نواز ملک کے اندر یا باہر؟ مولانا کیا رنگ جمائیں گے
26 اکتوبر 2019 2019-10-26

نواز شریف کی شدید علالت کے پیش نظر چھوٹے بھائی شہباز شریف کی درخواست پر چوہدری شوگر ملز کے زیر تفتیش مقدمے میں جس کے تحت انہیں 11 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل سے نکال کر نیب لاہور کے عقوبت خانے میں بند کر دیا گیا تھا، ضمانت قبول کر لی گئی ہے جبکہ العزیزیہ مقدمے کے تحت انہیں جو سات سال کی سزا سنائی گئی تھی، اس میں سزا معطلی کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں کل شام تک زیر سماعت تھی اور گمان غالب ہے کہ سابق وزیراعظم کی صحت کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر اس میں بھی انہیں وقتی رہائی مل سکتی ہے.... تاہم آخر وقت تک وفاق سمیت حکومت پنجاب اور نیب گریز کا راستہ اختیار کیے ہوئے تھے.... عدالتی کارروائی میں اونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہیں پا رہا تھا آخرکار عدالت نے طبی انسانی بنیادوں پر منگل تک ضمانت دے دی ہے.... وہاں سے حق میں حکم صادر ہونے کی صورت میں سابق وزیراعظم کو امکاناً آزادی حاصل ہو سکتی ہے کہ اپنا علاج پاکستان کے کسی بھی بہتر سے بہتر ہسپتال میں کرائیں یا بیرون ملک چلے جائیں.... نواز شریف ملک کے اندر رہنا پسند کریں گے یا برطانیہ وغیرہ کے ہسپتال میں جا کر علاج کو ترجیح دیں گے .... یہ سو فیصد اُن کی صوابدید پر منحصر ہے.... حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی خواہش اور کوشش رہی ہے سابق اور برطرفہ وزیراعظم ملک سے باہر چلے جائیں اور آزاد ماحول میں اپنا علاج کرائیں.... ان کے نزدیک مناسب یہ ہو گا چند سالوں تک واپس آنے کا نام نہ لیں.... دوسری جانب میاں صاحب کی مرضی ہے وطن میں ہی رہیں باہر نہ جائیں.... علاج کی جیسی تیسی سہولتیں پاکستان میں موجود ہیں انہی سے فائدہ اُٹھائیں.... حکومت اور اس کی سرپرستی والے مقتدر ادارے نواز شریف کو باہر بھیجنے کے کیوں متمنی ہیں اور اس کی خاطر ان کو قائل کرنے کی کوششیں کس لیے کی جا رہی ہیں .... اس کی وجہ ڈھکی چھپی نہیں.... بالائی حلقوں میں خیال پایا جاتا ہے کہ اس وقت جب سیاسی حالات غیر مستحکم ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے عمران حکومت کو اکھاڑ پھینکنے والا آج سے لاکھوں کی تعداد میں سیاسی و مذہبی کارکنوں کی اسلام آباد پر یلغارکرنے کا پروگرام شروع کر رکھا ہے، حکومت ان کی بنا پر جن خطرات سے دو چار ہوتی نظر آ رہی ہے، اس کے پیچھے جیل میں مقید نواز شریف کا دماغ کام کر رہا ہے.... انہی دنوں کے اندر ملک بھر کے تاجروں کو بھی شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کرنے کی انگیخت انہوں نے دے رکھی ہے.... آصف زرداری اور ان کی پیپلزپارٹی کو بھی مولانا کی تائید و حمایت پر آمادہ کر لیا ہے.... چنانچہ ایسے شخص کو جو کوٹ لکھپت جیل اور اس کے بعد نیب کے عقوبت خانے میں بند ہو کر بھی تحریک مزاحمت برپا کرنے سے باز نہیں آ رہا مناسب ہے جلد از جلد ملک بدر کر دیا جائے.... اور اب جو وہ فی الواقع بیمار ہیںاور سروسز ہسپتال لاہور میں قیدی کے طور پر داخل ہیں.... بیماری پوری طرح قابو میں نہیں آ رہی توبہتر ہے موصوف کو ضمانتیں دلوا کر برطانیہ وغیرہ یا جہاں وہ چاہیں بیرون ملک روانہ کر دیا جائے.... اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کی ایک بڑے اور مو¿ثر مخالف سیاست دان سے جان چھوٹ جائے گی لیکن نحیف و ناتواں نواز شریف ابھی تک اس پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے ....ضمانت پر رہائی ملے یا نہ ملے قانونی جنگ لڑتے رہیں گے اور جیل کے اندر یا باہر رہ کر موجودہ نظام کے خلاف جسے وہ غیر آئینی قوتوں کے جبر کی پیداوار سمجھتے ہیں مزاحمت جاری رکھیں گے .... اس ضمن میں ڈاکٹروں کی حتمی رائے کیا ہو گی اور بالآخر کس کی خواہش غلبہ پا لے گی، اس کا فیصلہ چند روز کے اندر سامنے آ جائے گا.... ممکن ہے ڈاکٹروں کی رائے کو مقدم قرار دیا جائے....تاہم ملک اور سیاست کو اس وقت دو ہی اہم مسائل در پیش ہیں نواز شریف باہر چلے جائیں گے یا نہیں اور مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کس حد تک کامیابی یا ناکامی سے دوچار ہو گا....

