” کشمیر کیلئے مودی کے دو روز “
26 اکتوبر 2018 2018-10-26

کچھ دن پہلے بھارتی وزیر اعظم مُودی نے مسئلہ کشمیر پر مگر در پردہ پاکستان کو سنوانے کیلئے بیان دیا ہے ، کہ میں اپنے ” دُہرے زور “ اور ” دُہری طاقت “ سے مخالفین سے لڑوں گا،

اب شاید اُن کے ” دُہرے زور “ کو صوبہ پنجاب والے ، اور اُن سے بھی زیادہ جنوبی پنجاب والے بخوبی سُن کر اور سمجھ کر گرمی کھانے اور غصہ کرنے کی بجائے خوب انجوائے کر رہے ہوں گے۔

ان الفاظ کو اپنے برادرم کالم نویس اور مشہور میزبان آفتاب اقبال نے بڑی ہُنر مندی سے چند بار ، جب وہ نوائے وقت میں ہمارے ساتھی تھے، بڑی خوبصورتی سے اپنے مخالف کالم نویس کے بارے میں استعمال کیئے تھے، کہ میری باتوں سے اُن کے دِماغ اور اعضا کو کیوں تکلیف ہے،

اَب یوں لگتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے بھی اپنے اِن دونوں جسمانی اعضا کی بات کی ہے ، کیونکہ شاید اِسی لئے پہلے مودی منحوس نے یوگا کرتے ہوئے اپنی تصویر انٹرنیٹ پر بھی لوڈ کر دی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی پتھر پر ٹیک لگا کر یہ تندرستی پر توانائی ہمیں تلوہی سے ملتی ہے اور یہ بتانے کی بھونڈی کوشش کی ہے کہ اُنہیں بھی توانائی تلو ہی سے ملتی ہے، مگر جب اُوپر والا کِسی رُستم زماں کو بھی 104 بخار چڑھا دیتا ہے تو پھر توانائیاں غائب ، اور خدا یاد آجاتا ہے، یقین نہ آئے، مودی اسرائیل کے وزیر اعظم شمعون کا حال دیکھ کر عبرت پکڑے، یا تاریخ گزشتہ، میں فرعون ، ہامان ، اور شداد کی عبرت ناک مُوت سے کچھ عبرت حاصل کرے، کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے اور خدا کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ رسی بعض اوقات دراز کر دیتا ہے ، مگر بالآخر اُسے نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ بلاشبہ غرور بھی مودی کا ” کافر اعظم “ ہے، اور ابو جہل ، ابو لہب بھی دونوں جسمانی طاقتوں سے مسلمانوں سے لڑا تھا۔

ادھر پاکستان کا تو یہ حال ہے ، کہ مودی نے پاکستانی خریدے ہوئے ہیں، قوم کو صرف وزیر اعظم عمران خان کی خود کشی والی بات تو یاد ہے ، مگر وہ جنرل مشرف کی یہ بات کیوں بھول گئے ہیں، جو اُنہوں نے 2005 ءمیں کہی تھی، کہ میں پاکستانی کو خود کشی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، میں پاکستان کو قحط زدہ ملک نہیں دیکھنا چاہتا، میں پاکستان کو صحرا میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا، لہٰذا کالا باغ ڈیم ہر صورت اور ہر قیمت پر بنے گا۔

اُن کا یہ ارادہ دیکھ کر اور یہ بیان پڑھ کر الطاف حسین نے لندن سے مشرف سے بات کی ، تو انہوں نے کہا کہ میں تو قوم کو طفل تسلی دے رہا تھا، کالا باغ ڈیم تو نہیں بن رہا، اُس کی اِس یقین دہانی کے بعد حکمران کی حلیف جماعت کے سربراہ کا میڈیا پر زور شور سے رات دن بیان چلا کہ صدر نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ کالا باغ ڈیم کسی قیمت پر نہیں بنے گا، میری طرف سے سندھ کے عوام کو یہ خوشبخری ہے لہٰذا اِس خوشی کیوجہ سے مٹھائی تقسیم کی جائے، اور صدر نے میڈیا پر تقریر کر کے کالا باغ ڈیم کی بجائے بھاشا ڈیم بنانے کا اعلان کر دیا۔ اور کہا کہ کالا باغ 2016 ءمیں بنائیں گے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، جس میں پاکستانی سیاستدانوں کے علاوہ بیرون ملک سے آئی ایم ایف وغیرہ جیسے اداروں کے بھی ڈیم مخالف بیان آتے رہے ہیں، اس قدر اہم مسئلے کا حل میرٹ پر کرنے کے بجائے ، مودی کے زور کے آگے ساری شخصیات گھٹنے ٹیک دیتی ہیں، اور پاکستان میں ڈیم بنانے کے فیصلے مودی کے ہاتھ میں ہیں۔ مودی ایسے ہی نہیں بڑے اعتماد کے ساتھ ، زور اور طاقت کی بات کرتا مگر اُس کو تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہئے، یا کسی قوم کی بھی تاریخ کو دیکھیں ، حاکم کے کردار کی چھاپ آپ کو رعایا کے کردار میں منِ حیث القوم ضرور ملے گی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دور تھا، تو صحابی پیدا ہوتے تھے، خلفاءکا دور آیا، تو ملک میں ذکوة لینے والا کوئی نہ رہا۔ یزید کا دور آیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، ہلاکو اور چنگیز خان کا دور دیکھیں تو اپنی ہی قوم میں ہلاکتیں ہی ہلاکتیں نظر آئی ہیں، غرضیکہ کے کِسی بھی مُلک کے سربراہ کو دیکھیں اور اُس کے کردار کو رعایا پر منسلک کریں تو صحیح صورتحال نظر آجاتی ہے۔

