سانحہ ساہی وال بمقابلہ سانحہ ماڈل ٹاون
26 اکتوبر 2019 2019-10-26

سانحہ ساہیوال میں ملوث کاو¿نٹر ٹیررازم ڈپیارٹمنٹ کے اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شک کافائدہ دے کر بری کیا ہے تو اس کے ساتھ جارحیت کو بہتر ین دفاع سمجھنے والے حکومتی جماعت کے کارکن میدان میں آ گئے ہیں وہ اس فیصلے کو جواز دینے کے لئے یاد کروا رہے ہیں کہ ماڈل ٹاو¿ن میں بھی ایک سانحہ ہوا تھا اور اس میں نامزد ملزموں کوبھی سزائیں نہیں ملیں۔مجھے دونوں واقعات کوبہت قریب سے دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا اور ان دونوں واقعات میں صرف ایک بات مشترک ہے کہ قتل ہونے والے سرکاری اسلحے سے قتل ہوئے اور اسلحہ چلانے والے ریاستی اہلکار ہی کہلاتے ہیں چاہے وہ کسی بھی محکمے سے ہوں مگر اس مماثلت سے ہٹ کر باقی تمام پس منظر اور پیش منظر مختلف ہے۔ ماڈل ٹاو¿ن کا سانحہ آج بھی زندہ ہے اور جب کسی کو موقع ملتا ہے وہ اس کو کھڑا کر لیتا ہے مگر کیا ساہی وال کے سانحے میں بھی انصاف کی امید رکھی جا سکتی ہے جس کے گواہ ہی منحرف ہوچکے، اس آپریشن کا کوئی افسر نامزد تک نہیں ہوسکا اور اہلکار بھی بری کر دئیے گئے۔

ان دونوں واقعات میں سب سے بنیادی فرق سیاسی اور غیر سیاسی کا ہے۔ ماڈل ٹاو¿ن کا واقعہ سو فیصد سیاسی تھا اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال بھی کیا گیا مگر ساہی وال میں ہونے والی بربریت کا نہ تو کوئی سیاسی پس منظر تھا اور نہ ہی اسے کسی سیاسی جماعت نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا بلکہ مجھے حیرت ہے کہ مسلم لیگ نون لاہو رکی نمائندہ جماعت ہونے کی دعوے دار ہے اوراس کے اہم رہنماو¿ں میں سے کسی نے بھی سیاسی تو ایک طرف رہی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی مقتول خاندان کے مظلوم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کی زحمت نہیں کی، کوئی جھوٹی ہی سہی مگربڑھک تک لگانے کی جرا¿ت نہیں کی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ چو نگی امرسدھو کے قریب لوئر مڈل کلاس کی آبادی میں اس گھر کے اندر لوہے کے دروازے پر پی ٹی آئی کے امیدوار کا سٹیکر لگا ہوا تھا جو اس فیملی کی سیاسی وابستگی کو ظاہر کر رہا تھا یعنی سانحہ ساہیوال میں اپوزیشن کا تھوڑی بہت بیان بازی کے علاوہ کردار زیرو رہا بالکل اسی طرح جیسے اب بھی بچیوں کی عزتیں لوٹ کر انہیں قتل کیا جا رہا ہے مگراب کوئی بچی زینب جیسا مقدر نہیں رکھ رہی، اب کوئی طاہر القادری، کوئی قمر زمان کائرہ اور پی ٹی آئی کا کوئی رہنما ایسی کسی بچی کے لئے انصاف مانگنے نہیں جاتا۔

ماڈل ٹاو¿ن میں طاہر القادری کے لوگ لاوڈ سپیکر پر مسلسل اعلانات کر رہے تھے کہ وہاں لگائے گئے غیر قانونی بیرئیرز کا دفاع کرنے کے لئے پولیس کا مقابلہ کیا جائے، وہاں کارکنوں کے جتھے جمع کئے گئے تھے جو پولیس اہلکاروں پر پتھراو¿ بھی کر رہے تھے مگر ساہی وال بارے معصوم بچے پولیس والوں کا عمومی کردار جانتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ ان کے والد نے اہلکاروں سے کہا کہ وہ ان سے پیسے لے لیں مگر انہیں جانے دیں۔ ماڈل ٹاو¿ن کے سانحے سے آگے ایک مارچ اور دھرنا بھی تھا اور یہ امر ایک حقیقت ہے کہ ماڈل ٹاو¿ن کے سانحے نے اس مارچ اور دھرنے میں لہو کا رنگ بھر دیا تھا مگر جب ساہی وال کا واقعہ ہوا تو اس وقت کسی آزادی مارچ کا دور، دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ اسی روز کی کارروائی کو مزید دیکھیں کہ اس سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر اس وقت کا وزیراعلیٰ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آنسو بہا رہا اور مذمت کر رہا ہے، پولیس افسران کو معطل کیا جا رہا ہے، صرف الزام لگنے پر وزیر قانون کو اس کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے، ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کا کہا جا رہا ہے مگر جب ساہی وال کا واقعہ ہوا تو اس وقت کی حکومت اس مظلوموں کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے، قاتلوں کا دفاع کر رہی ہے، چلیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتدائی رپورٹ پر ابتدائی ردعمل تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تمام حقائق و وقعات سامنے آ گئے تو اس وقت بھی پنجاب حکومت نے اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات سے انکار کیا اور نچلے درجے کے ایک جوڈیشل افسر کے ذریعے گونگلوو¿ں سے مٹی جھاڑی گئی۔

