’’دنیا‘‘ جرائم پیشہ لوگوں کی ۔۔۔؟
26 اکتوبر 2018 2018-10-26

مجھ پر خوف طاری تھا لیکن وہ پہلے سے بھی زیادہ خوش تھی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُس کا موڈ دروازے پر لگنے والی چار گولیوں کے بعد زیادہ خوش کن کیوں ہو گیا ۔۔۔ اس دوران اُس نے مجھے مخاطب کر کے کہا ۔۔۔ بدر یہ دیکھو کتنی اچھی بات کسی ادبی شخصیت نے لکھی ہے کہ رات دو بجے ایک نوجوان ’’پیزا‘‘ لینے گیا سیل مین نے بارش کے باعث بھیگے ہوئے نوجوان سے پوچھا ۔۔۔ بھیا کیا آپ شادی شدہ ہیں ۔۔۔ ؟ میاں ماں تو رات دو بجے بیٹے کو آندھی بارش میں ’’پیزا‘‘ لینے بھیجنے سے رہی شادی شدہ ہی ہوں جو بیوی کے کہنے پر اس آندھی طوفان میں رات دو بجے چل پڑا ۔۔۔ میری ان باتوں سے دوست بڑی دیر تک سمجھتے رہے کہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور شادی شدہ دوست کے حالات واقعات پر گفتگو کر کے انجوائے کرتا ہوں حالانکہ جو جو کام میں خود ’’بیوی‘‘ کے حکم پر کرتا تھا دوستوں میں بیٹھ کر اُن سب کو اُس حوالے سے چھیڑ خانی کر کے زِچ کرتا رہتا ۔۔۔ ہوں ۔۔۔؟! مزیدار تھا ۔۔۔ ایسے لطیفے چالاک عورتیں آجکل کے مردوں کو سناتی ہیں تا کہ ’’مرد‘‘ عورت کی انگلیوں پر ناچتا رہے ۔۔۔ (’’مرد تو پیدا ہی شاید اس کام یا ’’خدمت‘‘ کے لیے ہوا ہے‘‘ ۔۔۔ میں نے وضاحت کی ) ۔۔۔ ہمارے ایک دوست ہیں بھٹی صاحب! اُن کی بیگم اگر اُنھیں ’’بھٹی صاحب‘‘ کہہ کر ایک بار بلائے تو بیچارا ’’بھٹی‘‘ نو دفعہ آیا جی ۔۔۔ آیا جی ۔۔۔ آیا جی ۔۔۔ کرتا ہے آج بھی اس معاشرے میں فرمانبردار ’’مرد‘‘ وافر مقدار میں موجود ہیں میری اس بات پر اُس نے کوئی خاص توجہ نہ دی اور جلدی سے اُٹھ کر اپنا فون پکڑ لائی ۔۔۔ ایکدم زور زور سے بولنے کی آوازیں سنائی دیں وہ تقریباً چیخ چیخ کر کسی کو ڈرا رہی تھی ۔۔۔ ’’مجھے تو لگتا ہے یہ سب تیری ہی کارستانی ہے ورنہ کسی میں جرأت ہے کہ وہ خان کی بیٹی کے مین گیٹ پر چار گولیاں برسائے اور پھر بھاگ نکلے‘‘ ۔۔۔ اُس نے فون بند کر دیا اور زور زور سے ہنسنے لگی ۔

’’اب آئے گا مزا‘‘ ۔۔۔ اُس نے قہقہہ لگاتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔ (میں نے لومڑی قریب سے آج تک نہیں دیکھی ۔۔۔ لگتا ہے ایسی ہی ہو گی ۔۔۔ مجھے خیال آیا) ۔۔۔ اصل میں بدر جب سے میں نے یہ بیکار سی فلم ’’عید اُدھوری‘‘ بنائی ہے میری کچھ لوگوں سے ناچاہتے ہوئے بھی دشمنی سی شروع ہو گئی ہے یہ پروین اُن میں سب سے نمایاں ہے اور اس کا علاج صرف اور صرف میرے پاس ہے جن تین بیٹوں پر یہ ناز کرتی ہے میں اُن کی چمڑی اُدھیڑ دوں گا ۔۔۔ دس دس ہزار دیتی جاؤں گی اور تھانے میں ایک ایک ’’پانجا‘‘ لگواتی جاؤں گی میرے دوست حوالدار قاسم کا لگا ہوا ایک ’’پانجا‘‘ بندے کو ایک مہینہ اُٹھنے نہیں دیتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ ’’اور اگر حوالدار قاسم نے کبھی اُس ’’تمہاری دوست‘‘ سے دس ہزار لے کر اپنی توپوں کا منہ تمہاری طرف کر دیا تو پھر ۔۔۔ ؟؟ (اُس نے سنی ان سنی کر دی) ۔۔۔ تو کیا آپ نے کوئی نئی فلم بنائی تھی ۔۔۔؟ بتا تو رہی ہوں یہ کوئی دو سال پہلے میں نے اس نئے پروجیکٹ پر کام شروع کیا تھا اور اس میں سارا کام کراچی میں ہونا تھا یہ کوئی چار پانچ کروڑ کا منصوبہ تھا یہ فقرہ بولتے ہوئے اُس کی ہنسی نکل گئی ۔۔۔ اس دوران دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی اور دو گاڑیاں رُک کر اِدھر اُدھر مڑنے لگی ۔۔۔ پولیس کا سائرن بھی بج رہا تھا ۔۔۔ یہ سامنے FIA والے کی جو بیوہ رہتی ہے وہ جینے نہیں دیتی ۔۔۔ محلے میں چڑی اور کبوتر بھی الجھ پڑیں تو وہ 15 پر کال چلا دیتی ہے جب سے ’’ڈولفن پولیس‘‘ آئی ہے یہ ہر دوسرے دن محلے میں تماشہ لگائے رکھتی ہے اور کسی نہ کسی بہانے اُنھیں فون کر کے بلوا لیتی ہے ۔۔۔ حالانکہ ڈولفن والے مجھے لگتا ہے یونہی سڑکوں پر پھر کر سرکاری پیٹرول ۔۔۔ ضائع کرتے رہتے ہیں ویسے تمہیں پتہ ہے کہ ڈولفن کے لفظی معنی کیا ہیں ۔۔۔ اوہ اوہ ۔۔۔ میں سمجھی Doll معنی ’’گڑیا‘‘ Fin معنی ’’مچھلی کے پر‘‘ ہوئی نہ بات کسی نازک مخلوق کی ۔۔۔؟ بدر تم اوپر جا کے بیڈ روم میں آرام سے بیٹھ جاؤ اور جب تک میں نہ کہوں نیچے مت آنا ۔۔۔ اس دوران سات آٹھ پولیس والے ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گئے ۔۔۔ اس دوران فیمی کی رونے دھونے کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔ پولیس والے اُسے چپ کرا رہے تھے اور وہ ایسے شو کر رہی تھی جیسے اُس کی جان کو بہت زیادہ خطرہ ہے اور پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ۔۔۔ میں نے کھلی کھڑکی سے کان لگا کر سنا ۔۔۔ (حیرت سے میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا مجھے سردی میں گرمی محسوس ہونے لگی) ۔۔۔ وہ پولیس والے کو جو شاید DSP لیول کا آفسر تھا اُسے بتا رہی تھی کہ ’’یہ گولی جو دیوار پر لگی وہ میری ماں سے صرف ایک فٹ کے فاصلے پر لگی ہے اس جگہ میری والدہ اُس وقت کرسی پر بیٹھی قرآنِ پاک کی تلاوت کر رہی تھی اگر گولی میری ماں کو لگ جاتی تو میں کسی کو زندہ نہ چھوڑتی‘‘ ۔