اب اِس ” محب الوطنی“ کا کیا جواب ہے، کہ دُشمن ملک سے جو کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر دس دس کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے، اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے، اُن کے گھروں کو بموں سے جلا دیتا ہے، اور آگ کی وجہ سے گھر سے نکلنے والوں کو گولیوں کی بوچھاڑ سے لہولہان کر دیتا ہے مگر دنیا بھر کے انسانوں کا ضمیر کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کو دیکھ کر آخر کیوں نہیں جاگتا؟

اِس کا جواب قارئین آپ سوچ کر دیں، میرے ذہن میں جو اِس کا جواب ہے، میں آپ کو بتانے سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں، کہ پاکستان اِسی ظالم اور دشمن ملک سے ایک ارب روپے کا صِرف ٹماٹر منگواتا ہے۔

قارئین، اُمتِ مسلمہ میں کشمیر کے علاوہ فلسطین اور بیت المقدس دو ایسے مسائل ہیں کہ جو زیادہ تر خود مسلمانوں ہی کی نااہلی اور متضاد حکمتِ عملی کی وجہ سے ابھی تک حل طلب ہیں۔ آئر لینڈ مسلمان ملک نہیں ہے مگر اُس نے یہودیوں کی مصنوعات پر پابندی عاید کر دی ہے کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں آباد کاری کر رہا ہے اس حوالے سے پرزور مزاحمت کرنے، اور دلیری سے اسرائیل فوجیوں کا مقابلہ کرنے پر آئر لینڈ نے فلسطینیوں کی تعریف کی، پابندی کے اِس قانون پر پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور حزب مخالف دونوں نے اتفاق کیا، فلسطینی اتھارٹی نے اِس کا پر زور خیر مقدم کیا، جبکہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے یورپی یونین کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرنیکے احکامات جاری کر دیے، جبکہ مسلمانوں کا کردار دیکھیں، کئی مسلمان ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیئے ہوئے ہیں،

اب کشمیر کے معاملے اگر دنیا کے باقی ممالک بے حس ہیں، تو سعودیہ نے قاتلِ کشمیر مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ دے مارا، دُوبئی کے حکمران نے تاریخ میں پہلی دفعہ کافروں کو اپنے ملک میں مندر بنا کر دینے کے علاوہ اُسے ایوارڈ بھی دیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں پہنچانے اور استصواب رائے کی قرار دادوں کی دھجیاں اڑانے والا کِس منہ سے سلامتی کونسل سے کامیاب لوٹا تھا، اور اہم ہمالیہ سے اُونچی دوستی کے دعویدار سے ویٹو بھی نہ کرا سکے، حتیٰ کہ پاکستان کو خاکم بہ دہن دنیا کے نقشے سے غائب کرانے والا ایک طرف تو بھارت اور دوسری طرف ہمارا اتحادی ہے،

قارئین، غیرت ، اَنا ، خودی اور احساس مسلمانی ، جب کشمیر میں تین ، پی ایچ ، ڈی ڈاکٹر تک شہید کرنے پر بھی خاموش رہے، تو مودی کو تو دو نہیں صرف ایک ہی زور لگانا پڑیگا، ہم میں تو اتنی بھی ہمت نہیں کہ ہم بار بار اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور کچھ نہیں تو صرف مثال ملک ہی تو دنیا کے دورے پر بھیجیں، اگر سابقہ حکومتوں نے یہ کام نہیں کیا، تو تحریک انصاف کی حکومت ، کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لئے یہ ہمت ضرور کرے، اور کشمیر کمیٹی نئی بنائے کیونکہ کشمیری تو بے چارے پاکستان کے لئے اپنی جانیں قربان کرا رہے ہیں۔


ای پیپر