ٹوٹتے بکھرتے خواب
26 اکتوبر 2019 2019-10-26

ملک بھر میں ایک افراتفری کا منظر ابھر چکا ہے ایک طرف آزادی مارچ ہے تو دوسری جانب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو احتجاج کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب حکومت سے نالاں ہیں اور اپنے مطالبات منوانے کے لیے شور مچا رہے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو سوچا گیا تھا وہ نہیں ہو ا ( اب تک ) ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں کوئی امید کی کرن پھوٹ پڑے اور ٹوٹتے خوابوں کو جوڑ دے مگر حالات بتا رہے ہیں کہ خوابوں کی تعبیر ذرا مشکل ہے کیونکہ کوئی طبقہ ایسا نہیں جو حکومت کے خلاف نہ ہو اس کی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کی اشد ضرور تھی اس کے برعکس اس نے قدم اٹھایا یعنی عوام کی جیبوں پر جھپٹنا شروع کر دیا۔ انصاف نام کی کوئی شے بھی ہوتی ہے پہلے کہیں کہیں ایسا نظر آتا تھا مگر اب وہ مفقود ہے۔ چٹے دن قتل ہوتا ہے شواہد موجود ہوتے ہیں قانون بھی سب دیکھ رہا ہوتا ہے مگر انصاف نہیں ہوتا۔ اور حکومتی عہدیدار نہ جانے کیا سمجھ کر با آواز بلند کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ کر کے دکھائیں گے وہ کر کے دکھائیں گے مگر ان کا کہا پورا نہیں ہوتا۔ گنگا الٹی بہنے لگی ہے ۔ اگر ان کا ارادہ بھی تھا تو وہ پا یہ تکمیل کو نہیں پہنچ رہا۔ کیوں ؟ کیونکہ انہوں نے عوام سے رابطہ منقطع کر لیا ہے۔ پچھلی حکومتوں کی طرح مخصوص دائرے میں سفر کیا جانے لگا ہے لہٰذا ان کی عقل و خرد محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ سوچنے اور غور و فکر کرنے سے عاری ہو چکے ہیں۔ اپنے کارکنوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ شاید ان کے نزدیک ان کی کیا وقعت ہے یہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیںلہٰذا یہ تمام ’’ اجزائے سماج ‘‘ مل کر ایک بے چینی میں تبدیل ہو گئے ہیں یوں حکومت یکہ و تنہا کھڑی ہے اسے دلاسہ دینے والے بہت کم رہ گئے ہیں اس کی پالیسیوں نے اسے غیر اہم بنا دیا ہے۔ مگر یہاں ان مافیاز کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے ماضی میں کھل کھلا کر غریب عوام کی کھال کھینچی اور اب ذرا تبدیلی کی ہوا چلی تو وہ بپھر گئے اور لگے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے مگر ریاست کے آگے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اگر وہ حرکت میں آتی ہے۔ اب وہ اس لیے آزاد ہیں کہ ریاست ہتھ ہولا رکھ رہی ہے کہ کہیں ملک کا پہیہ جام ہی نہ ہو جائے۔ نتیجتاً غریب عوام پس رہے ہیں ۔ ان کی عمر بھر کی کمائی کم ہوتی جا رہی ہے۔

سوال دہرایا جاتا ہے کہ اتنے سارے ٹیکسوں کی بوچھاڑ کے باوجود قومی سرمایہ کہاں جا رہا ہے۔ کیا واقعی معیشت کو اپنے پائوں کھڑا کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ یا پھر بڑے لوگوں کے پیٹ بھرے جا رہے ہیں۔؟

بہر حال قانون کی حکمرانی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں نے قانون کا مذاق اڑایا ہے تبدیلی لانے کا دعویٰ بھی ٹھس ہو گیا ہے۔ صورت حال کسی دوسری طرف کا رخ کر رہی ہے۔ پھر وہی روایتی کلچر سامنے آن کھڑا ہوا ہے ۔ زیادہ تر سیاستدانوں کے پیچھے کھڑے دانا و بینار انہیں اپنے مطالق چلا رہے ہیں۔ بیورو کریسی کے ماتھے پر معمولی بھی پسینہ نہیں آیا وہ دھڑلے سے ایک سینہ زور کی طرح مصروف عمل ہے۔ یہ ہے تبدیلی اور یہ ہے حکومت۔ اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تو گھر جائے لوگوں کو کیوں ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے ۔ ان کی خواہشوں کو کیوں دبایا جا رہا ہے۔ اگر معاف فرمائے تو عوام کا کہنا ہے کہ وہ تاریخ کے بد ترین مظالم ڈھا رہی ہے کہ روزی روٹی چھیننے کے منصوبوں سے لے کر قانون پر عمل در آمد کروانے والے اداروں تک سبھی ان پر ذہنی و جسمانی تشدد کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ طاقتوروں کے ہاتھوں کھیل رہی ہے اسے کمزوروں کا کوئی خیال نہیں۔