اس دوران جب شور شرابا کم ہوا تو میں بھی نیچے آ گیا اُس کے چہرے پر ہشاشت بشاشت دکھائی دے رہی تھی جیسے اُس نے کوئی معرکہ مار لیا ہو ۔۔۔ آؤ کچھ کھاتے ہیں ۔۔۔ اُس نے مجھے اشارے سے اندر جاتے ہوئے کہا ۔۔۔ ’’چوہدری صاحب کل ایک بمباسٹک قسم کا کالم تو لکھیں آج میرے گھر کچھ جرائم پیشہ لوگوں نے دن دیہاڑے کلاشن کوف سے فائرنگ کی میں اور میری ماں خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں آپ کا شہر میں اتنا بڑا صحافی بن کے پھرنے کا کیا فائدہ جو ہم مظلوموں کی آواز ہی عوام تک نہ پہنچی پولیس والے اُلٹا مجھے ڈرا دھمکا کر چلے گئے ہیں اور مجھے بھی اُنھوں نے تھانے پہنچنے کا حکم دیا ہے بھلا ایک عورت جس کو دن دیہاڑے قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہو اُس کو تھانے بلانے کی کیا ضرورت ہے؟ ۔۔۔ لیکن اس شہر کے رسم و رواج مختلف ہیں اور پولیس اُس مظلوم کی مدد کی بجائے اُلٹا اُسے ڈراتی دھمکاتی ہے ۔۔۔ میرے جیسی شریف اور سادہ عورت کی آپ نے مدد نہ کی تو میں اپنی آواز سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پہنچا دوں گی ۔۔۔؟! اس طرح کے فون فیمی نے کھانا کھاتے ہوئے کئی لوگوں کو کر ڈالے اور اس دوران وہ پوری طرح مطمئن دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔ پھر اچانک فون کی گھنٹی بجی تو وہ پریشان ہو گئی اُس نے بتایا کہ میں آج تھانے نہیں آ سکتی ایک تو گھر میں کوئی مرد نہیں ہے دوسرا میں سمجھتی ہوں کہ میرا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ میری جان کو شدید خطرہ ہے ۔۔۔؟ پہلا موقع تھا کہ میں نے فیمی کو تھوڑا پریشان دیکھا ۔۔۔ وہ بار بار نہیں نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ سب پروین کی جعل سازی ہے ورنہ اگر میں نے اُس کے اور ڈیفنس کے بڑے پراپرٹی ڈیلر کریم داد کے اتنے زیادہ پیسے دینے ہوتے تو وہ تھانے میں میرے خلاف کوئی رپٹ وغیرہ درج کیوں نہ کرواتے چونکہ اب وہ اپنے کیے پر پریشان ہیں اس لیے وہ اُلٹا مجھے پر الزام تراشی کر رہے ہیں فون بند ہوتے ہی اُس نے میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے تیز تیز اور نہایت سنجیدہ انداز میں کہا ۔۔۔ ’’بدر تمہیں پچیس تیس لاکھ کا انتظام فوری طور پر کرنا ہو گا ۔۔۔ ویسے تو ایسے موقع تم میرے بہت کم ہی کام آتے ہو لیکن یہ ایک ایمرجنسی ہے اور یہ پروین اور کریم داد پراپرٹی والا اپنے تعلقات اور پیسہ لگا کر کسی چکر میں مجھے نہ پھنسا دیں اس وقت تمہیں میرے ساتھ ہر حال میں کھڑا ہونا ہو گا‘‘ ۔۔۔ لیکن فیمی وہ جو پیسے ایک کروڑ روپیہ تمہاری جیپ میں ابھی تک پڑا ہے وہ بھلا کس مرض کی دوا ہے وہ چیخنے چلانے لگی ’’تو تم کس مرض کی دوا ہو‘‘ ۔۔۔ بے شرم ۔۔۔ بے ہودہ آدمی ۔۔۔؟!


ای پیپر