ہم دعا ہی کر سکتے ہیں!
26 اکتوبر 2020 (11:58) 2020-10-26

کمرے کی سامنی دیوار پر تین ٹی وی اسکرینیں نصب تھیں اور تینوں پر مختلف ٹی وی چینلز آن تھے، خواجہ صاحب دو چینلز کی آواز آہستہ کرتے اور تیسرے کو غور سے دیکھنے لگ جاتے، تھوڑی دیر بعد وہ تیسرے چینل کی آواز مدھم کرتے اور پہلے دو میں سے کسی کو آن کر دیتے، وہ باری باری چینل بدلتے رہے، ٹھیک آدھے گھنٹے بعد انہوں نے تمام اسکرینیں بند کر دیں،وہ تقریبا بے بس ہو چکے تھے، انہوں نے سوری کہا اور دس منٹ نارمل اور ”ریلکس“ ہونے میں لگا دیئے، وہ دس منٹ بعد اندر گئے،منہ دھویا اور چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے کمرے میں نمودار ہوئے، میں ان کی حالت دیکھ کر مسکرارہا تھا، وہ میری مسکراہٹ سمجھ گئے، بولے ”عرفان میاں تم پتا نہیں یہ کیسے برداشت کر لیتے ہو، میں تو جب بھی ٹی وی آن کرتا ہوں،سوائے لڑائی جھگڑے، بدتمیزی اور بدتہذیبی کے کچھ نظر نہیں آتا۔“ میں زیر لب مسکرا دیا، میں نے عرض کیا ”سر آپ کی بات بالکل بجا ہے مگر اللہ کا شکر ہے کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، باقی فضولیات تو ایک طرف میں خبریں اور تبصرے بھی نہیں سنتا، اگر کو ئی خاص ایشو دیکھنا بھی ہو تو یوٹیوب پر جا کر دیکھ لیتا ہوں۔“ میری بات شاید انہیں ہضم نہیں ہوئی، ان کے لیے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ صحافت سے وابستہ کوئی فرد ٹی وی سے مستغنی ہو۔ انہوں نے چائے کا کپ میز پر رکھا،صوفے پر بیٹھ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور میری طرف متوجہ ہو گئے۔ یہ لاہور کی ایک سہانی صبح تھی، گرمی کی تپش اور حبس سے انسان نجات پا چکے تھے اور سردیوں کا خوبصورت موسم آنے کے لیے پر تول رہا تھا، میں سردی کا فین ہوں اور گرمی سے میری جان جاتی ہے، گرمی میں سوائے برسات کے دنوں کے میرا ہر دن آزمائش بن کر گزرتا ہے، میری پیدائش اگر مجھ سے پوچھ کر ہوتی تومیری روح یقینا کسی ٹھنڈے علاقے کا انتخاب کرتی۔ آج بھی کچھ ایسا ہی موسم تھا، گرمی جا چکی تھی اور سردی اگلے اسٹیشن پر اترنے والی تھی، یہ آنے جانے کا موسم بھی بہت پر لطف ہوتا ہے، معتدل اور پر سکون، وسط اکتوبر تا وسط نومبر اور وسط مارچ 

