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ گستاخانہ خاکوں سے پوری دنیا میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ فوری طور پر نفرت انگیز بیانیے کا نوٹس لے۔

ان کا کہنا تھا کہ نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں، اس کے نتائج شدید ہوں گے۔ فرانسیسی صدر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آزاری کا کسی کو حق نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے شائع کیے۔ فرانسیسی اخبار کی ناپاک جسارت پر شدید احتجاج اورمذمت کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کیخلاف آواز اٹھائی جبکہ بانی فیس بک سے بھی اسلام مخالف مواد روکنے کا کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں جامع قرارداد پیش کروں گا۔ 15 مارچ اسلاموفوبیا کیخلاف عالمی دن کے طور پر طے کرنے کی تجویز دیں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر میکرون کے اسلام مخالف بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دین حق کو سمجھے بغیر نشانہ بنانے کے عمل نے یورپ اور دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر دیا ہے۔ ایک لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کرتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے انہیں متحد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ صدر امانوئیل میکرون مزید تقسیم کی بجائے انتہا پسندی کو روکیں۔ تقسیم بنیادی پرستی کا سبب بنتی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی حوصلہ افزائی سے اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے صدرمیکرون نے تشدد پر آمادہ دہشت گردوں (خواہ وہ مسلم، سفید فام نسل پرست یا نازی ازم کے پیروکار ہوں) کے بجائے اسلام پر حملہ آور ہو کر اسلاموفوبیا کی حوصلہ افزائی کا رستہ چنا۔

وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ مقام افسوس ہے کہ صدر میکرون نے جان بوجھ کرمسلمانوں کو جن میں ان کے اپنے شہری بھی شامل ہیں کو مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی۔ دنیا مزید تقسیم کی متحمل نہیں ہو سکتی، لاعلمی پر مبنی عوامی بیانات سے مزید نفرت، اسلاموفوبیا پھیلے گا اور ایسے بیانات انتہا پسندوں کیلئے گنجائش فراہم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔


ای پیپر