سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل
26 اکتوبر 2018 2018-10-26

مجھے بچپن سے آج تک جس قتل ہونے والے صحافی کا نام یاد ہے اس کا نام تھا شمس اور جس کا تعلق لائلپور سے تھامگر دلچسپ بات یہ ہے کہ آج آپ کسی بھی دانشور یا صحافی سے شمس کے بارے میں پوچھ لیں وہ اپنی لا علی کا ذکر کریں گے۔حتیٰ کہ قابل احترام اور معزز صحافی ضمیر نیازی مرحوم کی کتاب میں بھی شمس کا ذکر نہیں ملتا۔جب ڈاکڑ مہدی حسن ،بیکن ہاوس یونیورسٹی کے ماس کمونیکیشن کے سربراہ بنے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جا کر اس کی تحقیق کرو اور لکھو مگر بدقسمتی سے یہ پراجیکٹ سیاست کا شکار ہو گیا اور شمس کے قتل پر کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا۔شمس کا قصور کیا تھا اس نے صرف ایک ہیڈ لائین لگائی تھی ۔ ’لائیلپور کے چہار درویش‘۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس کی لاش سہگلوں کی کوہ نور ملز کی چمنی میں پھینک دی گئی۔

انگریز کے زمانے سے یہ کوشش مسلسل کی جاتی تھی کہ عوام کو سچ معلوم نہ ہو۔لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ورنیکولر پریس پر طرح طرح کی پابندیاں لگیں۔اخبار بند کئے، صحافیوں کو جیل حتیٰ کہ کالے پانی بھی بھیجا مگر دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی صحافت کو ہر قسم کی آزادی تھی۔ اگر آج آپ اس وقت کے انگریزی اخبارات کے ایڈیٹوریل پڑھیں تو آپ حیران ہو جائیں گیں۔پاکستاان بناتو یہاں بھی پریس کو کنڑول کرنے کی کوشش کی گئی۔سب سے پہلے تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی آئین ساز اسمبلی میں 11ستمبر 1947 تقریر کو روکنے کی کوشش کی گئی۔یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکمران نہ تو آزاد پریس چاہتا ہے اور نہ ہی آزد عدلیہ ۔وہ ان کو کنڑول کرنے کے لئے مختلف حربہ استعمال کرتا ہے۔ یعنی گاجر اور ڈنڈا۔

فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے پریس کو کنڑول کرنے کے لئے کئے حربے استعمال کئے ۔گو وہ آزاد معیشت کا حامی تھا مگر اس نے سب سے پہلے میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔اس کے بعد اس نے بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس جاری کردیا جس کے تحت اخبار کا ڈکلیریشن ہی لینا ایک مسئلہ بن

گیا۔جنرل ایوب پریس کو اپنے مکمل کنڑول میں رکھنا چاہتا تھا اور اس نے لالچ اور ڈنڈے کا بھر پور استعمال کیا ۔پھر ہمیں یاد ہے کہ باقی بلوچ کو مارنے والے شخص نے صحافی ضمیر قریشی کو قتل کر دیا۔

ایوب خان کے زمانے میں پریس کو کنڑول کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے جن میں اخبار بند کرنا، جرمانے ،اخباری کاغذ پر کنڑول اور سرکاری اشتہارات کی ترسیل شامل تھے۔ 1971کے فوجی ایکشن میں مشرقی پاکستان میں صحافیوں کے خلاف کیا کچھ ظلم کئے گئے ہمیں ان کی خبر نہیں ہے۔ پھر ذولفقار علی بھٹو کے زمانے میں بھی سچ کو دبانے کے لئے وہی حربے دہرائے گئے۔ ضیا الحق کے مارشل لا کے زمانے میں تو اخبار اور اخبار نویسوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو گئی۔اخبارات بند کئے گئے۔سینکڑوں کارکنوں کو نوکریوں سے نکال دیا ۔سنسر کھلے عام کیا جا تا تھا، اخبار چھپنے سے پہلے سرکاری محکمہ اطلاعات اور فوجیوں کو دکھانا پڑتا تھا۔ ضیا الحق کے زمانے میں جہاں صحافیوں کے خلاف ظلم ستم ہو رہے تھے مگر یہ دور صحافیوں کے اپنے حقوق کی جدوجہد کا بھی سنہری دور تھا۔صحافیوں نے اپنے حقوق کے لئے بھوک ہڑتال کی ان کو کوڑے مارے گئے اور انہیں جیل میں ڈالا گیا۔

وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو یہ کریڈت جاتا ہے کہ انہوں نے اخبار کے ڈکلیریشن کو آسان بنا دیا اور پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس ختم کردیا۔ یہاں کیو نکہ پاکستان کی صحافت کی تاریخ لکھنا مقصود نہیں ہے اس لئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ موجودہ پاکستان میں ہر روز کسی نہ کسی صحافی کے قتل کی خبر آتی رہتی ہے۔دنیا میں ہر سال سینکڑوں صحافی قتل ہوتے ہیں۔

سعودی صحافی کے قتل پر پاکستان میں ایک صحافی سلیم شہزاد کے قتل کا ذکر بھی بہت ضروری ہے۔یہ بات ایک حقیقت ہے کہ صحافی سلیم شہزاد کے قتل پر پاکستان کے صحافیوں نے بہت احتجاج کیا اور سرکار کو ایک کمیشن بنانے پر مجبور کیا مگر اس کمیشن کی تحقیقات آج تک خفیہ ہیں اور ذمہ داران کو کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی۔ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں ایک خاندان کی حکومت ہے اور وہ ہر قیمت پر اپنا اقتدار بر قرار رکھنا چاہتا ہے۔کیونکہ سعودی عرب میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، عوام کو کوئی حقوق نہیں ہیں اور ایک قبائلی نظام ہے لہذا جو کوئی بھی ذرا سا بھی اختلاف کا اظہار کرتا ہے اگر وہ خوش قسمت ہے تو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ورنہ لوگوں کا غا ئب کرنا اور مار ڈالنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔

اس حالات میں بھی لوگ کسی نہ کسی طریقہ سے اپنا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے تک کسی نہ کسی طریقہ سے خبریں آتی رہتی ہیں۔ دنیا بھر میں ہر جگہ صحافی قتل ہو رہے ہیں مگر جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل نے اس کو دنیا بھر کی بہت بڑی خبر بنا دیا، نہ صرف یہ بلکہ یہ شاید واحد واقعہ ہے کہ سعودی حکومت اس واقعہ سے انکار کرتی کرتی اس قتل کو ماننے پر مجبور ہو گئی اور ساری ذمہ داری چند ایک افسران پر ڈال دی گئی۔ اس قتل کے سعودی سیاست پریقنناً بہت گہرے اثرات ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ جمال خاشقجی سعودی اشرافیہ میں سے تھا جب اشرافیہ میں لڑائی جھگڑا ہو تو سمجھ لو کہ سسٹم میں بہت بڑی دراڑ پڑ چکی ہے ۔


ای پیپر