سیل ہائے کرب و بلا
26 اکتوبر 2019 2019-10-26

کشمیر ہمارا منتظر ہے۔ عالمی منظر نامے میں کچھ بیانات ابھرتے ہیں۔ ملائیشیاسے مہاتیر محمد اور ترکی سے اردوان نے بھارتی ناراضگی رد کرتے ہوئے کشمیر پر ہمدردانہ موقف دوہرایا۔ 22 اکتوبر کو امریکی کانگریس میں کشمیر پر سوالات اٹھائے گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 1998 ء کے (ایٹمی دھماکوں) بعدیہ کسی بھارتی اقدام پر شدید ترین محاسبہ تھا ۔ امریکی انتظامیہ سے کشمیر کی صورت حال پر جواب طلب کیے گئے کہ امریکہ اس ضمن میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔ پیلٹ گن کے کشمیری بچوں پر استعمال پر بھی سوال اٹھایا گیا ۔ 2 گھنٹے کے سیشن میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بھارت کا کشمیر پر دفاع مشکل ہو گیا ۔ کشمیر پر بھارتی ظلم و زیادتی پر تنقید ہوتی تو کچھا کچھ بھرا کمرہ تالیوں سے گونج اٹھتا۔ اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ بھارت امریکی سفارت کاروں کو کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا۔ متعلقہ امریکی سیکرٹری سٹیٹ ایلس ویلز نے صفائی پیش کی کہ واشنگٹن مسلسل کشمیر کی صورت حال پر اظہار تشویش کر رہا ہے۔ ہم کشمیریوں کو پر امن احتجاء کے حق کی تائید کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کی مزمت کرتے ہیں جو خوف اور تشدد کا ہتھیار استعمال کر کے مذاکرات کو مشکل بناتے ہیں ! بھارتی فوج مسلسل خوف اور تشدد برسانے اور کشمیر کو عقوبت خانے بنانے کا حق رکھتی ہے ؟ ان کی بات چیت کی زبان تو کرفیو، پیلٹ گنز، گرفتاریاں، تشدد اور مکمل ابلاغی بلیک آئوٹ ہے۔ اس پر کشمیری کرفیو کے بیچ پر امن احتجاج کا حق رکھتے ہیں؟ امریکی کانگریس میں 78 دن بعد 2 گھنٹے کی ایک نشست بھر میں بولے گئے سخت ترین جملے بھی کشمیریوں کا مقدر بدلنے سے رہے۔ اس کی حیثیت صرف ایک کوالٹی ٹشو پیپر کی ہے۔ دو گھنٹے کے آنسو پونچھنے کے برابر ! بر سر زمین حقائق کی تلخی اتنی ہی شدید اور اذیت ناک ہے بدستور۔ کرفیو کے با وجود شدید مزاحمت سری نگر کے آنچر جیسے علاقوں میں جاری ہے۔ گارڈین کی رپورٹ میں نو جوان پوری پوری رات ڈنڈوں اور پتھروں کے ساتھ اپنے علاقے کو بھارتی فوج کی دست برد سے بچانے کو جان پر کھیل کر پہرہ دیتے ہیں۔ عورتوں بچوں بوڑھوں کے تحفظ کی خاطر۔ نعرہ زن کہ ہم خون کے آخری قطرے تک آزادی کے لیے لڑتے رہیں گے۔ پاکستان کیا کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ میں 5منٹ کی خاموشی اختیار کر کے سائرن بھی بجائے گئے۔ ( پتہ نہیں کشمیر تک آواز گئی یا نہیں؟) خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری۔ تاہم بیان بھی دے دیا کہ پاکستان اخلاقی اور سفارتی طور پر کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اظہار یک جہتی میں اخلاقی طور پر ہم چپ ہو رہے۔ سفارتی طور پر یو این میں تقریر اور یہاں سائرن بجا دیئے۔ اب یہ نیا پاکستان ہے۔ پرانا محمد علی جناح والا تو ہے نہیں جہاں بے خوف، اٹل عزم وارادے کے ساتھ ، سفارتی ، اخلاقی ، کاغذ قلم اور تقاریر کی گھن گرج سے برطانیہ اور ہندو کی دوہری غلامی سے نجات کا راستہ نکال کر پاکستان بنوا دیا! جب کشمیری خواتین بھارتی سپاہیوں کے ہاتھوں مظاہرے کی پاداش میں پٹ رہی تھیں تو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں اظہار یک جہتی جاری تھا۔ سٹیج پر موسیقی کی دھن پر خوبرو لڑکیاں کشمیری چمکتے لباس پہنے ( جن پر کرفیو، بھوک، اذیت ، بھائیوں کی گرفتاریاں کی دھول نہ تھی ) ٹیبلو پیش کر رہی تھیں۔ یہاں کی عورت اب خنساء ؓ بن کر بیٹے پال کر کشمیر تو نہیں بھیج سکتی، اجازت نہیں ہے۔ لائن آف کنٹرول پار کرنے سے وزیر اعظم نے منع کر دیا ہے۔ گرفتار ہو جائیں گے۔ سو اب یہاں تا دیر رنگ برنگی مصروفیات میں دھنسی کیرئر بناتی عورت کو بیٹے پیدا کرنے، پال پوس کر امت کے حوالے کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ ہاں ایک اور خدمت ’کاف کنگنا‘ نامی آزادی کشمیر پر ’خصوصی فلم‘ بنا کر بھی کر دی ہے۔ایسی فلم جسے دیکھ کر کشمیری اپنے غم بھول جائیں۔ ساری حدیں توڑتا نیلم منیر کا رقص دیکھ کر شوق جہاد بھی غرق ہو جائے۔ جس پر شدید تنقید کے جواب میں اس نے اسے حب الوطنی کے جذبے کا اظہار قرار دیا ! یہ سب پاکستان کی خاطر کیا ہے ! جس کے لیے ( میری شرم، حیا تو کیا، میر ی جان بھی حاضر ہے ) مرنے کو بھی تیار ہوں۔ یہ فلم بھارت کو نیا پاکستان دکھا رہی ہے۔ جس کی حسینائیں جان ہتھیلی پر لیے رقصاں ہیں ! ادھر آزادی مارچ تیار ہے۔ یہ ممی ڈیڈی، موم بتی، ڈی جے مارکہ سول سوسائیٹی مخلوط مارچ نہیں ہے۔ کارکن اپنے ہمراہ بستر، دو جوڑے کپڑے، پانی اور چنے ( برگر نہیں ! ) ہمراہ لائیں گے۔نمازوں کے وقت موسیقی کی بجائے یا جماعت نماز کا منظر مغرب، کا کلیجہ دہلائے گا! اللہ مدارس اور اہل دین کی خیر کرے۔2014 ء میں چار ماہ دھرنا دینے والے بھی نجانے کیوں مختصر مارچ سے لرزاں و ترساں ہیں۔ چلیئے اس مارچ سے اور کچھ نہیں تو عازم جہاد ہونے کا تجربہ ہی چنے، پانی ، پیدل مارچ سے ہو جائے گا۔ بھارت کو لگام یہی دے سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر زبانی کلامی ( وہ بھی اپنوں پر ) تیر و تفنگ چلانے والے، جنگ و جدل اور بد گوئی کا محاذ گرم رکھنے والوں کے بس کا روگ نہیں۔ دوسری جانب حکومت مسلسل بڑی تندہی سے انتشاری اقدامات پر کمر بستہ ہے۔ بیٹھے بٹھائے پارلیمان سے بالا بالا صدارتی آرڈیننس جاری کر کے پی ایم ڈی سی کو یک بیک تحلیل کر دیا۔ 220 لوگ بے روز گار بیک بینی و دو گوش۔ اب انصافیے بھرتی ہوں گے ۔ ( نوکریاں دینے کا وعدہ ان سے تھا عوام بلاوجہ منہ سنوارتے رہ گئے! )کے پی کے میں پہلے ہی ڈاکٹر مسلسل احتجاج کناں ہیں ان کی جگہ پولیس ہسپتالوں میں موجود ہے ! پورا ملک احتجاجوں کی نذر ہے۔ یہ تبدیلی در تبدیلی برائے افراتفری ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف بہت خوش ہیں۔ کہتے ہیں: ’ سخت معاشی فیصلوں کی حمایت کریں گے ‘۔ یعنی بے روز گاری کے نتیجے میں خود کشیوں، خود سوزیوں، چوری ڈاکوں، معاشی غموں کو منشیات میں ڈبونے کی حمایت کریں گے ! یہ ہے ایٹمی پاکستان سے نمٹنے کا گلوبل فارمولا۔ بلوچستان یونیورسٹی کے شرمناک ہراسانی سکینڈل پر سب منہ چھپائے بیٹھے تھے۔ کہ ایک اور المیہ سامنے آ گیا۔ ایم اے او کالج لاہور کے ایک لیکچرر نے ہراسانی کے جھوٹے الزام پر شرمساری کے ہاتھوں خود کشی کر لی۔ نمبروں کے چکر میں الزام عائد ہوا، انکوائری ہوئی، بے گناہ قرار دیا گیا۔ بیوی ساتھ چھوڑ گئی ، برأت کا خط تین ماہ بعد بھی نہ دیا گیا اور نوجوان ہمت ہار کر جان کھو بیٹھا۔ کہانی ہراسانی کی تکلیف دہ صورت حال پر روشنی ڈالتی ہے۔ مخلوط تعلیم کا زہر، آزادی ، ترقی، اعلیٰ تعلیم کے نام پر آئے دن بلائوں سے نو جوان نسل کو دو چار کر رہی ہے۔ ایمانیات، عقیدہ ، اخلاقیات، ایمان بالآخرۃ سبھی کمزوری کے شاخسانے ہیں۔ یہ ہے نام نہاد روشن خیالی کا حقیقی گھنائونا چہرہ۔ سیرت و کردار کا کھوکھلا پن ان انتہائوں کو چھو رہا ہے کہ ہم کسی بڑے امتحان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سابق وزیر اعظم کی صحت اور جان سے جس طرح کھلواڑ کیا گیا وہ منتقم مزاج سیاسی اخلاقیات کی بد نمائی بد صورتی کی بھیانک عکاسی ہے۔ پوری دنیا ہی یوں تو انتشار گاہ بن چکی۔ رندِ بادہ خوار ٹرمپ نے رونا رویا کہ مشرقِ وسطیٰ ہمارا جانا تاریخ کا بد ترین فیصلہ تھا۔ عام تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کی غلط اطلاع پر ( قصداً ) گئے جبکہ ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ مشرق وسطیٰ میں ہم نے 80 کھرب ڈالر لگائے۔ ( جس سے دنیا بھر کی غربت مٹائی جا سکتی تھی) اللہ نے قرآن میں اسی لیے تو ذوالقرنین کا نمونہ پیش کیا کہ سپر پاور بنو، سائنس ٹیکنالوجی کے مالک ہو جائو تو خیر یوں پھیلائو ۔ انسانیت کو فیض یوں پہنچائو۔ بجائے مال کو آگ لگانے اور ہزاروں فوجی اور لاکھوں انسان مروانے کے۔ ( مقتدرین، جرنیلوں، کمانڈروں کی اولاد تو جھونکی نہیں جاتی۔ جنگوں میں غریب فوجی ہاتھیوں کی جنگ میں پستے ہیں ! ) سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دنیا پر معاشی حکمرانی ملٹی نیشنلز کی ہے۔ ایک نظر ان کی کر تو تیں بھی ملاحظہ ہوں۔ ہم تو یکا یک اور اچانک برستے حکومتی اقدامات کی زد میں ہیں۔ پلاسٹک بیگز کے ہاتھوں سارا بوجھ کمزور تاجروں، فیکٹری والوں اور عوام پر ڈال دیا۔ ادھر اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ملٹی نیشنلز کے دیو ہیکل منصوبوں اور مفادات کے ہاتھوں پلاسٹک آلودگی کے سب سے بڑے مجرم بھی یہی پائے گئے ہیں۔ کوکا کولا، پیپسی، نیسلے، یونی لیور ( 4 براعظموں کے 37 ممالک سے لی گئی رپورٹ کے مطابق)۔ سمندروں میں (بالخصوص ایشیا کے ) 5 لاکھ ضائع شدہ پلاسٹک کے ٹکڑوں کا زہر اکھٹا کیا گیا۔ نیسلے، ایک دن میں ایک ارب سے زیادہ ، ایک دفعہ استعمال ہونے والے ( سب سے نقصاندہ ) پلاسٹک کی مصنوعات بیچتا ہے۔ اب رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر جھوٹی تسلیاں اور صفائیاں پیش کر رہے ہیں ! پوری دنیا ہمہ نوع بلائوں کی زد میں ہے ! ابھی دجالیت کا ڈراپ سین باقی ہے۔ جس کی مسیحائی بالآخر اسلام ہی سے ہو گی جو مذکورہ بالا سیل ہائے کرب و بلا کا تریاق ہے۔ شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے !


ای پیپر