فوٹوبشکریہ فیس بک

یورپی عدالت نے توہین رسالت پر سزا کو درست قرار دیدیا
26 اکتوبر 2018 (14:37) 2018-10-26

لندن: عالم اسلام کیلئے بڑی خبر، یورپی عدالت نے توہین رسالت پر سزا کو درست قرار دیدیا۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے ججز نے ریمارکس دیئے کہ کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی ’آزادیِ اظہار‘ نہیں ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آزاری کی اجازت نہیں دیں گے۔ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی فساد کا باعث ہے۔ عدالت کا خاتون کے خلاف توہین رسالت کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم۔

واضح رہے کہ آسٹرین خاتون نے 2008 اور 2009 میں توہین آمیز اور نفرت انگیز سیمینار کرائے۔ مقامی مسلمانوں کے احتجاج پر آسٹرین حکومت نے خاتون کو 548 ڈالر جرمانہ کردیا۔ خاتون جرمانے کے خلاف عدالت پہنچ گئی، لیکن عدالت نے اس کا موقف مسترد کردیا۔

دوسری جانب نیدر لینڈز کے گستاخ سیاست دان گیرٹ وائلڈر شر انگیزی سے باز نہ آئے اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخ خانہ ٹویٹ کردیا۔ پاکستان نے ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا اور گیرٹ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔


ای پیپر