ایک بات طے ہے پاکستان میں کسی سویلین منتخب وزیراعظم کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گیا.... مقتدر قوتوں نے انہیں ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور جب موقع ملا اٹھا باہر پھینکنے میں دیر نہ لگائی.... تین مرتبہ منتخب ہونے والے نواز شریف کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور اس کے حامی عناصر کا اصرار ہے کہ ایک الزام بھی ثابت نہیں ہوا.... مفروضوں کی بنیاد پر سزائیں دی جا رہی ہیں.... ایک کے بعد دوسرا مقدمہ قائم کیا جا تاہے.... یہاں تک کہ حالت قید میں وہ شدید بیماری کی گرفت میں آ گئے تو مجبوراً ہسپتال لا کر علاج کرانا ٹھہرا البتہ ان کے حق میں قوم کا ردعمل دیدنی تھا.... میڈیا کے پاس بھی اس خبر کے علاوہ کوئی موضوع نہ رہا.... لوگ بھی صبح سے لے کر شام تک اپنے ٹیلی ویژن سیٹ یا موبائل فونوں سے جڑے رہے.... ملک کے ایک کونے سے لے کر دوسرے تک ہمدردی کی لہر اُٹھ کھڑی ہوئی.... حکومت اور مقتدر قوتوں سے اس مخالف سیاستدان کی شخصیت سنبھالے سنبھالی نہیں جا رہی اور اب انہیں ضمانت پر رہا کروا کر ملک سے باہر بھیجنے کے بارے میں حتمی رائے پیش کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے لیکن اصل مسئلہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا.... نواز شریف نہیں.... لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا.... سہروردی مرحوم کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا.... بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا.... بینظیر سے ابھی تک نامعلوم قاتلوں کے ہاتھوں سے جان چھڑائی گئی.... نواز شریف تین مرتبہ منتخب اور تینوں بار برطرف ہونے کے باوجود جان کو اٹکا ہوا ہے.... ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے.... آصف علی زرداری کے خلاف مقامات جائز ہیں یا ناجائز....11 برس کی سزا پہلے بھگت چکا ہے اور اب بھی جیل میں بقول شیخ رشید نواز شریف سے بھی زیادہ بیماریاں اسے لاحق ہیں.... مجبوراً اس سابق اور سویلین صدر کو بھی اسلام آباد کے ہسپتال میں لا کر ڈالنا پڑا تا کہ بقول شخصے ایک اور سندھی کی لاش پنجاب کے راولپنڈی شہر یعنی حقیقی اقتدار کے مرکز سے اُٹھانی نہ پڑے.... ان کے علاوہ باقی جو وزرائے اعظم تھے مثلاً خواجہ ناظم الدین، فیروز خان نون اور محمد خان جونیجو وغیرہ ان کی جان بخشی تو ہو گئی مگر نہایت حقارت کے ساتھ حکومت کے ایوانوں سے اُٹھا کر گھر بھیج دیئے گئے مگر ہماری مقتدر قوتوں کے اندر نام نہاد اور منتخب کہلانے والے سول حکمرانوں کے خلاف انتقام کی آگ ان پر ختم نہ ہوئی.... شاہد خاقان عباسی جیسے لائق ترین شخص کو محض اس گناہ کی پاداش میں کہ نواز شریف نے اپنی تیسری برطرفی کے بعد انہیں وزیراعظم نامزد کیا اور وہ عسکری علاقے اور خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنے سویلین قائد کے پوری طرح وفادار رہے بغیر کوئی الزام ثابت ہوئے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص کوٹھڑی میں سزا کاٹ رہے ہیں.... بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اپنے ملک میں جس سویلین بالادستی کے شدت کے ساتھ خواہش مند تھے، ان کے اس تصور کو جس طرح بوٹوں کے تلے روند کر پامال کر کے رکھ دیا گیا ہے، وہ پاکستان کے جیسی نظریاتی اور جمہوری مملکت کی حرماں نصیبی کی نہایت دلخراش داستان ہے....

