ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔۔۔!
26 اکتوبر 2018 2018-10-26

وزیر اعظم جناب عمران خان نے بُدھ کی رات قوم سے خطاب کے دوران جہاں ملک کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لئے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی طرف سے شاندار پیکج ملنے کی خوشخبری سنائی اور جلد ہی کچھ مزید خوشخبریوں کی نوید دی وہاں اُنہوں نے اپوزیشن بالخصوص اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو جماعتوں نے گزشتہ 10سالوں میں قرضوں کا بوجھ چھ ہزار ارب روپے سے بڑھا کر تیس ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔ اِن قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لئے آج ہمیں قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ ہم ماضی میں لئے گئے قرضوں کا آڈٹ کرائیں گے کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی ۔ چونکہ آڈٹ کے نتیجے میں اِن کی کرپشن سامنے آئے گی اس لئے یہ پریشر ڈال کر NROلینا چاہتے ہیں لیکن یہ کان کھول کر سُن لیں کہ یہ جو مرضی کر لیں اور جتنا شور مچائیں ہم کسی بھی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا۔ احتساب ضرور ہوگا اور منی لانڈر پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔ جنابِ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اور بھی کئی باتیں کیں ہیں۔ اُنہوں نے پاور سیکٹر کے گردشی قرضہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2008 میں یہ قرضہ 230ارب روپے تھا جو کہ 2013میں 480ارب روپے ہو گیا اور ادا کر دیا گیا۔ اَب 2018میں یہ گردشی قرضہ 1200ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

جنابِ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں قرضوں کے جو اعداد و شمار بتائے ہیں یقیناًدرست ہونگے لیکن اُنہیں چاہیے تھا کہ وہ بتاتے کہ 50برس قبل (1970-71)میں پاکستان کی معیشت کا حجم کیا تھا۔ پاکستان کا سالانہ بجٹ اُ س وقت کروڑوں یا شاید چند ارب روپوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے اس وقت بحیثیت سیکنڈری سکول ٹیچر کل تنخواہ معہ الاؤنسز تین سو روپے سے کچھ اوپر ہوا کرتی تھی اور اسی رقم سے مہینہ بھر گھرانے سمیت گزارا کرنا ہوتا تھا۔اب سبزی لانی ہو تو اس سے زیادہ رقم خرچ ہو جاتی ہے۔خیر یہ ایک جملہِ معترضہ تھا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر قرضے بڑھے ہیں تو معیشت کا حجم بھی پھیلا ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔میں ملک پر واجب الادا قرضوں کی وکالت نہیں کر رہا صرف کہنا یہ چاہتا ہوں کہ قرضوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے پورے سیاق و سباق کو ،مختلف ادوار میں ملکی معیشت کی حقیقی صورت حال،ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل ،ملکی کرنسی کی وقعت،ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر،صنعتی اور زرعی شعبوں میں پیش رفت،توانائی کے منصوبوں اور مواصلات کے ذرائع کی ترقی اور تعمیر اور ترقیاتی اور غیر ترقیاتی کاموں پر اخراجات کی

تفصیل وغیرہ کے تمام امور کو سامنے رکھا جانا چاہیے۔ جنابِ وزیر اعظم وہی کچھ کہتے ہوں گے جو متعلقہ لوگ انہیں بتاتے ہیں۔پھر انہیں یہ بھی علم ہے اور چند روز قبل اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بیوروکریسی انہیں صحیح معلومات پیش کرنے میں پس و پیش سے کام لیتی ہے۔تو پھر انہیں خود ہی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ وہ جو اعداد و شمار سامنے لاتے ہیں ان میں کو ئی غلطی نہ ہو۔اگر ایسا نہ بھی ہو تو کیا جنابِ وزیر اعظم کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ابھی پچھے ماہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں یک لخت جو گیارہ روپے(تقریباً 10فیصد)کا ہوشربا اضافہ ہوا یا ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں جو کمی (تقریباً 10فیصد)ہوئی یہ ملکی تاریخ یا کم از کم پچھلے دو عشروں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں سب سے زیادہ کمی کی مثال ہے۔ کیا اس سے ملک کے واجب الادا قرضوں کی رقم یک لخت 10فیصد بڑھ نہیں گئی۔میں کوئی ماہر معاشیات نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہوتی ہے یا ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو روپے کی صورت میں ڈالر میں واجب الاداادائیگیوں میں بھی اُسی نسبت سے اضافہ ہو جاتا ہے۔

