عمران خان: ایک ماہ میں دوسرا دورۂ سعودی عرب
26 اکتوبر 2018 2018-10-26

بین الریاستی تعلقات میں بلاشبہ ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے لیکن پاکستان اور سعودی عرب کے معاملے میں یہ معقولہ کافی نہیں کیونکہ پاکستان میں وزیراعظم کوئی بھی ہو سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو سعودی عرب نے ہر دور میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور غیر مشروط دوستی کی روایات کو زندہ رکھا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد خیال تھا کہ سعودی عرب دو طرفہ تعلقات پر نظر ثانی کرے گا مگر یہ اندازہ غلط ثابت ہوا ۔ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وزیراعظم عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے جس ملک کا دورہ کیا، وہ سعودی عرب ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی قرضوں کی واپسی اور معیشت کی بحالی کے لیے اس وقت تاریخ کے بہت بدترین بحران کا سامنا ہے۔ اس میں منظر میں اپنے گزشتہ سرکاری دورے کے تین ہفتے بعد عمران خان اس ہفتے ایک دفعہ پھر سعودی عرب پہنچے اس دورے کی تفصیلات بڑی دلچسپ ہیں۔

23 اکتوبر کو الریاض میں Devos of the desert کے عنوان سے سعودی عرب نے ایک اعلیٰ ترین سطح کی سرمایہ کاری کانفرنس future investment initiative کی میزبانی کا اعلان کر رکھا تھا جس میں دنیا بھر کے بڑے برے سربراہان مملکت اور ملتی نیشنل اداروں کے سربراہان نے شرکت کرنا تھی ۔ سعودی عرب کو اندازہ تھا کہ اس سے انہیں ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے مگر بدقسمتی سے استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سعودی مخالف صحافی جمال خشوگی کے قتل کے انکشاف کے بعد بہت سے مغربی ممالک اور کمپنیوں نے جن میں آئی ایم ایف کی سربراہی lagrade بھی شامل ہیں نے اس کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی جو سعودی عرب کے لیے ایک دھچکا تھا۔ اس اثنا میں سعودی عرب نے پاکستان کو اس کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی اور وزیراعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے مدینہ سے ہوتے ہوئے ریاض پہنچے۔ کانفرنس میں شرکت کے بعد سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ مھمد بن سلمان کے ساتھ عمران خان کی خصوصی ملاقات کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کے بیلنس آف پے منٹ کے مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر تین ارب ڈالر دینے کا اعلان کر دیا اور اس کے ساتھ ہی ایک سال کی deferred payment پر پاکستان کو تین ارب ڈالر کا ادھار تیل دینے پر رضا مندی طاہر کر دی اور یہ بھی کہا کہ ادھار تیل کی یہ سہولت اگلے 3 سال تک ہو گی یہ گویا 12 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج ہے جس کی پاکستان کو اس وقت اشد ضرورت تھی۔ سعودی عرب نے اس سے پہلے 1998ء کے ایٹمی دھماکے پر اقتصادی پابندیوں کے موقع پر پاکستان کوساڑھے تین ارب روپے کا ادھار تیل دیا تھا۔ علاوہ ازیں 2013ء میں نواز شریف کے وزیراعظم بننے پر خیر سگالی کے طو رپر ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد بھی دے چکے ہیں۔

حالیہ تاریخی پیکیج کے بعد پاکستان کے اندر حکومت کے حامی اور مخالفین میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ عمران خان کو عالمی دنیا کی طرح سعودی عرب کی اس کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کرنی چاہیے تھی۔ یہ بات منطقی طور پر غلط ہے اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے کیونکہ سعودیہ کی دعوت پر نہ جانا احسان فراموشی کے مترادف تھا ویسے بھی پاکستان اس وقت قرضوں کی واپسی کے لیے آئی ایم ایف اور چائنا سمیت ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہا تھا لیکن کہیں سے بھی حوصلہ افزاء پیش کش نہیں مل رہی تھی۔ دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل میں کام آئے یہ محاورہ پاکستان کے تناظر میں شاید سعودی کے لیے ہی وجود میں آیا ہے جو ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیتا آیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے ملک کی اقتصادی حالات کا جائزہ لیں غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 16 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ اسی طرح بجٹ خسارہ 27000 ارب روپے ہے جبکہ گرشہ قرضہ 1200 ارب روپے ہے۔ سوئی گیس کاخسارہ 157 ارب روپے ، پاکستان سٹیل مل کا خسارہ 187 ارب روپے ، ریلوے خسارہ 37 ارب روپے، پی آئی اے خسارہ 360 ارب روپے ، میٹرو بس خسارہ 8 ارب روپے اور یوٹیلیٹی سٹور کا خسارہ 14 ارب روپے ہے۔ ملکی معیشت بری طرح قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ نئی حکومت کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت تھی۔

