دھمکیوں کا موسم، گرفتاریوں کا سیزن
26 اکتوبر 2020 (12:10) 2020-10-26

دھمکیاں خالی از علت اور بیسیوں ریفرنسز اور انکوائریز بلا سبب نہیں،”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“۔ ملکی سیاست کلائمکس کی طرف جا رہی ہے۔ الزامات جوابی الزامات کا  لامتناہی سلسلہ، ”کیا سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے“ اپوزیشن کے دو تین جلسوں سے گھبراہٹ، جھنجلاہٹ، بوکھلاہٹ اور بالآخر غیظ و غضب، منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکیوں کی نوبت آگئی۔ اس مرحلے میں منہ سے پھول نہیں جھڑتے، دلوں کو چھلنی کرنے والے زہر میں بجھے تیر چلتے ہیں۔ منہ پر ہاتھ پھیر نا عرف عام میں دشمن کو مبارزت کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایسے میں لہجہ بگڑ جاتا ہے۔ بقول غالب ”زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا“  اسی لیے غصہ حرام قرار دیا گیا۔ قرآن پاک میں مومنین کی نشانی بتائی گئی کہ وہ غصہ پی جاتے ہیں عناد اور دشمنی کسی بھی پہلو سے ذاتی ہوجائے دشمن زیر ہونے کے بعد منہ پر تھوک دے تو شیر خدا حیدر کرار کرم اللہ وجہہ اسے چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ریاست مدینہ اسی طرح قائم ہوئی تھی، ہونی ہے تو اسی طرح قائم ہوگی، یہاں سیاسی اور ذاتی مفادات غالب بلکہ اغلب،”نیا وزیر اعظم بن گیا ہوں، نواز شریف واپس آؤ تمہیں دیکھتا ہوں“ دھمکی میں اوئے نواز شریف والی گھن گرج پروڈکشن آرڈر نہیں دیے جائیں گے۔ جیل میں عام قیدیوں کا سا سلوک ہوگا۔ ذرا سی گزارش،گفتگو میں احتیاط، جھوٹے الزامات سے گریز خصوصاً ایسے الزامات جو دو سال میں بھی ثابت نہ ہوسکے اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب جواب دینا ہوگا کہتے ہیں صاحب اقتدار لوگوں کا حساب کتاب بھی سخت ہوتا ہے۔ بعد میں کیا ہوگا؟ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ ”سدا عیش و عشرت دکھاتا نہیں“ کبھی کسی کے دن بڑے کبھی راتیں، اندھیرے چھٹے تو بڑا ہولناک سویرا ہوگا۔ ایسے میں گھبراہٹ ہوگی۔ منادی کرنے والا اس وقت بھی ڈھول پیٹ کر کہے گا گھبرائیں نہیں جیسے کو تیسا ادلے کا بدلہ، نہلے پہ دہلا۔ مستقبل کے بارے میں سوچنا اچھی بات  بزرگ کہتے ہیں برے وقت سے ڈرو آتے دیر نہیں لگتی۔ تین جلسے دو باقی ہیں پھر ملین مارچ اور آپ کی تقلید میں اسلام آباد میں پڑاؤ۔ مہنگائی سے تنگ عوام نے بات نہیں مانی، ان سے کہا تھا گھبرائیں نہیں لیکن جب چینی 45 روپے سے 115 روپے اور آٹا 80 روپے کلو ہوگیا۔ بجلی کے نرخ ہر مہینے بڑھنے لگے گیس ناپید ہوگئی تو لوگ گھبرا گئے۔ گھبراہٹ میں اپوزیشن کے جلسوں کی رونق بڑھانے لگے ہزاروں کا مجمع دیکھ کر خود پر گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنانے اورمخالف بیانیہ کا منہ توڑ جواب دینے کے فیصلے، کراچی کے جلسہ کے فورا بعد اپنی دانست میں اپوزیشن کا نشہ اتارنے کے لیے نیا ڈرامہ، کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے کیا حاصل ہوا؟ بے بھاؤ کی سننا پڑیں معاملہ بہت اوپر تک پہنچ گیا۔ ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو بڑوں کو مداخلت اور اقدامات پر مجبور کردیں ”خلوت گہہ خاموش“ کو محفل بنانے کا غیر دانش مندانہ عمل اپنی ہی بدنامی کا باعث بن گیا۔ اس پر مسلسل خاموشی، کیا کہیں الٹی آنتیں گلے پڑ گئی ہیں۔ ”بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی“ ماشاء اللہ پچیس تیس وزیر مشیر اور ترجمان اس پر بھی ”گوہر افشانی“ کر رہے ہیں مزار قائد کے احاطے میں نعرے، معاف کیجیے اس سے پہلے بھی لگائے گئے اس پر تو کسی کی 