مزید آگے بڑھتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں ہر سیاسی مخالف کو ملوث کیا گیا چاہے وہ وزیراعظم تھا ، وزیراعلیٰ تھا یا کوئی وفاقی وزیر۔ یہ بات طے شدہ تھی کہ اس خون کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے مذموم سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی پوری منصوبہ بندی تھی مگر ساہی وال کے مقدمے میں کوئی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تو ایک طرف رہا متعلقہ محکمے کا سربراہ تک نامزد نہ کیا جا سکا۔ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے مقابلے میں سانحہ ساہیوال مکمل طور پر غیر سیاسی تھا اور جناب عمران خان نے اپنے ٹوئیٹ میں قطر سے واپسی پر انصاف دینے کا وعدہ کیا تھا مگر پھر یوں ہوا کہ انصاف کے بجائے بچوں کو ایک ایک کروڑ روپے دے دئیے گئے جو انہیں بالغ ہونے پر ملیں گے۔ جب تک نواز لیگ کی حکومت رہی کینیڈین شہریت کے حامل طاہر القادری انصاف لینے کے نام پر نوٹنکی سجاتے رہے مگر جب ان کے کزن کی حکومت بنی تو پہلے شہدائے ماڈل ٹاو¿ن کی برسی خاموشی سے گزر گئی اور بعد میں مولانا بھی سیاست سے انتقال کر گئے۔ ہمارے ہاں تفتیش کا ایک سادہ سا اصول ہے جس کے تحت دیکھا جاتا ہے کہ جرم سے فائدہ کس کو ہوا۔ ماڈل ٹاو¿ن کے واقعے سے فائدہ اٹھانے والے سب کے سامنے ہیں ( اور جب کبھی اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیق ہو گی تو بہت سارے نئے چشم کشاحقائق سامنے آئیں گے )مگرساہی وال کے سانحے سے تو کسی نے فائدہ نہیںاٹھایا۔ کہا جا رہا ہے کہ عدالت نے گواہوں کے منحرف ہونے پر اہلکاروں کو بری کیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان اہلکاروں کے بری ہونے کے بعد کوئی دوسرا چالان بھی پیش کیا جائے گا یا اب یہ طے ہو گیا ہے کہ گواہوں کے منحرف ہونے کے بعد یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تھا؟

شاہ زیب کیس توپرانا ہو گیا جس میں اس کے والدین نے کروڑوں روپے اور غیر ملکی شہریت کے بدلے اپنے بیٹے کا خون معاف کر دیا تھا مگر ابھی چند روز پہلے کی رپورٹ ہے کہ ’ اک گل پُچھاں مارو گے تے نئیں، اے تُسی مارنا کتھوں سکھیا اے‘ جیسے ڈائیلاگ کے بعد پولیس تشدد سے مارے جانے والے صلاح الدین کے والد نے بھی ان اہلکاروں کو معاف کر دیا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معافی جماعة الدعوہ کے امیرحافظ محمد سعید کے دباو¿ پر دی گئی ہے جو اس وقت جیل میں بند ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب اس قتل کا حساب ان اہلکاروں کے بجائے حافظ صاحب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں دیں گے۔ دیت کا قانون اپنے اندر بہت ساری بھلائی لئے ہوئے ہے مگر یہ بھلائی صرف طاقتور اور امیروں کے لئے ہی کیوں ہے، آج تک کوئی ایسی مثال کیوں نہیں جس میں کسی امیر اور طاقت ور شخص نے کسی غریب قاتل کو معاف کیا ہو۔ مجھے اس پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ گواہ صرف غریب اور کمزور مدعیوں کے ہی کیوں منحرف ہوتے ہیں، امیروں اورطاقتوروں کے کیوں نہیں ہوتے؟


ای پیپر