تا وسط اپریل کو آپ سال کا خوبصورت ترین موسم کہہ سکتے ہیں، شاید اسی لیے سیانے لوگ شادی بیاہ کے لیے اس موسم کا انتخاب کرتے ہیں اور عشاق کا حال بھی ان دنوں بے حال ہوجاتا ہے اورشایدان دنوں شبنم کی بہتات ناکام عاشقوں کے وہ آنسو ہوتے ہیں جو ضبط کے بدھنوں سے آزاد ہو کر رات کی سیاہی میں کسی صحرا اورباغ میں کھلے پھول کی پتیوں پر جم کر امر ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی کمبخت اس موسم میں بھی بے ذوق رہتا ہے، نیچر کو آبزرو نہیں کرتا، کسی باغ یا پارک کی سیر کو نہیں جاتا، کھیتوں کی طرف نہیں نکلتا، کسی روٹھے کو نہیں مناتا، خود مان کے نہیں دیتا، ناراضگیاں ختم کر کے دل کو صاف نہیں کرتا،شبنم کے قطروں سے اٹکھیلیاں نہیں کرتااور افق میں پھیلی روشنیوں اور ستاروں بھری رات کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھتا تو اس کی بدذوقی کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ وہ چائے کا آخری گھونٹ بھر چکے تو میں نے سکوت توڑا   ”سر! یہ ملک میں کیا چل رہا ہے اور کب تک ایسا چلتا رہے گا، کیا یہ ملک ایسی صورت حال کا متحمل ہو سکتا ہے اور یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا“ میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات داغ دیے، وہ بے بسی سے میری طرف دیکھنے لگے، شاید یہ سوچ رہے تھے کہ بات کہاں سے شروع کرنی ہے، وہ کافی دیر چپ رہے، پھر اچانک سکوت ٹوٹا ”ملک میں وہی کچھ چل رہا ہے جس کے بارے میں تمہیں دو ہزار سولہ کے آخر میں آگاہ کر چکا تھا، ملک کی مقتدر قوتیں دو مشہور سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکی ہیں اور ان کی آخری خواہش بہر حال ان سے جان چھڑانا ہے، اس کے لیے دو ہزار سولہ کے آخر میں ہی تگ و دو شروع کر دی گئی تھی، ان کی کوشش ہے جیسے تیسے بھی ہو ان دونوں جماعتوں کو تحلیل کیا جائے اور نئے لوگوں کو آزمایا جائے، نئے لوگوں میں پہلا آپشن عمران خان تھا مگر یہ آپشن فیل ہو چکا ہے، اب صورت حال گھمبیر ہو چکی ہے، مقتدر قوتیں اپنے فیصلے پر بضد ہیں مگر متبادل دستیاب نہیں، یہ اصل لڑائی ہے اور ہاتھیوں کی اس لڑائی میں عوام کچلے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصالحت کی کوششوں کے باوجود کوئی دروازہ نہیں کھل رہا البتہ مصالحت کاروں کے لیے جیل کے دروازے ضرور کھل گئے۔ رہی یہ بات کہ ایسا کب تک چلے گا تو جب تک دونوں ہاتھیوں میں سے کوئی ایک ہار نہیں مان لیتا یہ لڑائی رکنے والی نہیں، ملک پر ایسی صورت حال پہلے کبھی نہیں آئی تھی، یہ انتہا ہے اور جب انتہا ہو جائے پھر قدرت بھی موقع نہیں دیتی، انبیاء اپنی امتو ں کو آخر وقت تک دعوت دیتے ہیں لیکن جب اتمام حجت ہو جاتا ہے تو پھراللہ کی پکڑ آ کر رہتی ہے۔ ہمیں قدرت کے اشاروں کو سمجھنا چاہئے، ہمیں اتمام حجت سے پہلے واپس آجانا چاہئے اور ہمیں اپنا قبلہ درست کر لینا چاہئے۔“وہ بات کرتے کرتے رک گئے، میں نے عرض کیا کہ موجودہ متبادل کیوں کامیاب نہیں ہو سکا، وہ بولے ”یہ متبادل کبھی بھی کامیاب نہیں تھا، یہ ان قوتوں کی خوش فہمی تھی وگرنہ اہل دانش کا روز اول سے اس پر اجماع تھا کہ یہاں سے کوئی خیر برآمد نہیں ہو سکتی، نرگسیت کا شکار،انا پرست اور خود پسند انسان بھلا کس کام کا، وہ اپنی ذات کو مینج کر لے تو بڑی بات ہے،اس پر مستزاد یہ زعم کہ میں نے بائیس سالہ جدو جہد کے بعد اقتدار حاصل کیا اور میں اصل لیڈ ر ہوں، لیڈری کا سارا بھرم تو بائیس کروڑ عوام نے اس دن دیکھ لیا تھا جب بچوں کی طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا کہ میں فلاں کو نہیں چھوڑوں گا، سطحی شخصیت، جذباتیت اور نرگسیت کے ساتھ کوئی لیڈر کیسے بن سکتا ہے۔ یہ ملک کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے، ہم بندر کے ہاتھ میں استرا دے چکے ہیں اور اس وقت بندر آپے سے باہر ہے،ہمیں بندر کو استرا دینا ہی نہیں چاہئے تھا، اب کچھ خبر نہیں کہ یہ کب کس کو کہاں زخمی کر دے، بس اللہ سے دعا ہی کی جا سکتی ہے ورنہ ہم پہاڑ کے بالکل کنارے پر کھڑے ہیں، زرا سی آندھی ہمیں گہری کھائیوں میں گرا سکتی ہے۔“ان کی باتیں سن کرمیں واقعی پریشان ہو گیا،جو وہ بتا رہے تھے اگر واقعی سچ ہے تو یہ دنیا کا خوفناک ترین سچ ہے اور ہم سب اس سچ کی زد میں آ کر کچلے جائینگے۔ ہمارے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے، ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں، اسکے علاوہ اب ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا،یا اللہ اس ملک پر رحم فرما، خدایا رحم۔


ای پیپر