جہاں تک جناب عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم ماضی میں لیے گئے قرضوں کا آڈٹ کروائیں گے کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی اور اِس میں کتنی کرپشن ہوئی تو اس سے کس نے اُن کو روک رکھا ہے ۔اُن کے اِقتدار کے ستر دِن گزر چکے ہیں۔ اِس وقت تک مختلف شعبوں میں خواہ سرکاری رقوم یا قرضوں کا آڈت کرانا مطلوب ہو یاکرپشن کا کوئی معاملہ ہو واضح پیش رفت سامنے آنی چاہیے تھی۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ؟ سابقہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اگلے دِن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب میں وزیر اعظم تھا اُس دور کے ہر کام کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ وزراء مناظرہ کر لیں۔ حکومت کے پاس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جھوٹی حکومت کے وزراء صرف الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ ایل این جی سے مہنگی بجلی پیدا کرنے کے الزامات کو غلط ثابت نہ کیا تو جیل میں ڈالیں۔ ایل این جی کے ذریعے پاکستان کی تاریخ کی سستی ترین بجلی پیدا کی گئی۔ ایل این جی کے تمام معاہدوں کا بطورِ وزیر پٹرولیم میں ذاتی طور پر جواب دہ ہوں۔ پاکستان کے ایل این جی معاہدے دُنیا میں سب سے سستے ترین معاہدے ہیں۔ اگر پاکستان میں اس وقت ایل این جی نہ ہوتی تو بجلی بنانے کا خرچہ 2ارب ڈالر سے زیادہ ہوتا۔ ہمارے دورِ حکومت میں ملک کی تاریخ کی سستی ترین بجلی لگی۔ 3600میگاواٹ کے ایل این جی پاور پلانٹ لگائے گئے۔ کوئلے کے سستے ترین پلانٹ بھی لگائے گئے۔ چار پاور پلانٹس جو مشرف دور میں ڈیزل پر لگائے گئے اُنہیں بھی ایل این جی پر کنورٹ (تبدیل) کیا گیا۔ جس سے بچت ہوئی۔ فواد چوہدری کا مہنگی بجلی پیدا کرنے کا بیان جھوٹ کا پلندہ ہے۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے ۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی وزارت کے معاہدوں اور اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور کے کاموں کی ذمہ داری لینے کا جو چیلنجء دیا ہے، وزیر اعظم جناب عمرا ن خان کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے مخالفین بالخصوص مسلم لیگ ن کی حکومت کی بدعنوانیوں کو اگر کوئی ہیں تو سامنے لانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جناب وزیر اعظم بذاتِ خود اس طرح دھمکیاں دیں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ جناب والا آپ کا یہ کام نہیں۔ آپ کا کام بدعنوانیوں اور لوٹ مار کے ثبوت اکٹھے کرنا اور عدالتوں کے سامنے لانا ہے ۔عدالتوں کا کام ہے کہ وہ کسی کو چھوڑیں یا نہ چھوڑیں یا اُلٹا لٹکا دیں۔

جہاں تک وذرا ء کی بیان بازی میں الزامات کا تعلق ہے اس کی ایک دو تازہ مثالیں۔ جمعرات کو کابینہ کا اجلاس ہوا تو بجلی کی قیمت میں ایک روپے سینتیس پیسے(1.37) فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی۔ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر توانائی عمر ایوب اور وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کابینہ کے فیصلوں بالخصوص بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ۔ جناب عمر ایوب کا فرمان تھا کہ سابقہ حکومت نے بجلی کی ترسیل کے لیے نئی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنز نہیں بچھائیں جس سے بجلی مہنگی ہوئی۔ عمر ایوب سے کوئی پوچھے کہ چار یا پانچ سالوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبے مکمل کیے ہیں تو یہ تھوڑی کامیابی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کی حکومت خیبر پختونخواہ میں باوجود وسائل اور اختیار ہونے کے ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ مکمل نہیں کر سکی۔ ویسے جہاں تک ممکن ہوا سابقہ حکومت نے ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن بچھانے کی بھی پوری کوشش کی۔ نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ (مظفر آباد) سے قومی گرڈ تک بجلی نئی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے ہی پہنچائی جا رہی ہے ۔وزراء کی الزام تراشی کا ذکر چلا ہے تو اگلے دِن پی آئی ڈی بلڈنگ اسلام آباد میں آگ لگ گئی۔ خبر آئی کہ ریکارڈ جل گیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو ان کا فرمان تھا کہ آتش زدگی پچھلی حکومت کی بد انتظامی کا ساخسانہ ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کی کرپشن کا کوئی ثبوت ضائع نہیں ہوا۔اب اسے کیا کہا جائے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت 31مئی کو ختم ہو گئی تھی ۔ پانچ ماہ بعد لگنے والی آگ میں اُس کی نالائقی یا بدانتظامی کہاں سے آگئی۔


ای پیپر