آج سے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی شروعات ہو رہی ہیں.... وفاقی انتظامیہ اور کم از کم تین صوبائی حکومتوں کی طاقت اسے غیر مو¿ثر اور ناکام بنانے کے لیے تمام ریاستی وسائل کو استعمال میں لا رہی ہیں.... فریقین کی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات ایک روز میں دو ادوار ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو چکے ہیں.... دارالحکومت کے اندر مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت متحدہ اپوزیشن کے جلسے کی جگہ کا تعین نہیں ہو پا رہا.... حکومت انہیں ڈی چوک کے احاطے میں جہاں اس نے خود 126 دن کا دھرنا دیا تھا داخل نہیں ہونے دینا چاہتی.... اپوزیشن نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کے مو¿قف کو تسلیم کر کے اس سے متصل جگہ مانگ لی تھی.... حکومت والوں کو یہ بھی منظور نہیں.... لہٰذا بات چیت آگے نہیں بڑھی.... اگرچہ مذاکرات کا دروازہ قطعی طور پر بند نہیں کیا گیا لیکن مولانا اور ان کے سیاسی ساتھیوں کے جو اصل مطالبات ہیں وہ سخت تر ہیں.... یعنی وزیراعظم کا فوری استعفیٰ، فوج کے اثر و رسوخ سے آزادانہ شفاف انتخابات کا انعقاد، سویلین بالادستی کو یقینی بنانا اور آئینی کے اندر شرعی دفعات کا تحفظ وغیرہ.... ان میں سے پہلی تین کو تو حکومت کے نقطہ¿ نظر سے ناممکنات میں سے سمجھیے اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے ان کے اندر پنہاں تصور چیلنج کا درجہ رکھتا ہے اور خاص طور پر سویلین بالادستی کا نعرہ اس کے لیے طعنہ بن گیا ہے.... اس صورت حال میں معاملہ کہاں جا کر رکے گا، یہ بڑا سوالیہ نشان ہے.... مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ ہے کہ وہ زیادہ تر اپنی جماعتی و مذہبی طاقت اور اس کے ساتھ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اے این پی جیسی جماعتوں کی عوامی حمایت کے بل بوتے پر دارالحکومت پر پندرہ لاکھ احتجاجی کارکنوں کی یلغار کر دے گی.... آزاد مبصرین کا خیال ہے اتنے لوگ تو شاید جمع نہ ہو سکیں.... پاکستان کیا پورے برصغیر کی تاریخ میں انسانوں کا اتنا بڑا احتجاجی یا مزاحمتی اجتماع کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا.... لیکن مولانا نے پچھلے ایک سال کے دوران ملک کے مختلف مقامات پر جو 15 ملین مارچ نکال دکھائے ہیں ان کی بنا پر موصوف کے لیے تین سے پانچ لاکھ افراد کو اکٹھا کر دینا چنداں مشکل نہ ہو گا.... یہ اسلام آباد جا پہنچے ہیں تو یوں سمجھیے کہ انسانوں کا سمندری طوفان یا عمران خان کے مرغوب پیرائیہ میں سونامی ان کی حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا.... حکومت اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی حکمت عملی کو آخری شکل دے رہی ہے.... ابھی تک تو اس نے ملک کے مختلف حصوں سے نکلنے والے جلوسوں کے راستوں میں کنٹینر لا کھڑا کرنے کی سبیل اختیار کی ہے.... اس کے علاوہ بھی بڑی رکاوٹیں ہوں گی جن سے کام لیا جائے گا اور آخری چارہ¿ کار کے طور پر گولی کی طاقت ہو گی.... مگر خدا نہ کرے وہ مرحلہ آئے.... بہت زیادہ خون خرابے کا اندیشہ ہے جس کا ملک ہمارا متحمل نہیں ہو سکتا.... اسٹیبلشمنٹ ابھی تک عمران حکومت کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے لیکن اسے حالات کا رخ دیکھ کر تیور بدلنے میں دیر نہیں لگتی.... شیخ رشید نے مولانا کی آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کی افواہوں کی تصدیق کر دی ہے اور مفتی محمود جنہوں نے کبھی بھٹو کی مخالفت میں تحریک نظام مصطفی کی قیادت کی تھی.... جماعت اسلامی جیسی دینی اور اے این پی جیسی سیکولر جماعتیں اس میں شامل تھیں ان کے بیٹے کے اندر اپنے طوفان بلا خیز کی کامیابی کے بارے میں غیر معمولی اعتماد کی جھلکیاں جو سب کو نظر آ رہی ہیں اور ہر ایک کو حیران بھی کیے ہوئے ہیں، ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بہت بڑا یدھ ہو گا.... انجام جو بھی ہو اور فتح جسے بھی نصیب ہو خدا کرے آئین پاکستان کی مکمل بالادستی منتخب پارلیمنٹ کے حقیقی اقتدار اور بانیِ مملکت کے سول بالادستی کی صحیح معنوں میں کارفرمائی پر منتج ہو ورنہ وہ انتشار جنم لے سکتا ہے کہ سویلین قوتوں سے خواہ مولانا کی زیر قیادت ہوں یا عمرانی حکومت والی سنبھالنا مشکل ہو جائے گا.... تیسری قوت فائدہ اٹھانے میں دیر نہ لگائے گی.... لہٰذا وزیراعظم عمران خان اور حضرت مولانا دونوں کا مفاد اسی میں ہے کہ ایک دوسرے کے نقطہ¿ نظر کو اچھی طرح سمجھیں اور اس طرح بغل گیر ہو جائیں کہ ہار یلغار کرنے والوں کی ہو نہ حکومت کے لوگوں کی بلکہ کامرانی ملے تو صرف اور صرف آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے ساتھ اسلامی دفعات کے تحفظ کو.... اسی میں دونوں کی حقیقی کامیابی ہے....


ای پیپر