شاید وہ میرے اپنے تھے
26 اکتوبر 2020 (12:03) 2020-10-26

 دو دن قبل جمعہ کی رات تقریباً سوا بارہ کا وقت تھا۔ ایک موٹرسائیکل میری گاڑی سے آ کر ٹکرائی۔ دھماکے کی آواز گونجی اور موٹر سائیکل سوار سڑک پر گھسٹتا ہوا دور جا گرا۔ وہ پہلے تڑپا اور پھر اس کے جسم میں حرکت نہ رہی۔ مجھے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ شاید وہ مر گیا ہے۔ میں نے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنا چاہا لیکن دروازہ نہیں کھل رہا تھا۔میں نے گاڑی سائیڈ پر لگائی، کوشش کر کے دروازہ کھولا اور اسے جا کر اٹھانے کی کوشش کی۔ اس کی عمر تقریباً پندرہ یا سولہ سال تھی۔ سر، منہ اور جسم خون میں لت پت تھا۔ میں نے اسے ہلایا اور گفتگو کی کوشش کی تو اس کے سر ہلانے سے تسلی ہوئی کہ ہوش میں ہے۔ فوراً 1122 پر رابطہ کیا۔ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ اسے اٹھا کر سڑک کی دوسری طرف فٹ پاتھ کے ساتھ بٹھا دیا۔ موبائل اس کی جیب میں تھا۔ گھر والوں کو فون کیا۔ جب تسلی ہو گئی کہ بچہ اپنے ہواس میں ہے تو میں اپنی گاڑی کی طرف مڑا۔ گاڑی کا کافی نقصان ہو چکا تھا۔ گاڑی کا اگلا ٹائر پھٹ چکا تھا۔ دایاں فینڈر اکھڑ گیا تھا، بمپر نیچے گر گیا تھا، ڈرائیونگ سائیڈ کا دروازہ اندر دھنس چکا تھا، سائیڈ مرر ٹوٹ کر سڑک پر گرا ہوا تھا اور دروازے کا شیشہ ٹوٹ کر میرے ڈیش بورڈ اور قدموں میں ریت کے زروں کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس لڑکے سے گاڑی کا نقصان پورا کرنے کا مطالبہ کریں۔ میں نے انکار کر دیا۔ایک تو پہلے ہی اس کے دانت بازو اور ٹانگ ٹوٹ چکے تھے۔ اس کی موٹرسائیکل تقریباً تباہ ہو چکی تھی اور مالی اعتبار سے بھی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔کسی نے کہا کہ اس کا ڈرائیونگ لائسنس چیک کریں۔ میں نے کہا کہ ایک تو اس کی عمر اٹھارہ سال سے کم لگتی ہے اور اگر اٹھارہ سال سے زیادہ بھی ہوتی تو موٹرسائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کا رواج تو پاکستان میں ہے ہی نہیں۔ تھوڑی دیر بعد جب حالات کا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ تقریباً پندرہ سال کے اور لڑکے بھی ہیں جو شاید موٹرسائیکل ریس لگا رہے تھے۔ وہ تقریباً ستر کی سپیڈ سے آکر میری گاڑی سے ٹکرایا تھا اور اس کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ جیسے ہی ایمبولینس آئی مجھے تسلی ہو گئی کہ اب اس کا علاج ہو جائے گا۔ کیونکہ جس رفتار سے اس کا خون بہہ رہا تھا اگر ایمبولینس دیر سے پہنچتی تو اس کا بچنا شاید ناممکن تھا۔ عوام سنجیدگی کامظاہرہ کررہی تھی۔ شاید ایک شخص نے اس پر بات کرنے کی کوشش کی کہ غلطی کس کی ہے لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ لوگ شاید سمجھ چکے تھے کہ غلطی کی نشاندہی کرنے سے زیادہ یہ ضروری ہے کہ پہلے اس کی جان بچائی جائے۔ لڑکے کی زندگی تو بچ گئی لیکن کیا وہ عمر بھر کی معذوری سے بھی بچ پائے گا یا نہیں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس حادثے میں سیکھنے کے لیے کیا چیز موجود ہے آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک پہلو جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ والدین کی توجہ ہے۔ والدین سب سے پہلے یہ حقیقت جان لیں کہ موٹرسائیکل کی سواری ایک میزائل کی مانند ہوتی ہے۔ چھوٹی سی غلطی زندگی کو ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہو جاتی ہے اور پشیمانی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا ہے۔ اور جب یہ سواری بچے کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے تو یہ ایک ایسا میزائل بن جاتی ہے جس کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ یہ کب اور کہا ں جا کر پھٹ جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ نہ ہیلمٹ، نہ لائسنس۔ بس یوں سمجھ لیجیے کی بندر کے ہاتھ ماچیس آگئی ہے اب انتظار یہ کرنا ہے کہ جنگل کو آگ کب لگتی ہے۔ بچوں پر کنٹرول والدین ہی کر سکتے ہیں۔میں یہاں والدین سے گزارش کروں گا کہ بچوں کو تب تک موٹرسائیکل نہ دیں جب تک باقاعدہ لائسنس حاصل نہ کر لیں۔ لائسنس ملنے کے بعد بھی انہیں تلقین کریں کہ ہمیشہ مناسب رفتار سے موٹرسائیکل چلائیں۔ اگر ان کے خلاف کوئی شکایت لے کر آتا ہے تو اسے سنجیدہ لیں اور بچے کے خلاف ایکشن لیں کیونکہ یہ بچے آپ کے ہیں اور ان کا نقصان بھی آپ ہی کا ہے۔ 