سعودی عرب سے امداد کی یقین دہانی کے بعد ملک کی سٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے اور 100

انڈیکس 1500 درجے اوپر چلا گیا۔ ڈالر کی قیمت 2 روپے کم ہو گئی اور سرمایہ داروں کا اعتماد بحال ہونے لگا ہے۔ عمران خان کے مخالفین کو یاد رکھنا چاہے کہ امریکہ نے جمال خشوگی کے معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کافی کشیدہ کر لیے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم 110 ارب ڈالر کے اسلحہ خریداری معاہدے منسوخ نہیں کر سکتے ایسا کرنے سے امریکہ میں بے روزگاری کا خدشہ ہے۔ جب امریکہ جیسا سپر پاور اپنے ملکی مفدات کے لیے فیصلے کرتا ہے تو عمران خان نے سعودی عرب سے امداد لے کر کیا غلط کیا ہے۔ کیا اس فیصلے سے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے یا یا نقصان ہو رہا ہے؟ ہمیں سیاسی اختلافات کی خاطر ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے پاکستان کے مفاد کو ٹھیس پہنچتی ہو۔

حالیہ امداد کے اعلان کے بعد اب آئی ایم ایف سے امداد کی صورت میں پاکستان نے اپنی ساکھ مستحکم کر لی ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف اپنی سخت شرائط نہیں منوا سکے گا لیکن وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ چائنا اور متحدہ عرب امارات جیسی دوست حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اگر وہاں سے ہمیں امداد کے طور پر اس طرح کی گرانٹ حاصل ہو گئی تو شاید پاکستان کو عالمی ادارے کے پاس نہ جانا پڑے مگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔

ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی مندوبین سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے وہاں اپنا نقطۂ نظر پیش کر ے۔ اس کانفرنس کا ضمنی فائدہ یہ ہوا ہے دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاری اداروں اور عالمی بینکوں کے سربراہوں کو پاکستان کا مؤقف سنانے کا موقع ملا ہے جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے پاکستان کے اندر ایک آئیل ریفائنری لگانے کا معاہدہ کیا ہے جس سے پاکستان کو وسیع فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

عمران خان کے مخالفین نے ان کی اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستان امداد کے لیے desperate یعنی ناگریز ہے۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس سے پاکستان کی بے عزتی ہوئی ہے لیکن عمران خان نے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان بنیادی فرق کرپشن ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں کرپشن زدہ ملک ورثے میں ملا ہے۔ ان کا اشارہ پچھلی حکومتوں کی طرف تھا۔

حالیہ دورۂ سعودی عرب سے واپسی پر عمران خان نے بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کے کردار کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ یمن جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار اد اکرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے عمران خان ایرانی وزیر خارجہ سے بھی مل چکے ہیں اور سعودی مؤقف بھی ان کے سامنے ہے اگر اس جنگ بندی میں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ اس سے پہلے میاں نواز شریف بھی 2014ء میں یہ کوشش کر چکے ہیں لیکن ایران نے ان کو ثالث ماننے سے انکار کر دیا تھا ایرانیوں کا کہنا تھا کہ ثالثی کے لیے غیر جانبدار ہونا شرط ہے اور جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم سعودی عرب پر حملے کی صورت میں اپنی فوج دفاع کے لیے بھیجیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس میں فریق ہیں۔ بہرحال اگر ایران اب پاکستان کو ثالث تسلیم کرتا ہے تو یہ عمران خان کی فتح ہے۔

عمران خان کے حالیہ دورے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ حج عمراہ اور ورک ویزا کی فیسوں میں کیے جانے ولاے بھاری اضافے کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کو فائدہ ہو گا اور حج عمرہ اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ پاکستان نے اس دورے میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے جس کے ثمرات آہستہ آہستہ ہمارے معیشت پر ظاہر ہونا شرو ع ہوں گے۔


ای پیپر