رشوت سے لے کر بد عنوانی تک سب کچھ جوں کا توں ہے وجہ اس کی یہی ہے کہ حکومت نے اپنا آپ نہیں دکھایا اسے نہیں دکھانے دیا گیا ۔ اس کا خیال ہو گا کہ وہ جب آئے گی تو ویرانے میں بہار آ جائے گی مگر باتوں اور خوابوں سے کچھ نہیں ہوتا جب تک عملاً کچھ نہ کیا جائے مگر عمل سے وہ دور ہے لہٰذا بد نظمی ، بد دیانتی، بد گمانی اور بے انصافی ہر سمت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس سے عوام میں نفرت کا ایک طوفان اٹھ سکتا ہے ۔ ساہیوال سانحہ سے اور بھی ان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

میاں نواز شریف کی ضمانت پر بھی وہ یہ کہتے سنے جا رہے ہیں کہ یہاں ان کے لیے کوئی قانون میں لچک نہیں بڑوں کے لیے سو بچنے کے سوراخ ہیں جن میں سے جھانک کر دیکھا جا سکتا ہے کہ راستہ صاف ہے یا نہیں۔ ؟

یہ بات سچ ہے غریبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ۔ وہ راہ چلتے پس زنداں دھکیل دیئے جاتے ہیں اور انہیں سزائیں بھی ہو جاتی ہیں۔ مگر اشرافیہ کچھ بھی کر لے وہ بری ہو جاتی ہے۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا ۔ بہّتر برسوں میں سوائے نعروں اور وعدوں کے عوام کو کچھ نہیں ملا انہیں دانستہ دھوکا دیا گیا ۔ بیوقوف بنایا گیا اور قانون کی چابک سے ہراساں کیا گیا ۔ اب وہ یہ جان چکے ہیں کہ جب تک وہ خود سامنے نہیں آتے یہ حکمران انہیں روکتے رہیں گے ، احمق تصور کرتے رہیں گے، اور ان کا استحصال کرتے رہیں گے لہٰذا ضروری ہے کہ جہاں ان کا کردار ہے اسے دیانت داری سے ادا کیا جائے کیونکہ بہّتر برس ایک طویل عرصہ ہے اس میں وہ ظلم سہتے رہے ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آتے رہے ہیں مگر بعد میں یہ بکھر جاتے ہیں اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ ۔ ایک فیصد بھی کچھ نہیں بدلا۔ ثابت ہوا کہ اقتدار کی محافظ قوتیں روایتی سیاسی کلچر کو تبدیل نہیں کرنا چاہتیں۔ انہیں اسی میں ہی فائدہ ہے۔ مستقبل میں ان کی یہ کوشش اور خواہش ثمر آور نہیں ہو گی کیونکہ عالمی روایتی طاقتیں اپنے اندر تبدیلی لا رہی ہیں بلکہ لا چکی ہیں ۔ لہٰذا وہ نو آبادتی ممالک میں بھی تبدیلی کی حامی ہیں ۔ ایسی تبدیلی جو ان کے مفادات سے متصادم نہ ہو۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ ایک سطح پر لوگوں کو کھڑا یا اکٹھا نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں۔ کبھی وہ حکمران طبقے سے ٹکرانے کا سوچتے ہیں ۔ کبھی وہ اپنی امنگوں کو پورا کرنے چل پڑتے ہیں۔ لہٰذا کیوں نہ ان کے سوچ کی قریب قریب ایک ماحول تخلیق کر دیا جائے اور اسے برسوں تک قائم و دائم رکھا جائے لہٰذا عوام کی اکثریت جو چاہ رہی تھی وہ نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے۔ جو لوگ چاہتے تھے کہ کڑا احتساب ہو وہ نہیں ہوا اور نہ ہی ہو گا۔کیونکہ احتساب کے شکنجے میں آنے والے بہت سے طاقتور لوگ ہیں جو امتیازی احتساب کے حامی ہیں۔ تاکہ ان کی طرف کوئی ہاتھ نہ بڑھے اور وہ یونہی موج مستی کرتے رہیں مگر ایک روز تو سب نے حساب دینا ہے کیونکہ ارتقائی عمل کو روکنا مشکل ہوتا ہے چاہے کوئی کچھ بھی کر لے لہٰذا اس وقت تک اٹھکیلیاں اور عوام کے ساتھ ستمگری کا سلسلہ جاری رہے گا وہ دوائوں کے بغیر مرتے رہیں گے حرام خوروں کو رشوتیں بھی دیتے رہیں گے۔ پھنکارتے سانپ کی مانند بیورو کریسی کے ’’ مظالم ‘‘ کا نشانہ بھی بنتے رہیں گے۔

حرف آخر یہ کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ طبقاتی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے لہٰذا محروم طبقات کو اٹھنا ہو گا۔ انہیں چلنا ہو گا چاہے چند قدم ہی چلیں کیونکہ بالادست طبقات کے لہجے سخت ہوتے جا رہی ہین جو آنے والے دنوں میں مزید سختیاں پیدا کرنے والے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ انہیں ذہنی و جسمانی طور سے ہمیشہ کے لیے معذور کر دیں۔


ای پیپر