ایک اہم پہلو عوامی رویے کا بھی ہے۔ سڑک پر ہوئے حادثات میں عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہراتی ہیں۔ دونوں جانب کے نام نہاد ماہرین ٹریفک کے اصولوں کی نئی جہد سامنے لاتے ہیں۔ جو شاید نہ کہیں لکھے ہوتے ہیں اور نہ ہی ٹریفک پولیس والوں کو ان کا علم ہوتا ہے۔ اس لیے میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ سڑک پر ہوئے شدید نوعیت کے حادثات میں لڑنے کے بجائے افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔ انسانی نقصان کی اہمیت مالی نقصان سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر حادثے میں جان بچ جائے اور عمر بھر کی معذوری نہ ہو جائے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور معاملے کو رفع دفع کر دینا چاہیے۔ اگر آپ کسی پر رحم کریں گے تو اللہ بھی آپ رحم کرے گا۔ اللہ آپ کو بھی ایسی مصیبت سے نکال لے گا جس میں شاید آپ قصوروار ہوں۔ 

اس حادثے کے بعد کچھ مثبت پہلو بھی سامنے 

آئے۔ جن کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتاہوں۔ کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر میری گاڑی کا ٹائر بدل دیا، کچھ نے بمپر کو ایڈجسٹ کیا اور کچھ لوگوں نے فینڈر کو اس طرح مینج کیا کہ گاڑی چل سکے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور انھیں کچھ رقم دینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ جب ان سے گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ ٹائر بدلنے والے صاحب ایک کاروباری آدمی ہیں اور انتہائی صاحب حیثیت شخصیت ہیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور سوچنے لگا کہ ان لوگوں کو کس بات نے مجبورکیا کہ وہ آگے بڑھ کر میری گاڑی کا ٹائر بدلیں دیں یا بمپر کو ایڈجسٹ کر دیں۔ انھیں اس کے بدلے کیا ملنا تھا۔ اگر وہ یہ سب کچھ نہ بھی کرتے تو ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہونا تھی۔ مادیت پرستی اور نفسا نفسی کے اس دور میں بغیر کسی غرض کے مدد کرنے کی خواہش کا جذبہ شاید ابھی تک ہماری رگوں میں موجود ہے۔ ہمارے اباو اجداد کے اچھے کام اور تربیت کے جراثیم شاید ابھی تک ہمارے اندر موجود ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اتنی ناکامیوں اور نااہلیوں کے باوجود بھی یہ معاشرہ زندہ ہے۔ یہاں خیر بٹ رہی ہے اور دوسروں کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالنے کا جذبہ ابھی تک مانند نہیں پڑا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ یہ جذبہ پروان چڑھا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ آپ یقین جانیے کہ میں ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں جانتا تھا لیکن جس طرح وہ آگے بڑھے مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید وہ میرے اپنے تھے۔


ای پیپر