خلوت کو جلوت نہ بنایا گیا۔ حرمین شریفین میں گو نواز گو کے نعرے تو طواف کرنے والے 70 ہزار فرشتوں نے بھی سنے، رب ذوالجلال کے حضور گواہی دیں گے وہاں ضمانت نہیں ہوگی۔ ترجمانوں اور معاونین کے منہ سے نکلے موتیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں، معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر ٹی وی پر کوئی بیان یا انٹرویو دینے کی غلطی کر بیٹھے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں اسی لمحے دس پندرہ بیس وزیر مشیر جواب دینے پہنچ جاتے ہیں۔اکثر و بیشتر ٹی وی چینلز کی آدھی اسکرین پر احسن اقبال دوسری آدھی پر شہزاد اکبر کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک کا ٹکڑ اوپر دوسرے کا نیچے، واللہ ایسی اظہار رائے اور ایسی جمہوریت 73 سال میں کبھی دیکھی نہ سنی۔ لوگ ذہنی ٹینشن اور ڈپریشن کا شکار، منہ پر ہاتھ پھیر کر کہتے ہیں الیکشن آنے دیں پھر بتائیں گے ڈپریشن کا شکار نہیں ہوں گے تو کیا کریں گے۔ ملک کو اتنے مسائل درپیش ہیں کہ عوام کی دونوں جیبیں پیسوں سے خالی ہو کر مسائل سے بھر گئی ہیں۔ کہا آٹا چینی دوائیں مہنگی جواب آیا سابق حکومتیں ذمہ دار کہا امن و امان تباہ جواب ملا نواز حکومت ذمہ دار۔ بجلی مہنگی سابق حکومت کا کیا دھرا، دو سال کا کیا دھرا کیا ہے؟ ایف آئی اے کے واجد ضیاء نے چینی مافیا کی تحقیقات کی جہانگیر ترین کو مافیا کا سرغنہ بتایا، وہ خاموشی کے ساتھ کوئے یار سے نکلے اور بزم یاراں میں لندن پہنچ گئے۔ کس مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی، مسابقتی کمیشن کے مطابق چینی اسکینڈل میں سبسڈی سے 70 ارب ناجائز منافع کمایا گیا۔ بقول سینئر تجزیہ کار نصرت جاوید وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ندیم افضل چن نے آٹے کی قیمتیں بڑھنے کی بات کی ذمہ دار شہزاد اکبر کو ٹھہرایا۔ سارے وزیر مشیر منہ پر ماسک چڑھائے مہر بلب بیٹھے رہے، صاحب نے اجلاس کے بعد ندیم افضل چن سے کہا ایسی باتیں جلسوں میں کیا کرتے ہیں اجلاسوں میں نہیں، اجلاس کے بعد شیخ رشید نے کہا مہنگائی حکومت کی دشمن ہے فواد چوہدری میٹھی آواز میں بولے۔ مہنگائی بڑھنے میں حکومت کی اپنی غلطیاں بھی ہیں۔ وزیروں کے سخت احتساب کا آغاز ہونا چاہیے، یقینا ہونا چاہیے مگر عالی جاہ کو تو صرف نواز شریف کو واپس لا کر اڈیالہ جیل کی سی کلاس میں سڑانے سے دلچسپی ہے یہی زندگی کا مشن ہے ہمارے ماں باپ ہماری جان نبی رحمتﷺ پر قربان ریاست مدینہ کے حکمران آقائے دو جہاں نے تو فتح مکہ کے بعد اپنے جانی دشمنوں کے گھروں میں پناہ لینے والوں کو بھی معاف فرمانے کا اعلان کر دیا تھا۔ ”لاتثریب علیکم الیوم۔“ کا مژدہ جانفزا سنایا تھا۔ ہم فرنٹ فٹ پر لڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیا نہیں جانتے کہ کریز سے پاؤں ہٹتے ہی آؤٹ ہوجائیں گے ابھی بیانیوں کی جنگ جاری ہے۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر وہ ظالم ٹویٹس آ رہے ہیں جن کا اظہار مشکل،کسی کی پگڑی،ٹوپی بلکہ دستار مبارک محفوظ نہیں، بد تہذیبی اور گالم گلوچ کی راہ کس نے دکھائی ہے؟ اس سے پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے ممالک میں عوام فیصلہ کرتے ہیں یہاں عوام کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔ ملکی ترقی، خوشحالی، مہنگائی، بد امنی، خواتین کی بے حرمتی کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ حکومت کے جنوری سے قبل نواز شریف کی لندن سے واپسی کے دعوے، وزیر اعظم کے بقول وہ خود لندن جا کر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے بات کریں گے۔ کیا صرف نواز شریف کے لیے؟ اور بھی تو ہیں۔ ادھر اپوزیشن بھی جنوری تک حکومت گرانے کے لیے پر عزم، پہلی حکومت ہے جو عوام کے مسائل سے آنکھیں بند کر کے ذاتی لڑائی لڑ رہی ہے۔ اپوزیشن کے پانچ جلسوں تک بہت کچھ ہونے والا ہے۔ وزیروں مشیروں کے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے ساتھ ہی گرفتاریوں کا سیزن ٹو شروع ہوجائے گا۔ احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر، رانا تنویر، خواجہ آصف اور ایک دو خواتین باقی بچی ہیں۔ بلاول بچہ کریز پر پاؤں جمائے محتاط کھیل رہا ہے۔ اسے فی الحال گرفتاری کا خطرہ نہیں ابا کے فرد جرم عائد ہونے کا غم ہے۔ سیزن ٹو میں گرفتاریوں سے پی ڈی ایم کی تحریک پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ بلکہ ایندھن ملے گا۔ مولانا فضل الرحمان خود بھی تحریک کا رخ گرفتاریوں کی طرف موڑنے کے موڈ میں ہیں۔ لیکن اگر سندھ پولیس کی طرح دیگر صوبوں کی پولیس نے بھی چھٹیوں کی درخواستیں دے دیں تو سیاستدانوں کے گھروں کے دروازے کون توڑے گا؟”ہم کہاں آگئے بات ہی بات میں“ سب کی بھلائی کے لیے تھوڑا سا غور، ذاتی لڑائی سے عوام میں مایوسی اور محرومی کا احساس بڑھ رہا ہے، سقوط ڈھاکہ میں بھی دیگر اسباب کے علاوہ یہی بنیادی احساس محرومی کار فرما تھا۔ عوام کے معاشی، ذہنی، نفسیاتی استحصال سے گریز ہی ملک کو مشکلات کے بھنور سے نکال سکتا ہے۔ سوچ لیجیے ”اب اگر عظمت کردار بھی گر جائے گی آپ کے سر سے یہ دستار بھی گر جائے گی“ 


ای پیپر