حکومتی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہد ہ کی تفصیلات سامنے آگئیں
26 اکتوبر 2019 (23:57) 2019-10-26

اسلام آباد :آزادی مارچ کے حوالے سے حکومتی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد معاہدہ طے پا گیاجس کے تحت جمعیت علماءاسلام اب اپنا آزادی مارچ لے کر ڈی چوک نہیں آئے گی بلکہ ایچ نائن میں اتوار بازار کے پاس گراﺅنڈ میں جلسہ ہوگاجبکہ وزیر دفاع و حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے تصدیق کی کہ حکومتی کمیٹی اور رہبرکمیٹی میں ایک معاہدہ طے پاگیا ہے، حزب اختلاف پشاور موڑ گراﺅنڈ میں اپنا پرامن جلسہ کرے گی ، حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی،تعلیمی ادارے کھلے رہیںگے ،کوئی راستہ بند نہیں ہوگا، حزب اختلاف نے وزیر اعظم کے استعفی یا نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں کیا ،اگر حزب اختلاف بیٹھنا چاہتی ہے تو بیٹھے ہمیں پرامن احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں ہے، احتجاج حزب اختلاف کا جمہوری حق ہے، ہمارا حزب اختلاف سے صرف جگہ کے معاملے پر ڈیڈ لاک تھا اور رہبر کمیٹی والوں نے ہماری بات مان لی ہے، ہماری کوئی ڈیل نہیں ہوئی، ہم جمہوری لوگ ہیں، جے یو آئی اور ان کے ساتھیوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا پروگرام کریں گے اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔ ہفتہ کواپوزیشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے معاہدہ طے پاگیا ہے، ہم نے ان کو اس بات پر رضا مند کرلیا ہے کہ وہ ڈی چوک نہیں آئیں گے اور جو ایریا دیں گے اسی کے اندر آئیں گے، نہ وہ بلیو ایریا کی طرف آئیں گے، ایچ نائن میں اتوار بازار کے پاس کھلا گرانڈ ہے جہاں وہ جو چاہیں کرسکیں گے، حکومت ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ انھوں نے کہاکہ ہم کل دو دفعہ اکرم درانی کے گھر گئے ، ڈیڈ لاک آیا ہم نے آج دوبارہ بات کی اور ہمارے مذاکرات کامیاب ہوئے ۔ معاہدے کے تحت وہ ڈی چوک نہیں آئینگے جو جگہ ان کو دی جائے گی وہ وہیں رہینگے ۔ انہیں ایچ نائن اتوار بازار کے قریب گراﺅنڈ میں جلسہ کرنے کی جگہ دی گئی ہے ۔ جلسے میں جو لوگ آئینگے یا کھانے پینے کی جو چیزیں انہیں فراہم کی جائے گی حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ جمعیت علماءاسلام اور ان کے ساتھی آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جلسہ کرینگے ۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا ۔ اس پر اکرم درانی نے بھی آج کہا کہ ہم ریڈ زون میں نہیں جائینگے ۔ امید ہے یہ آزادی مارچ پر امن ہوگا ۔ ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی ۔ رہبر کمیٹی سے ہماری جتنی ملاقاتیں ہوئیں اس میں وزیر اعظم کے استعفے یا دوبارہ الیکشن کی کوئی بات نہیں ہوئی ۔ انتظامیہ اور جے یو آئی ف میں تحریری معاہدہ ہو گیا ہے ۔ جو جگہ دی جائے گی وہ وہاں ہی جلسہ کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کھلے رہینگے کوئی راستہ بند نہیں ہوگا۔ اگر یہ پر امن احتجاج کرینگے تو ہم انہیں نہیں روکیں گے ۔ ہمارا ڈیڈ لاک صرف جلسے کا مقام کا تھا باقی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں وہ بعد میں طے کر لینگے ۔ اگر وہ معاہدے پر قائم رہے تو کینٹینر بھی ہٹا دیئے جائینگے ۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں احتجاج سب کا حق ہے جے یو آئی ف جلسہ کرے یا دھرنا کرے لیکن پر امن ہو ۔ مشترکہ کانفرنس اس لئے نہیں کہ رات کا وقت ہے ۔ اکرم درانی کے ہاں فوتگی ہو گئی ہے اور دوسرے لوگ بھی موجود نہیں اگرایسا نہ ہوتا تو ہم ضرور مشترکہ کانفرنس کرتے ۔ اگر مسئلہ ہوا تو مذاکرات کرینگے اگر مسئلہ نہیں ہوتا تو احتجاج کرنا ان کا حق ہے ۔ اس موقع پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اسد عمر، نور الحق قادری سمیت دیگر لوگ بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کررکھا تھا اور کہا تھاکہ 31 اکتوبر کو مارچ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔آزادی مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی ملک میں سیاسی گرما گرمی میں اضافہ ہوگیا تھا ۔


ای پیپر